آج ممتاز شاعر اور مزاح نگار ابنِ انشاء کا یومِ وفا…
آج ممتاز شاعر اور مزاح نگار ابنِ انشاء کا یومِ وفات ہے۔
11؍جنوری1978ء
نام شیر محمد اور تخلص انشا تھا۔15؍جون 1927ء کو ضلع جالندھر میں ایک کاشت کار گھرانے میں پیدا ہوئے۔1946ء میں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کیا۔1947ء میں مہاجرین کے ساتھ پاکستان آگئے۔1953ء میں ایم اے(اردو) اردو کالج، کراچی سے کیا۔ابن انشا ایک بلند پایہ کالم نگار، مصنف ،مترجم، مزاح نگار اور شاعر تھے۔ ہندی ادب کا انھوں نے گہرا مطالعہ کیا تھا۔1965ء میں روزنامہ’انجام‘ میں ’’باتیں انشا جی‘‘ کے عنوان سے لکھتے رہے۔مطالعاتی مواد کے امور میں ابن انشا پاکستان میں یونیسکو کے نمائندے تھے۔سفرناموں، ترجموں اور شاعری پر مبنی تصنیفات اور تالیفات کا ایک وسیع ذخیرہ ابن انشا نے ہمارے ادب میں چھوڑا ہے۔11؍جنوری1978ء کو ابن انشالندن میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں: ’چاند نگر‘،’اس بستی کے اک کوچے میں‘(شعری مجموعے)، ’بلو کا بستہ‘(بچوں کی نظمیں)، ’دنیا گول ہے‘، ’آوارہ گرد کی ڈائری‘، ’اردو کی آخری کتاب‘(مزاح)، ’چلتے ہو تو چین کو چلیے‘، ’ابن بطوطہ کے تعاقب میں‘(سفرنامے)، ’سحر ہونے تک‘(ترجمہ روسی ناول)، ’انشا جی کے خطوط‘، ’نگری نگری پھرا مسافر‘۔
۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل درد میں گھلتا رہے ، یہ کس کو گوارا ہے
ہم کو تو مگر یارو‘ یہ درد ہی پیارا ہے
امید کا ہر لمحہ اب وصل کا لمحہ ہے
جب دُور کنارا ہو ، ہر موج کنارا ہے
اس زلف نے اپنے کو کیا کیا نہیں اُلجھایا
جس زلف کو خود ہم نے سو بار سنوارا ہے
وہ رات گئی انشاؔ ، وہ بات گئی انشاؔ
اب کس لئے جیتے ہو‘ اب کس کا سہارا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل کا تھا چاک مگر پہنچایا ، تا بہ گریباں انشاؔ نے
دشت میں جا اِک شہر بسایا بے سرو ساماں انشاؔ نے
قیس کی سنت نجدِ وفا میں پھر اس شخص نے زندہ کی
ہم کو بھی پہلے یقیں نہیں آیا انشاؔ نے ہاں انشاؔ نے
پھر کوئی یاد پرانی جاگی ، پھر کسی درد نے چٹکی لی
پھر ہمیں دیوانے نے بلایا چلتے ہیں یاراں انشاؔ نے
ایک سے ایک انوکھا تیکھا دُنیا میں تو غم ہزاروں تھے
کیوں تجھے تنہا جی میں بسایا اے غم جاں انشاؔ نے
دل کے سنبھلنے کی کوئی صورت لازم ہے ‘ یہاں کچھ بھی نہیں
اپنے کو جب سے یہ روگ لگایا کر لیا حیراں انشاؔ نے
اب اسے دنیا وحشی و رُسوا خوار و پریشاں کچھ بھی کہے
عشق کیا اور کر کے نبھایا عشق کے شایاں انشاؔ نے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل کس کے تصور میں جانے راتوں کو پریشاں ہوتا ہے
