من_درِعشق_باشما_ھستم ثمرین_شاہ قسط نمبر 25 اسامہ…
من_درِعشق_باشما_ھستم
ثمرین_شاہ
قسط نمبر 25
اسامہ غصے سے آگئے بڑھا نوری نے ایک دم کینچی پکڑ لی
"آگئے مت آنا ۔”
"تمھیں تو میں بتاتا ہوں تمھاری جُرعت کیسی ہوئی میرے کپڑوں کا ہاتھ لگانے لگی میری جینز میرا کمرہ میں تمھارا قتل کردوں گا ۔”وہ اتنی زور سے چیخا تھا ایک منٹ کے لیے صبح بھی کانپ گئی
"ڈرتی نہیں ہوں میں تم سے سمجھے ! ارشد بھائی ۔”
"شٹ آپ !!۔”
وہ دھاڑتے ہوے اس کے پاس آیا اور جینز اُٹھائی جس نے بیچارے نے نوری کے ہاتھوں شہادت پالی تھی
اس نے سیدھا نوری کے منہ پہ پھینکی
"جانتی بھی ہو کتنے کے ہے تم جیسی کہاں جانتی ہوگی اتنے مہنگے اور بڑینڈڈ کپڑے نکلو یہاں سے جاہل آن پڑھ لڑکی ۔”
ایک دم نوری کا دل چھن سے ٹوٹا
"اور اپنی شکل گُم کردوں نفرت ہے مجھے تمھاری شکل سے تمھارے وجود سے پتا نہیں کہاں پھنس گیا ہوں ۔”
نورِصبح کا دل بھر آیا اس کو رونا آنے لگا مگر وہ آنکھوں کو سختی سے روک رہی تھی
"میرے پاس کپڑے نہیں تھے ۔”
وہ آہستہ سے کہنے لگی ٹھوڑی کانپنے لگی تھی
"تو ،میں کیا کرو باپ نہیں ہوں تمھارا جو میرے چیزیں پوچھے بغیر استمعال کروں دل کررہا ہے تمھاری گردن اُڑا دوں ۔”
"باپ نہیں شوہر تو ہو !!۔”
وہ چیخی تھی اسامہ رُک گیا اسے دیکھنے لگا جس کی آنکھیں سُرخ ہوگئی تھی تھوڑی ہل رہی تھی چہرہ پیلا ہوگیا تھا ایک منٹ کے لیے اس کا دل نرم پڑ گیا تھا مگر پھر تیزی سے بولا
"ہاں ہوں بدقسمتی سے مگر تم سے بہت جلد جان چھڑواو گا اور خبرادر میری چیزوں کا ہاتھ لگایا ٹانگیں توڑ دوں گا ۔”
اس نے جلدی سے کینچی پھینکی اور تیزی سے بھاگی
اسے بہت رونا ہورہا تھا سب اسے اکیلے چھوڑ گئے تھے کسی کو اس کی پروا نہیں تھی اس شخص نے اسے ڈانٹا تھا کل اسے مارے گے امی ابو کو صرف ارسل کی پروا تھی آپی اور وہ بیشک بھاڑ میں جاتے ان کو کوئی پروا نہیں تھی وہ تکیہ میں منہ دیں پھوٹ پھوٹ کے رو رہی تھی آج بہت ہوگیا تھا اس نے کون سا کچھ کیا تھا جو اس نے جینز اس کے منہ پہ مارا جبکہ اسامہ نے اپنا سر تھام لیا اسے اتنے غصے سے بات نہیں کرنا چاہیے تھی وہ لڑکی اپنے بھائی کی خاطر اپنی ساری فیملی کو چھوڑ کر آئی اور جب اس کے پاس کپڑے نہیں تھے تب اسے یہ کرنا پڑا دماغ اسے سمجھا رہا تھا اور دل اسے کہہ رہا تھا نہیں اس نے ٹھیک نہیں کیا تھا اور وہ اب اس کے غصہ کا بدلا ضرور لے گی اس سے پہلے وہ کچھ کریں اس کا کمرہ لاکڈ کردیا جاے ۔”
