پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ مختصر کہانیاں

#hamidnaved *ننھی دکان* میں نے دیکھا کہ ماں اپنے…


#hamidnaved

*ننھی دکان*
میں نے دیکھا کہ ماں اپنے بیٹے کو آھستہ سے مارتی اور بچے کے ساتھ خود بھی رونے لگتی۔ میں نے آگے ھو کر پوچھا بہن کیوں بچے کو مار رھی ھو جبکہ خود بھی رو رھی ھو۔۔۔۔۔
اس نے جواب دیا کہ بھائی آپ کو تو معلوم ھے کہ اس کے والد اللہ کو پیارے ھو گئے ہیں اور ھم بہت غریب بھی ہیں۔ میں لوگوں کے گھروں میں مزدوری کرتی ھوں اور اس کی پڑھائی کا مشکل سے خرچ اٹھاتی ھوں۔ یہ کم بخت سکول روزانہ دیر سے جاتا ھے اور روزانہ گھر دیر سے آتا ھے۔ جاتے ھوئے راستے میں کہیں کھیل کود میں لگ جاتا ھے اور پڑھائی کی طرف ذرا بھی توجہ نہی دیتا۔ جس کی وجہ سے روزانہ اپنی سکول کی وردی گندی کر لیتا ھے۔
میں نے بچے اور اس کی ماں کو تھوڑا سمجھایا اور چل دیا۔۔۔۔
ایک دن صبح صبح سبزی منڈی کچھ سبزی وغیرہ لینے گیا تو اچانک میری نظر اسی دس سالہ بچے پر پڑی جو روزانہ گھر سے مار کھاتا تھا۔
کیا دیکھتا ھوں کہ وہ بچہ منڈی میں پھر رھا ھے اور جو دوکاندار اپنی دوکانوں کے لیے سبزی خرید کر اپنی بوریوں میں ڈالتے تو ان سے کوئی سبزی زمین پر گر جاتی اور وہ بچہ اسے فوراً اٹھا کر اپنی جھولی میں ڈال لیتا۔ میں یہ ماجرہ دیکھ کر پریشانی میں مبتلا ھو رھا تھا کہ یہ چکر کیا ھے۔
میں اس بچے کو چوری چوری فالو کرنے لگا۔جب اس کی جھولی سبزی سے بھر گئی تو وہ سڑک کے کنارے بیٹھ کر اونچی اونچی آوازیں لگا کر اسے بیچنے لگا۔ منہ پر مٹی گندی وردی اور آنکھوں میں نمی کے ساتھ ایسا دوکاندار زندگی میں پہلی بار دیکھ رھا تھا۔۔۔
دیکھتے دیکھتے اچانک ایک آدمی اپنی دوکان سے اٹھا جس کی دوکان کے سامنے اس بچے نے ننھی سی دکان لگائی تھی۔ اس شخص نے آتے ھی ایک زور دار پاؤں مار کر اس ننھی سی دکان کو ایک ھی جھٹکے میں ساری سڑک پر پھیلا دیا اور بازو سے پکڑ کر اس بچے کو بھی اٹھا کر دھکا دے دیا۔ ننھا دکاندار آنکھوں میں آنسو لیے دوبارہ اپنی سبزی کو اکٹھا کرنے لگا اور تھوڑی دیر بعد اپنی سبزی کسی دوسری دکان کے سامنے ڈرتے ڈرتے لگا لی۔ بھلا ھو اس شخص کا جس کی دکان کے سامنے اب اس نے اپنی ننھی دکان لگائی تھی اس شخص نے اس بچے کو کچھ نہیں کہا۔
تھوڑی سی سبزی تھی جلد ھی فروخت ھو گئی اور وہ بچہ اٹھا اور بازار میں ایک کپڑے والی دکان میں داخل ھو گیا اور دکان دار کو وہ پیسے دیکر دکان میں پڑا اپنا سکول بیگ اٹھایا اور بنا کچھ کہے سکول کی جانب چل دیا۔ میں بھی اس کے پیچھے پیچھے چل رھا تھا۔
جب وہ بچہ سکول گیا تو ایک گھنٹا دیر ھو چکی تھی۔ جس پر اس کے استاد نے ڈنڈے سے اسے خوب مارا۔ میں نے جلدی سے جا کر استاد کو منع کیا کہ یتیم بچہ ھے اسے مت مارو۔
استاد فرمانے لگے کہ جناب یہ روزانہ ایک گھنٹہ دیر سے آتا ھے میں روزانہ اسے سزا دیتا ھوں تاکہ ڈر سے سکول ٹائم پر آئے اور کئی بار میں اس کے گھر بھی پیغام دے چکا ھوں۔
بچہ مار کھانے کے بعد کلاس میں بیٹھ کر پڑھنے لگا۔ میں نے اس کے استاد کا موبائل نمبر لیا اور گھر کی طرف چل دیا۔ گھر جاکر معلوم ھوا کہ میں جو سبزی لینے گیا تھا وہ تو بھول ھی گیا ھوں۔
حسب معمول بچے نے سکول سے گھر آکر ماں سے ایک بار پھر مار کھائی ھو گی۔ ساری رات میرا سر چکراتا رہا۔ اگلے دن صبح کی نماز ادا کی اور فوراً بچے کے استاد کو کال کی کہ وہ منڈی کے ٹائم ھر حالت میں منڈی پہنچے۔ جس پر مجھے مثبت جواب ملا۔