یہ حسن طلب کی بات نہیں ہوتا ہے مری جان ہوتا ہے
ہم تیری سکھائی منطق سے اپنے کو تو سمجھا لیتے ہیں
اِک خار کھٹکتا رہتا ہے سینے میں، جو پنہاں ہوتا ہے
پھر ان کی گلی میں پہنچے گا‘ پھر سہو کا سجدہ کر لے گا
اِس دل پہ بھروسہ کون کرے، ہر روز مسلماں ہوتا ہے
وہ درد کہ اس نے چھین لیا، وہ درد کہ اس کی بخشش تھا
تنہائی کی راتوں میں انشاؔ اب بھی مرا مہماں ہوتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل سی چیز کے گاہک ہونگے دو یا ایک ہزار کے بیچ
اِنشاؔ جی کیا مال لیے بیٹھے ہو تم بازار کے بیچ
پینا پلانا عین گناہ ہے، جی کا لگانا عین ہوس
آپ کی باتیں سب سچی ہیں لیکن بھری بہار کے بیچ
اے سخیو اے خوش نظرو یک گونہ کرم خیرات کرو
نعرہ زناں کچھ لوگ پھریں ہیں صبح سے شہر نگار کے بیچ
خار و خس و خاشاک تو جانیں، ایک تجھی کو خبر نہ ملے
اے گل خوبی ہم تو عبث بدنام ہوئے گلزار کے بیچ
منت قاصد کون اُٹھائے شکوہ درباں کون کرے
نامۂ شوق غزل کی صورت چھپنے کو دو اخبار کے بیچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم جنگل کے جوگی ہم کو ایک جگہ آرام کہاں
آج یہاں کل اور نگر میں صبح کہاں اور شام کہاں
ہم سے بھی پیت کی بات کرو کچھ، ہم سے بھی لوگو پیار کرو
تم تو پشیماں ہو بھی سکو گے ہم کو یہاں پہ دوام کہاں
سانجھ سمے کچھ تارے نکلے پل بھر چمکے ڈوب گئے
انبرا انبرا ڈھونڈ رہا ہے اب انہیں ماہِ تمام کہاں
دل پہ جو بیتے سہہ لیتے ہیں اپنی زباں میں کہ لیتے ہیں
انشاؔجی ہم لوگ کہاں اور میرؔ کا رنگِ کلام کہاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم رات بہت روئے بہت آہ و فغاں کی
دل درد سے بوجھل ہو تو پھر نیند کہاں کی
سر زانوں پہ رکھے کیا سوچ رہی ہو
کچھ بات سمجھتی ہو محبت زدگاں کی
تم میری طرف دیکھ کے چپ سی ہو گئیں تھیں
وہ ساعت خوش وقت نشاط گزراں کی
اِک دن یہ سمجھتے تھے کہ پایانِ تمنا
اک رات ہے مہتاب کے ایامِ جواں کی
اب اور ہی اوقات ہے اے جان تمنا
ہم نالۂ کشاں‘ بے گنہاں‘ غم زدگاں کی
اِس گھر کی کھلی چھت پہ چمکتے ہوئے تارو
کہتے ہو کبھی بات وہاں جا کے یہاں کی؟
اللہ کرے میرؔ کا جنت میں مکاں ہو
مرحوم نے ہر بات ہماری ہی بیاں کی
پڑھتے ہیں شب و روز اسی شخص کی غزلیں
غزلیں کہ حکایات ہیں ہم دل زدگاں کی
’’ق‘‘
انشاؔ سے ملو اس سے نہ روکیں گے؟ ولیکن
اس سے یہ ملاقات نکالی ہے کہاں کی؟
مشہور ہے ہر بزم میں اِسی شخص کا سودا
باتیں ہیں بہت شہر میں بدنام میاں کی
اے دوستو اے دوستو اے درد نصیبو!
