Epi 26
وہ تیزی سے دروازہ کھولنے اور دروازہ جیسے ہی کھولا اور نوری کی چیخوں نے اس کا استقبال کیا اور ایک اور چیز بھی تھی جو کرنے والی تھی وہ تھی نورِصبح کے ہاتھوں میں گن تھی جو ارباز کی ہی یقینن تھی
"صبح !!!۔”
"چوہا !!!!!۔”
وہ چیخی اور اس سے گن بھی بامشکل اُٹھائی جارہی تھی ظاہر ہے بھاری تھی اس کے ہاتھ بھی کانپ رہے تھے
"صبح گن نیچے رکھو !!!۔”
اسامہ تیزی سے آگئے بڑھا مگر نور
"میں اسے ماردوں گی وہ اس کمرے میں کیا کررہا ہے ۔”
اس کے چہرے پہ وحشت تھی اسامہ کھبی اِدھر ہورہا تھا کھبی اُدھر
"صبح !!! چوہے کو دوسرے طریقے سے مارا جاسکتا ہے گن نیچے رکھو ۔”
وہ بیڈ پہ کھڑی پیچھے دیکھ رہی تھی کھبی آگئے
"میرا جینا حرام کردیا سب نے مجھے امی ابو کے پاس جانا ہے ۔”
یہ لڑکی مجھے مروا کر رہے گی
اسامہ نے دل میں کہا اور جلدی سے اس کے قریب آیا اور اس کا بازو پکڑا صبح نے ٹریگر دبا دیا اور فائر کی آواز آئی
•••••••••••••••••••••••
"کس سے پڑھایا ہے ۔”
ثمرن کو اپنی آواز کھائی میں محسوس ہوئی ،صلاح الدین کو بھی کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا اسے کچھ کچھ سمجھ آرہی تھی اس نے تیزی سے فون نکالا اور آغا جان کی فوٹو نکالی
"کیا یہ شخص آئے تھے ؟۔”
دین نے ان کی تصویر دکھائی
"ہاں یہی تھے ، اور فریحہ نے بتایا تھا کہ نور ثمرن کے پاس جارہی ہے مجھے تو حیرت ہورہی ہے اس گھر کے فرد ہوکر بھی آپ کو پتا نہیں لگا ۔”
"دین !!!۔”
دین کے چہرے پہ پتھریلے تاثرات آگئے وہ جلدی سے سائڈ پہ ہوا اور فون ملانے لگا مگر آغا جان فون نہیں اُٹھا رہے تھے
"چلو ثمرن !۔”
اس نے مڑ کر ثمرن کا ہاتھ پکڑا ثمرن نے زور سے جھٹک دیا
"اچھا تو یہ سب پلاینگ تھیں آپ لوگوں کی اصل شکار تو آپ لوگوں نے میری بہن کا کرنا تھا ۔”
صلاح الدین کو جھٹکا لگا یہ کیا کہہ رہی ہے
"ثمرن ؟۔”
صلاح الدین نے اس کا ہاتھ ایک بار پھر پکڑا اور تنبیہ نظروں سے اسے روکنے کی کوشش کی مگر وہ بہن کی خاطر غصہ سے پاگل ہوگئ
"میری نور۔ نوری ۔۔”
وہ منہ پہ ہاتھ رکھ کر پھوٹ پھوٹ کے رو پڑی تھی
"ارے بیٹی رو کیوں رہی ہو کیا ہوا ہے ۔”
وہ ثمرن کی رویہ پہ پریشان ہوگئی
"اوکے آنٹی اللہ حافظ ۔”
دین نے اس کا ہاتھ سختی سے پکڑا اور اسے کھینچ کر کار کی طرف لایا
"چھوڑے میرا ہاتھ آپ !!۔”
وہ نفرت سے نکلانے لگی مگر دین نے تیزی سے اسے گاڑی میں بیٹھایا
اور لاک کیا
اور دوسری طرف آیا کار میں بیٹھا وہ سر تھام کر پاگلوں کی طرح رورہی تھی
"میری بہن میری معصوم بہن آپ لوگ جانتے تھے کہ میں خاموش ہو میں چُپ کر کے سہہ رہی ہو وہ اب سب کی انا کو ٹھنڈا نہیں کررہا تھا تو میری بہن چاہیے تھی اس کے ساتھ وحشی سلوک کر کے آپ لوگوں کو آرام آنا تھا ۔”