سورج نکلا اور بچے کا سکول جانے کا وقت ھوا اور بچہ گھر سے سیدھا منڈی اپنی ننھی دکان کا بندوبست کرنے نکلا۔
پھر میں نے اس کے گھر جا کر اس کی والدہ کو کہا کہ بہن میرے ساتھ چلو میں تمہیں بتاتا ھوں کہ آپ کا بیٹا سکول کیوں دیر سے جاتا ھے۔ وہ فوراً میرے ساتھ منہ میں یہ کہتے ھوئے چل پڑی کہ آج اس لڑکے کی میرے ہاتھوں خیر نہیں- چھوڑوں گی نہیں اسے آج۔
منڈی میں لڑکے کا استاد بھی آچکا تھا۔ ھم تینوں نے منڈی کی تین مختلف جگہوں پر پوزیشنیں سنبھال لیں اور ننھی دکان والے کو چھپ کر دیکھنے لگے۔
حسب معمول آج بھی اسے کافی لوگوں سے جھڑکیں لینی پڑیں اور آخر کار وہ لڑکا اپنی سبزی فروخت کر کے کپڑے والی دکان کی طرف چل دیا۔۔۔۔۔
اچانک میری نظر اس کی ماں پر پڑی تو کیا دیکھتا ھوں کہ بہت ھی درد بھری سیسکیاں لے کر زار و قطار رو رھی تھی اور میں نے فوراً اس کے استاد کی طرف دیکھا تو بہت شدت سے اس کے آنسو بہہ رھے تھے۔ دونوں کے رونے میں مجھے ایسا لگ رھا تھا جیسے انہوں نے کسی مظلوم پر بہت ظلم کیا ھو اور آج ان کو اپنی غلطی کا احساس ھو رھا ھو۔
اس کی ماں روتے روتے گھر چلی گئی اور استاد بھی سسکیاں لیتے ھوئے سکول چلا گیا۔ حسب معمول بچے نے دکان دار کو پیسے دیے اور آج اس کو دکان دار نے ایک لیڈی سوٹ دیتے ھوئے کہا-
بیٹا آج سوٹ کے سارے پیسے پورے ھو گئے ہیں۔ اپنا سوٹ لے جاؤ۔ بچے نے اس سوٹ کو پکڑ کر سکول بیگ میں رکھا اور سکول چلا گیا۔ آج بھی ایک گھنٹہ لیٹ تھا وہ سیدھا استاد کے پاس گیا اور بیگ ڈیسک پر رکھ کر مار کھانے کے لیے پوزیشن سنبھال لی اور ھاتھ آگئے بڑھا دئیے کہ استاد ڈنڈے سے اس کو مار لے۔
استاد کرسی سے اٹھا اور فوراً بچے کو گلے لگا کر اس قدر زور سے رویا کہ میں بھی دیکھ کر اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکا۔ میں نے اپنے آپ کو سنبھالا اور آگے بڑھ کر استاد کو چپ کرایا اور بچے سے پوچھا کہ یہ جو بیگ میں سوٹ ھے وہ کس کے لیے ھے۔
بچے نے جواب دیا کہ میری ماں امیر لوگوں کے گھروں میں مزدوری کرنے جاتی ھے اور اس کے کپڑے پھٹے ھوئے ھوتے ہیں۔ اس کے پاس جسم کو مکمل ڈھانپنے والا کوئی سوٹ نہیں ھے اس لیے میں نے اپنی ماں کے لیے یہ سوٹ خریدا ھے۔
یہ سوٹ اب گھر لے جا کر ماں کو دو گے؟؟؟
میں نے بچے سے سوال پوچھا ۔۔۔۔
جواب نے میرے اور اس کے استاد کے پیروں کے نیچے سی زمین ھی نکال دی۔۔۔۔
بچے نے جواب دیا نہیں انکل جی
چھٹی کے بعد میں اسے درزی کو سلائی کے لیے دے دوں گا اور روزانہ تھوڑے تھوڑے پیسے جمع کر کے سلائی دوں گا جب سلائی کے پیسے پورے ھو جائیں گئے تب میں اسے اپنی ماں کو دوں گا۔۔۔۔۔
استاد اور میں یہ سوچ کر روتے جا رھے تھے کہ ابھی اس معصوم کو اور منڈی جانا پڑے گا، اور لوگوں سے دھکے کھانے پڑیں گے اور ننھی دکان لگانی پڑے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر کب تک غریبوں کے بچے ننھی دکانیں لگاتے رہیں گے۔آخر کب تک۔۔۔۔
………..
اس واقعہ سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاھئیے جن کے پاس رب کا دیا سب کچھ ھے مگر ناشکری ان کی زبانوں سے جاتی نہیں اور حرص و ھوَس کم نہیں ھوتی
*لاجواب تحریر منصف کا نام تو نہیں جانتا ابھی ھی ایک دوست نے مجھ کو سینڈ کی ھے*
اپنی اور معاشرے کی بے حسی دیکھ بہت رونا آیا
کاش
*ھم یہ سمجھ سکتے*
*اللہ ھم سب کو ایسے مجبور اور بے سہارا لوگوں کی مدد کرنے کی توفیق دے آمین ثم آمین*