ہم جائیں کسی سمت کسی چوک پہ ٹھہریں
کہیو نہ کوئی بات کسی سود و زیاں کی
اِنشاؔ کی غزل سن لو پہ رنجور نہ ہونا
دیوانہ ہے دیوانے نے اِک بات بیاں کی
ہوتا ہے یہی عشق میں ہنجار سبھی کا
باتیں یہی دیکھی ہیں محبت زدگاں کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم ان سے اگر مل بیٹھتے ہیں‘ کیا دوش ہمارا ہوتا ہے
کچھ اپنی جسارت ہوتی ہے، کچھ اُن کا اشارا ہوتا ہے
کٹنے لگیں راتیں آنکھوں میں‘ دیکھا نہیں پلکوں پر اکثر؟
یا شامِ غریباں کا جگنو، یا صبح کا تارا ہوتا ہے
ہم دل کو لیے پر دیس پھرے، اس جنس کے گاہک نہ مل سکے
اے بنجارو ہم لوگ چلے، ہم کو تو خسارا ہوتا ہے
دفتر سے اُٹھے‘ کیفے میں گئے، کچھ شعر کہے‘ کچھ کافی پی
پوچھو جو معاش کا انشاؔ جی یوں اپنا گزارا ہوتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم گھوم چکے بستی بَن میں
اک آس کی پھانس لیے من میں
کوئی ساجن ہو، کوئی پیارا ہو
کوئی دیپک ہو، کوئی تارا ہو
جب جیون رات اندھیری ہو
اک بار کہو تم میری ہو
جب ساون میں بادل چھائے ہوں
جب پھاگن پھول کھلائے ہوں
جب چندا رُوپ لٹاتا ہو
جب سورج دُھوپ نہاتا ہو
یا شام نے بستی گھیری ہو
اِک بار کہو تم میری ہو
ہاں دل کا دامن پھیلا ہے
کیوں گوری کا دِل میلا ہے
ہم کب تک پیت کے دھوکے میں
تم کب تک دور جھروکے میں
کب دید سے دل کو سیری ہو
اِک بار کہو تم میری ہو
کیا جھگرا سود خسارے کا
یہ کاج نہیں بنجارے کا
سب سونا رُوپا لے جائے
سب دُنیا، دُنیا لے جائے
تم ایک مجھے بہتیری ہو
اِک بار کہو تم میری ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِنشاؔ جی بہت دن بیت چکے
تم تنہا تھے، تم تنہا ہو
یہ جوگ بجوگ تو ٹھیک نہیں
یہ روگ کسی کا اچھا ہو؟
کبھی پورب میں پچھم میں
تم پُروا ہو تم پچھوا ہو؟
جو نگری نگری بھٹکائے
ایسا بھی نہ من میں کانٹا ہو
کیا اور سبھی چونچال یہاں
کیا ایک تمہی یہاں دُکھیا ہو
کیا ایک تمہی پر دُھوپ کڑی
جب سب پر سکھ کا سایا ہو
تم کس جنگل کا پھول میاں
تم کس بگیا کا پھول میاں
کیوں شہر تجا، کیوں رُسوا ہو؟
کیوں وحشی ہو، کیوں رُسوا ہو؟
ہم جب دیکھیں بہروپ نیا
ہم کیا جانیں تم کیا کیا ہو؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انشاؔء جی اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیامطلب، جوگی کا نگر میں ٹھکانہ کیا
اس دل کے دریدہ دامن کو‘ دیکھو تو سہی‘ سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوئے، اس جھولی کا پھیلانا کیا؟
شب بیتی‘ چاند بھی ڈوب چلا‘ زنجیر پڑی دروازے میں
کیوں دیر گئے گھر آئے ہو؟ سجنی سے کرو گے بہانا کیا؟
پھر ہجر لمبی رات میاں‘ سنجوگ کی تو یہی ایک گھڑی