وہ جلدی سے اُٹھا اور اس نے سائڈ ڈیسک سے چابی نکالی اور اس کے دروازے کی طرف آیا اور لاک لگانے لگی نوری نے تیزی سے سر اُٹھایا اور جلدی سے اُٹھی اس نے دروازہ کھولنے کی کوشش کئ وہ لاک لگا چکا تھا
"دروازہ کھولو چکی کھولو ورنہ میں ٹھیک ہے بہت ہوگیا میں آپی کو کال کرتی ہوں ۔”
وہ مڑ کر فون ڈھونڈنے لگی لیکن فون نہیں مل رہا تھا پورا بیڈ چیک کیا بلا آخر جب ملا تو اس نے چیک کیا بیٹری لو ہوگئی تھی
"او نہیں !!!!!!۔”
اس نے غصہ سے فون پھینکا
اور بیڈ پہ لیٹ گئی
"میں تمھیں چھوڑو گی نہیں چکی یاد رکھنا !۔”
وہ غصے سے بولی اور چہرہ صاف کرنے لگی جو ابھی تک آنسو کی وجہ سے گیلا ہورہا تھا ۔
※※※※※※※※※※
"یہ اس سٹریٹ میں ہے میرا گھر ۔”
وہ اسے اشارہ کرتے ہوے بولی
"مجھے پتا ہے سویٹ ہارٹ !!! ورنہ تمھیں بُکس کیسے بھیجتا !۔”
"او میں تو بھول گئی تھی دین ویسے میں ٹھیک تو لگ رہی ہوں نا امی بابا کو نہ لگے کہ میرے اوپر بہت زیادہ ظلم ہوا ہے ۔”
وہ اس کو دیکھتے ہوے بولی صلاح الدین نے مسکرا اسے دیکھا اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا
"نہیں بہت پیاری لگ رہی ہو وہ دیکھے گے تو سمجھ جاے گے کہ داماد انھیں صحیح ملا ہے ۔”
وہ ہنس پڑی اور اس کے بازو پہ مکا مارا
"اتنے بھی صحیح نہیں ہے اور پلیز فارسی کے لفظ استمعال کرنے کی ضرورت بالکل نہیں ہے ۔”
وہ ہنس پڑا اور کار گیٹ کے قریب روکی
"مزے کی بات بتاو مجھے فارسی پسند تھئ مگر تمھیں دیکھ کر میری زبان بے اختیار ہوجاتی ہے بس دل کرتا ہے تمھاری خوبصورتی کو اسے الفاظ سے بیان کرو ورنہ تمھارے ساتھ زیادتی ہوگی تمھاری ڈسکرپشن پرشین لنگیوج میں مکمل ہوسکتئ ہے ۔”
ثمرن پیار سے اسے دیکھنے لگی
"ہوگیا آپ کا چلے اُٹھے !۔”
※※※※※※※※※※※※※※
وہ اپنا کام کر کے فارغ ہوا تھا تو اسے بھوک لگی صبح وہ ناشتہ بھی نہیں کرسکا تھا اس صبح چڑیل کی وجہ سے گل شیر کو کھانے کا کہہ کر وہ سگیرٹ کے کش لیتا لان میں آگیا ایک بار پھر فون ایک تو وہ اس فون سے تنگ آگیا تھا جب سے وہ گیا ہے پتا نہیں کتنی بار کال آچکی تھی اس نے جلدی سے بیزاری سے دیکھا مگر بیزاری آج پورے دن میں پہلے دفعہ ہوا ہوئی
جب اس نے بڑی امی کا نام دیکھا
"اسلام و ولیکم بڑی امی !۔”
اس نے نرمی سے کہا
"میری جان چندا اسامہ ٹھیک ہو !۔”
"جی بڑی امی آپ کو خیال آگیا میرا ۔”
وہ شکوہ صرف انھیں سے کرتا تھا وہ مسکرا پڑی
"سگریٹ تو نہیں پی رہے اس وقت !”