"موشم !!۔”وہ اس کا چہرہ اُٹھانا چاہتا تھا ثمرن نے زور سے اس کا ہاتھ جھٹک
"مسڑ صلاح الدین آپ کا ڈرامہ اب نہیں چلے گا آپ تو میری شکل نہیں دیکھنا چاہتے تھے میں بیوقوف آپ جیسے شخص کے پیار کا یقین کر بیٹھی ایسا کیسے ہوسکتا تھا آپ کا بھائی مرے اور آپ بدلہ نہ لے اور وہ مورے وہ بھی دھوکے باز ۔۔۔۔۔۔۔
بہن کی محبت میں وہ اندھی ہوگئی تھی اس کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیا بول رہی تھئ صلاح الدین نے زور سے سٹیرنگ پہ ہاتھ مارا وہ رُکی
"شٹ اپ ! ثمرن جسٹ شٹ اپ میں سب کچھ برداشت کرسکتا ہوں مگر اپنی ماں کی توہین ہرگز نہیں اگر تم نے ایک اور لفظ میری ماں کے خلاف استمعال کیا ۔۔۔۔۔”
آگئے صلاح الدین سے کچچ بولا نہیں کیا وہ اپنے آپ کو کنڑول کرنا چاہتا تھا وہ اس لڑکی سے بے انتہا محبت کرتا تھا وہ مانتا تھا وہ ہوش میں نہیں ہے اس لیے ایسا کہہ رہی ہے صلاح الدین نے چہرہ موڑ لیا اور اپنی منہ پہ ہاتھ پھیر کر کنڑول کرنے کی کوشش کی
"دیکھا یہ ہے آپ کا اصلی روپ اپنے دادا کو ابھی اس وقت کہے میری بہن کو میرے حوالے کریں ۔۔۔۔ ورنہ انجام بہت بُرا ہوگا ۔”
وہ بے انتہا نفرت سے صلاح الدین کو دیکھتے ہوے بولی صلاح الدین حیران ہوگیا تھا مگر خاموشی سے کار سٹارٹ کی
"میں آپ سے کہہ رہی ہو کچھ میری بہن میرے حوالے کریں ۔”
وہ زور سے بولی پتا نہیں اسے کیا ہوگیا تھا جب اس نے سُنا اچانک سے نور پہ درندگی کے نیشان اس کے جسم پر فورن نظر آئے تھے تو اس کا جسم کیا روح بھی تڑپ اُٹھی تھی دماغ نے تو جیسے کام کرنا ہی چھوڑ دیا تھا اسے کچھ نظر نہیں آیا اسے ان سے بھی زیادہ اپنی امی ابو پہ بے انتہا غصہ آیا وہ منہ چھپا کے رونے لگی صلاح الدین خاموشی سے ڈرایو کرنے لگا وہ بھی اسے فل حال چھیڑنا نہیں چاہتا تھا اس نے جلدی سے ارباز کا نمبر ملایا
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
گولی سیدھا سائڈ وال پہ لگی تھی گن اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر بستر پہ گر گئی تھی اور وہ بالکل ساکت گھٹے کے بل گری اسامہ نے جلدی گردن موڑ کر دیوار کو دیکھا اور پھر اسے اور جلدی سے گن اُٹھائی اور اسے گھورتے ہوے اُٹھ کر ارباز کی الماری کی طرف بڑھا اور اسے رکھا اور لاک لگا کر اس کے پاس آیا وہ ابھی تک بالکل سٹل دیوار کو دیکھ رہی تھی وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی گولی چل جائی گی وہ اس کے سامنے آئے اور دونوں ہاتھ کمر پہ جما کر اس کی طرف دیکھنے لگا نور نے چونک کر اس کی نظروں کی تپش کو بہت محسوس کیا تھا اس نے سر اُٹھایا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا اسامہ اسے کھل کر سُنانا چاہتا تھا لیکن وہ اپنی انرجی فل حال ویسٹ نہیں کرنا چاہتا تھا لب دبا کر وہ غصے سے اس چھوٹی سی لڑکی کو دیکھ رہا تھا