جو دل میں ہے پر آنے دو‘‘ شرمانا کیا‘ گھبرانا کیا؟
اُس روز جو اُن کو دیکھا ہے‘ اب خواب کا عالم لگتا ہے
اُس روز جو ان سے بات ہوئی‘ وہ بات بھی تھی افسانہ کیا؟
اُس حسن کے سچے موتی کو، ہم دیکھ سکیں پر چھو نہ سکیں
جسے دیکھ سکے پر چھو نہ سکیں‘ وہ دولت کیا، وہ خزانہ کیا؟
اس کو بھی جلا دُکھتے ہوئے من! اِک شعلہ لال بھبھوکا بن
یوں آنسو بن بہہ جانا کیا؟ یوں ماٹی میں مل جانا کیا؟
جب شہر کے لوگ نہ رستہ دیں، کیوں بن میں نہ جا بسرام کریں
دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانہ کیا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِس بستی کے کوچے میں، ایک اِنشاؔ نام کا دِیوانا
اِک نار پہ جان ہار گیا، مشہور ہے اس کا افسانہ
اُس نار میں ایسا رُوپ نہ تھا، جس رُوپ سے دِن کی دُھوپ دبے
اِس شہر میں کیا کیا گوری ہے، مہتاب گلنار لبے
کچھ بات تھی اس کی باتوں میں، کچھ بھید تھے اس کی چِتون میں
وہی بھید کہ جوت جگاتے ہیں، کسی چاہنے والے کے من میں
اُسے اپنا بنانے کی دُھن میں ہوا آپ سے ہی بیگانہ
اِس بستی کے کوچے میں، ایک انشاؔ نام کا دیوانا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس دل کے جھروکے میں اک روپ کی رانی ہے
اس روپ کی رانی کی تصویر بنانی ہے
ہم اہلِ محبت کی وحشت کا وہ درماں ہے
ہم اہلِ محبت کو آزارِ جوانی ہے!!
یاں چاند کے داغوں کو سینے میں دباتے ہیں
دنیا کہے دیوانہ یہ دنیا دیوانی ہے
اک بات مگر ہم بھی پوچھ لیں جو اجازت!
کیوں تم نے یہ غم دے کے پردیس کی ٹھانی ہے
سکھ لے کے چلے جانا، دکھ دے کے چلے جانا
کیوں حسن کے ماتوں کی یہ ریت پرانی ہے
ہدیۂ دلِ مفلس کا ،چھ شعر غزل کے ہیں
قیمت میں تو ہلکے ہیں، انشاء کی نشانی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جوگ بجوگ کی باتیں جھوٹی، سب جی کا بہلانا ہُو
پھر بھی ہم سے جاتے جاتے ایک غزل سن جانا ہُو
ساری دُنیا عقل کی بیری، کون یہاں پر سیانا ہُو
ناحق نام دھریں سب ہم کو، دیوانا، دیونا ہُو
نگری نگری لاکھوں دوارے، ہر دوارے پر لاکھ سخی
لیکن جب ہم بھول چکے ہیں دامن کا پھیلانا ہُو
ایک ہی صورت، ایک ہی چہرہ، بستی، پربت، جنگل، پینٹھ
اور کسی کے اب کیا ہوں گے، چھوڑ ہمیں بھٹکانا ہُو
ہم بھی جھوٹے، تم بھی جھوٹے، ایک اُسی کا نام
جس سے دیپک جلنا سیکھا، پروانا جل جانا ہُو
سیدھے من کو آن دبوچیں میٹھی باتیں، سُندر بول
میرؔ، نظیرؔ، کبیرؔ اور اِنشاؔ، سارا ایک گھرانا ہُو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا تیرا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ تیرا
ہم بھی وہیں موجود تھے ہم سے بھی سب پوچھا کیے
