آیا بھی کوئی دل میں گیا بھی کوئی دل سے آنا نظر آی…
آیا بھی کوئی دل میں گیا بھی کوئی دل سے
آنا نظر آیا نہ یہ جانا نظر آیا
…
ناظم، نواب یوسف علی خاں کا یوم، پیدائش
January 04, 1816
نواب محمد یوسف علی خاں نام، ناظم تخلص۔ ۴؍فروری۱۸۱۶ء کو رام پور میں پیدا ہوئے۔ نواب محمد سعید خاں والئ رام پور کے فرزند تھے۔ اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہتے تھے۔ شروع میں مومن سے اصلاح لی۔ ان کے انتقال کے بعد غالب کو کلام دکھانے لگے۔ منطق اور فلسفے کے ماہر تھے۔ مولانا فضل حق خیرآبادی، مرزا غالب،میر حسین تسکین مظفر علی اسیر اور دوسرے علما اور شعرا ن کے دامن دولت سے وابستہ تھے۔ یکم اپریل۱۸۵۵ء کو رام پور میں جلوس ریاست نکلا۔ ۲۰؍ اپریل ۱۸۶۵ء کو رام پور میں بعارضہ سرطان انتقال کرگئے۔ صاحب دیوان تھے۔
…
اس بزم میں جو کچھ نظر آیا نظر آیا
اب کون بتائے کہ ہمیں کیا نظر آیا
….
اے ہجر وقت ٹل نہیں سکتا ہے موت کا
لیکن یہ دیکھنا ہے کہ مٹی کہاں کی ہے
…..
شب فراق کچھ ایسا خیال یار رہا
کہ رات بھر دل غم دیدہ بے قرار رہا
…
عکس سے اپنے وہ یوں کہتے ہیں آئینہ میں
آپ اچھے ہیں مگر آپ سے اچھا میں ہوں
….
مجھے وہ یاد کرتے ہیں یہ کہہ کر
خدا بخشے نہایت باوفا تھا
….
کبھی یہ فکر کہ وہ یاد کیوں کریں گے ہمیں
کبھی خیال کہ خط کا جواب آئے گا
….
کچھ خبر ہے تجھے او چین سے سونے والے
رات بھر کون تری یاد میں بیدار رہا
….
کہے گی حشر کے دن اس کی رحمت بے حد
کہ بے گناہ سے اچھا گناہگار رہا
….
کیا رشک ہے کہ ایک کا ہے ایک مدعی
تم دل میں ہو تو درد ہمارے جگر میں ہے
….
ہاں ہاں تمہارے حسن کی کوئی خطا نہیں
میں حسن اتفاق سے دیوانہ ہو گیا