منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

اجالوں کو ڈھونڈو سحر کو پکارو اندھیروں میں رونے س…


اجالوں کو ڈھونڈو سحر کو پکارو
اندھیروں میں رونے سے کیا فائدہ ہے
….
مہر لال سونی ضیاء فتح آبادی کا یوم وفات
August 19, 1986

ضیاء فتح آبادی (پیدائش: 9 فروری 1913ء وفات: 19 اگست 1986ء) اردو شاعر تھے۔

ضیاء فتح آبادی کا اصل نام مہر لال سونی تھا۔ وہ کپورتھلہ پنجاب میں اپنے ماموں شنکر داس پوری کے گھر پیدا ہوئے۔ وہ ایک اردو نظم نگار و غزل گو شاعر تھے۔ انکے والد منشی رام سونی فتح آباد ضلع ترن تارن پنجاب کے رہنے والے تھے اور پیشے کے اعتبار سے ایک مدنی مہندس تھے۔ ضیاء نے اپنی ابتدائی تعلیم جےپور راجستھان کے مہاراجہ ہائی سکول میں حاصل کی اور اسکے بعد 1931 سے لیکر 1935 تک لاہور کے فورمین کرسچن کالج میں پڑھتے ہوئے بی اے (آنرز) (فارسی) اور ایم اے (انگریزی) کی اسناد حاصل کیں
ضیاء کی اردو شاعری کا سفر انکی والدہ کی نگرانی میں مولوی اصغر علی حیاء جےپوری کی مدد سے 1925 میں شروع ہو گیا تھا اور انکا نام 1929 میں ہی ابھرنے لگا تھا۔ انکو ضیاء تخلص غلام قادر امرتسری نے عطا کیا تھا۔ 1930 میں ضیاء سیماب اکبرآبادی کے شاگرد ہوگئے تھے

ضیاء فتح آبادی کا انتقال 19 اگست 1986 کو ایک طویل علالت سہنے کے بعد دہلی کے سر گنگا رام ہسپتال میں ہوا
…
یوں حسرتوں کی گرد میں تھا دل اٹا ہوا
جیسے درخت سے کوئی پتا گرا ہرا
…..
محبت جذبہء ایثار بھی ہے
جنوں کے ہاتھ میں تلوار بھی ہے
….
فرشتے امتحان بندگی میں ہم سے کم نکلے
مگر اک جرم کی پاداش میں جنت سے ہم نکلے

غم‌ دنیا و دیں ان کو نہ فکر نیک و بد ان کو
محبت کرنے والے بے نیاز بیش و کم نکلے

غرض کعبہ سے تھی جن کو نہ تھا مطلب کلیسا سے
حد دیر و حرم سے بھی وہ آگے دو قدم نکلے

سحر کی منزل روشن پہ جا پہنچے وہ دیوانے
شب تاریک میں جو نور کا لے کر علم نکلے

مہ و خورشید بن کر آسمانوں پر ہوئے روشن
دو آنسو وہ مری آنکھوں سے جو شام الم نکلے

سکوت شب میں ہم نے ایک رنگیں خواب دیکھا تھا
مسرت جاوداں ہوگی اگر تعبیر غم نکلے

نہ ملتی ہوں شراب زندگی کی تلخیاں جن میں
سنا ہے وہ ضیاؔ کے دل سے ایسے شعر کم نکلے
….
گو آج اندھیرا ہے کل ہوگا چراغاں بھی
تخریب میں شامل ہے تعمیر کا ساماں بھی

مظہر ترے جلووں کے مامن مری وحشت کے
کہسار و گلستاں بھی صحرا و بیاباں بھی

دم توڑتی موجیں کیا ساحل کا پتہ دیں گی
ٹھہری ہوئی کشتی ہے خاموش ہے طوفاں بھی

مجبور غم دنیا دل سے تو کوئی پوچھے
احساس کی رگ میں ہے خار غم جاناں بھی

بغض و حسد و نفرت ناکامی و محرومی
انسانوں کی بستی میں کیا ہے کوئی انساں بھی

دیوانۂ الفت کو در سے ترے ملتا ہے
ہر زخم کا مرہم بھی ہر درد کا درماں بھی

لیتی ہے جب انگڑائی بیدار کرن کوئی
ہوتا ہے ضیاؔ خود ہی رقصاں بھی غزل خواں بھی