ہم ہنس دیے ہم چپ رہے منظور تھا پردہ تیرا
اس شہر میں کس سے ملیں؟ ہم سے تو چھوٹیں محفلیں
ہر شخص تیرا نام لے، ہر شخص دیوانہ تیرا
کوچے کو تیرے چھوڑ کر، جوگی ہی بن جائیں مگر
جنگل ترے، پربت ترے، بستی تری، صحرا ترا
’’ق‘‘
ہم اور رسمِ بندگی؟ آشفتگی؟ اُفتادگی؟
احسان ہے کیا کیا ترا، اے حسنِ بے پروا ترا
وہ اشک جانے کس لیے، پلکوں پہ آ کر ٹک گئے
الطاف کی بارش تری، اِکرام کا دریا ترا
اے بے دریغ و بے اماں‘ ہم نے کبھی کی ہے فغاں؟
ہم کو تری وحشت سہی، ہم کو سہی سودا ترا
ہم پر یہ سختی کی نظر؟ ہم ہیں فقیرِ رہگزر
رستہ کبھی روکا ترا؟ دامن کبھی تھاما ترا؟
ہاں تری صورت حسیں‘ لیکن تو ایسا بھی نہیں
اس شخص کے اشعار سے، شہرہ ہوا کیا کیا ترا
بیشک اسی کا دوش ہے کہتا نہیں خاموش ہے
تو آپ کر ایسی دوا بیمار ہو اچھا تیرا
بے درد سننی ہو تو چل کہتا کیا اچھی غزل
عاشق تیرا، رسوا تیرا، شاعر تیرا، انشاؔ تیرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سب مایا ہے
سب مایا ہے سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے
اِس عشق میں ہم نے جو کھویا ہے جو پایا ہے
جو تم نے کہا ہے، فیضؔ نے جو فرمایا ہے
سب مایا ہے
ہاں گاہے گاہے دید کی دولت ہاتھ آئی
یا ایک وہ لذت نام ہے جس کا رُسوائی
بس اس کے سوا تو جو بھی ثواب کمایا ہے
سب مایا ہے
معلوم ہمیں قیس میاں کا قصہ بھی
سب ایک سے ہیں، یہ رانجھا بھی، یہ اِنشاؔ بھی
فرہاد بھی جو اِک نہر سی کھود کے لایا ہے
سب مایا ہے
جب دیکھ لے ہر شخص یہاں ہرجائی ہے
اِس شہر سے دور ۔ ۔ ۔ اِک کٹیا ہم نے بنائی ہے
اس اس کٹیا کے ماتھے پر لکھوایا ہے
سب مایا ہے
۔۔۔۔۔
شامِ غم کی سحر نہیں ہوتی؟
یا ہمیں کو خبر نہیں ہوتی؟
ہم نے سب دُکھ جہاں کے دیکھے ہیں
بے کلی اس قدر نہیں ہوتی
نالہ یوں رسا نہ ہوتا
آہ یوں بے اثر نہیں ہوتی
چاند ہے، کہکشاں ہے، تارے ہیں
کوئی شے نامہ بر نہیں ہوتی
دوستو! عشق ہے خطا لیکن
کیا خطا در گزر نہیں ہوتی
بیقراری سہی نہیں جاتی
زندگی مختصر نہیں ہوتی
حسن سب کو خدا نہیں دیتا
ہر کسی کی نظر نہیں ہوتی
دل پیالہ نہیں گدائی کا
عاشقی در بہ در نہیں ہوتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعدہ تو کیا ہے مگر ایفا نہ کریں گے
ایفا جو کریں گے کوئی اچھا نہ کریں گے
لوگوں سے چھپالیں گے جو احوال ہے جی کا
اپنے سے کسی بات میں دھوکا نہ کریں گے
اے دل ترے فرمانوں کو ٹالا ہے نہ ٹالیں
اُن کی بھی ترے سامنے پرواہ نہ کریں گے
اِس راہ کو ہم چھوڑ کے جائیں کسی جانب
آرزدہ نہ ہو ہم کبھی ایسا نہ کریں گے
لکھیں گے اُسی ٹھاٹ سے نظمیں، کبھی غزلیں
ہاں آج سے لوگوں کو دِکھایا نہ کریں گے