"اسامہ لالہ اسامہ لالہ آپ ٹھیک ہیں ؟؟۔”
نیچے سے گل شیر کی ڈری ہوئی مگر خاصی اونچی آواز آئی وہ دروازے کے پاس آیا اور تیزی سے کہنے لگا
"میں ٹھیک ہوں !،کھانا تیار ہے ۔”
"جی !۔”
"ٹھیک ہے ٹیبل تیار کروں !۔”
وہ واپس آیا اور اسے دیکھنے لگا
"گن کہاں سے نکالی ہے ؟۔”
نور نے سر اُٹھایا اس نے سختی سے نہیں پوچھا تھا بہت سپاٹ لہجہ تھا مگر نظریں بڑی خطرناک تھی اس کئ
"تم نے مجھے کمرے میں بند کردیا تھا ۔”
اس نے صرف اتنا کہا
"ہاں تو میڈم نے سوچا کہ کیوں نا پستول سے کھیلا جاے ایک تو اس ارباز کے بچے کو بھی آرام سے الماری میں پھینکنے تھی ۔”
وہ اب ظنزیا لہجہ اپناتے ہوے ارباز کی لاپروائی پہ غصہ آیا
"نہیں میں کچھ ڈھونڈ رہی تھی جس سے دروازہ کھل جاتا تو الماری کو سارا چھان کر ایک پیکٹ میں یہ پڑا تھا نکال رہی تھی تو میرے پیر پہ کچھ گزرتا ہوا محسوس ہوا میں نے دیکھا تو چوہا تھا بھاگ کر بیڈ کیپ اس آئی جبکہ گن میرے ہاتھ میں تھی ۔”
اسامہ نے اس کی بات سُن کر تالی بجائی
"واہ ہمت کی داد دیتا ہوں آپ کی گن بھی کیسے اُٹھا لی آپ نے !!!۔”
"دیکھو مجھے سُنانا بند کرو !!میری جان نکل گئی تھئ ۔”
وہ چڑ گئی تھی
"او ہو جیسے چوہا نے تم جیسی موٹی گائے کو نگل لینا تھا ۔”
صبح نے تکیہ اُٹھایا اور اسے مارنے لگی کہ اسامہ نے تکیہ پکڑ لیا
"کمرے میں بند کیا تھا اب چاہتی ہو کیا رسی سے باندھو !۔”
"باندھ کر تو دکھاو تم مجھے ,پلیز مجھے میری آپی سے ملا دوں امی ابو نے کہا تھا وہاں آپی ملی گی میں تنگ آگئی ہوں پلیز کدھر ہیں ۔”
وہ اب تنگ اچکی تھی بس اس کا ایڈونچر اتنا ہی تھا
"تمھاری آپی نہیں ہے یہاں وہ اپنے شوہر کے ساتھ شہر میں ہے اب تمھیں یہی رہنا ہے ہمیشہ کے لیے اور میں نے بہت برداشت کر لیا مگر اب اگر تم نے کوئی گڑبڑ کی تو میں لحاظ نہیں کروں گا ۔
وہ انگلی اُٹھا کر اس کے سر پہ ٹیپ کرتے ہوے بولا
"مگر امی ابو نے کہا تھا وہ آپی ہوگی میرا خیال رکھنے کے لیے ۔”
وہ مسکرایا اب وہ اس کنڑول میں لانے لگا تھا
"تتت بیچاری صبح تمھیں اپنے آپ کو سنبھالنا ہوگا خود ہی اور تم بھول جاو تمھاری کوئی فیملی ہے ۔”
وہ ایک دم منہ کھولے اسے دیکھنے لگی پھر ہمت کر کے بولی
"مجھے آپی سے ایک بار ملا دوں ۔”
"ناٹ آ چانس لٹل گرل اِدھر ہی ساری زندگی تم نے سڑنا ہے بھول جاو اور تم انھیں کا پوچھ رہی ہو جنھوں نے تمھاری قدر نہیں کی اپنی بیٹے کی جان کی خاطر تمھیں ہمیں سونپ دیا زرا بھی نہیں سوچا اور تم ان کا ہی سوچ رہی ہو حیرت ہے ۔”
وہ اس سے بدلہ لینے کے ساتھ ساتھ اپنا درد بھی بیان کررہا تھا جو فل حال نور کو سمجھ میں ہرگز نہیں آنا تھا
"وہ مجھ سے پیار کرتے ہیں آپ جھوٹ بول رہے ہیں ۔”
وہ بالکل رونے والی ہوگی
"اچھا تو ایسے کوئی دیں دیتا ہے انھوں تمھاری بہن سے بھی محبت نہیں تھی انھیں صرف اپنے بیٹے سے محبت تھی جس سے محبت ہوتی ہے اسے اپنے پاس رکھتے ہیں اور تمھیں پتا ہے تمھاری آپی تو تمھارے گھر والوں کے پاس واپس چلی گئی ہیں ان سے ملتی بھی ہوگی وہ تو بس تمھیں پھنسانا چاہتے تھے ۔”
وہ اس کا برین واش کررہا تھا
"یہ کیا کہہ رہے ہو ؟ بابا ماما تو خود رورہے تھے مجھے بھیج کر ۔”
"ڈرامہ لٹل گرل ڈرامہ تو کرنا پڑتا ہے ورنہ تم جاتی ۔”
وہ مسکرایا تھا نوری کی آنکھیں پانیوں سے بھر گئی
"آپ جھوٹ بول رہے ہیں آپ نے مجھے کڈنیپ کیا ہے وہ گندے والے انکل بھی رہتے تھے گھر میں وہ بھی نہیں ہیں اور بھی بہت سے لوگ بھی ہوگئے یہ آپ کہی اور لے آئے ہیں آپی وہاں ہوگی آپ نے انھیں قید کیا ہوگا یا ماردیا ہوگا ۔”
وہ چہرہ صاف کرتے ہوے غصے سے بولی تھی مگر اس کی آواز بھرا گئی تھی وہ کھبی اس کے سامنے رونا نہیں چاہتی تھی
"کوئی نہیں مارا ہم نے وہ چلی گئی ہیں واپس جس کے ساتھ ان کی شادی ہوئی تھی اور اگر انھیں تمھاری پروا ہوتی تو وہ تمھیں لینے آتی تمھیں کال کرتی تمھارے پاس تو فون بھی ہے ایک بار بھی تمھارے گھروالوں نے کال کیا یہ ٹریک کر کے تمھارے سو کالڈ ارشد بھائی آجاتیں اور میں نے تمھیں کیڈنیپ نہیں کیا تمھارے امی ابو نے خود حوالے کیا تمھیں سمجھی ۔”
وہ اب مزید تیزی سے بولا
"میری فون کی بیٹری لو ہوگئی ہیں کیا پتا آپی نے فون کیا ہو ۔”
"دلاسے دیتی رہو تم نور صبح خود کو مگر اب تم بھول جاو تم یہاں سے کھبی جا پاو گی ۔”
وہ نفرت سے کہتا ہوا دروازہ کھول کر زور سے بند کرتا اپنے پلان میں کامیاب ہوگیا تھا نور صبح اپنی فمیلی سے بدگمان ہوگئی تھی کھبی کھبی ایسا پل آتا ہے کہ آپ سالوں سال بھی کسی کی بات پہ بھروسہ نہیں کرتے یا مان ہی نہیں سکتے اور کھبی ایک وقت ایسا بھی آتا کہ ان کی ایک بات دل کو لگ جاتی ہے اور وہ اس کو تسلیم کر لیتے ہیں ہاں وہ جو کہہ رہا بالکل سچ اور درست کہہ رہا ہے
"ٹھیک ہے اگر انھیں میری پروا نہیں ہے تو مجھے بھی ان سے کوئی سروکار نہیں ہے واقعی صحیح کہہ رہے ہیں سب کو محبت ہی ارسل بھائی سے ہیں ورنہ وہ مجھے کھبی کسی کو نہ دیتے انھوں نے تو مجھے چیزوں کے بغیر بھی بھیج دیا ۔”
وہ رونے لگی پھر منہ صاف کر کے اُٹھی جب کھل کر رو چکی
"اب میں بالکل نہیں روں گی میں ان کے لیے مر گئی ۔”
وہ خود سے کہتے اُٹھ کر نیچے کی طرف بڑھی

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