اسامہ حیرت سے فون دیکھنے لگا اور فورن لبوں سے سے سگیرٹ پھینک کر بولا
"نہیں تو !۔”
"اسامہ آپ جھوٹ کب سے بولنے لگے ۔”
"میں کب بول رہا ہوں ویسے آپ ٹھیک ہیں کدھر ہے آپ ۔”
"میں اللہ کا شکر اس وقت میں دین کی فلیٹ میں ہوں دین اور ثمرن دین کے گھر گئے ہیں ۔”
اسامہ سُن رہا تب کہ اچانک ٹہر گیا
"کس کے گھر ؟وہاں کیا کررہے ہیں ۔” وہ
"کیا مطلب ہے اسامہ ثمرن کو باپندی تو نہیں لگائی دین نے وہ مل سکتی ہے ۔”
اگر وہ وہاں جاے گے اور دین کو یہ سب ضرور پتا لگ جاے گا اور وہ ثمرن کی طرح نوری کی لیے بھی آواز اُٹھائے گا اور خانم بھی اچکی تھی
"ام بڑی امی آپ سے میں تھوڑی دیر بعد میں بات کرتا ہوں ۔”
"ٹھیک ہے نماز پڑھی آپ نے ؟۔”
وہ جب بھی آتا ان کے پاس تو وہ ان سے پوچھا کرتی تھی
"نہیں !۔”
اس نے سچ بولا تھا
"ائیم سوری بڑی امی ۔”
اس نے جلدی سے خدا حافظ کہہ کر فون بند کردیا تھا
اور منہ پہ ہاتھ پھیرا
"او گاڈ اگر صلاح الدین کو پتا چل گیا ۔”
اس نے مڑ کر دیکھا گل شیر اسے بلا رہا تھا وہ پیشانی پہ بل لیے آگئے بڑھا
"کیا ہوا ؟۔”
"وہ اوپر سے وہ بی بی کی چیخنے کی آواز آئی ۔”
"رہنے دوں ! چیختے رہے ۔”
"مگر لالہ ان کی چیخ خاصی دلخراش تھی ۔”
"کیا مطلب ؟۔”
وہ اس کا جواب سُنے بغیر ناجانے کیوں چل پڑا اور سڑھیوں کی طرف بڑھا اور چیخوں کی آواز واقعی آرہی تھی
"صبح !!۔”
••••••••••••••
اس نے بیل کہی بار دیں لیکن دروازہ کوئی کھول نہیں رہا تھا گاڑی بھی بابا کی اندر ہی پارک تھی تو پھر کہاں گئے ۔
"سوے ہوگے دوپہر کا وقت ہے ۔”
صلاح الدین نے گلاسس اُتارتے ہوے کہا
"نہیں کوئی تو ہوگا امی تو اُٹھ جاتی اگر سوئی وی ہو رُکے میں کال کرتی ہوں ۔”
اس نے فون نکال کر نمبر ڈال کرنا چاہا ان کے ساتھ والی آنٹی باہر آئی
"وہ گھر پہ نہیں ہیں ۔”
ثمرن نے سر اُٹھایا
"ثمرن تم ؟۔”
"اسلام و علکیم آنٹی کیسی ہیں آپ ۔”
ثمرن مسکراتے ہوے بولی اور وہ حیرت سے ثمرن کو دیکھ رہی تھی پھر اس کے پیچھے کھڑے ہوے شاندار سے شخص کو پھر اتنی مہنگی گاڑی کو یہ لڑکی خون بہا میں گئی ہی گئی تھی نا
"آنٹی یہ میرے ہزبنڈ صلاح الدین دین یہ میری ساتھ والی آنٹی ہیں ۔”
"اسلام و علکیم !۔”
صلاح الدین مسکراتے ہوے بولا
"وعلیکم سلام بیٹا ثمرن بیٹا امی ابو تو نہیں ہے ۔”
"کیا مطلب آنٹی ؟۔”
"وہ لوگ تو کراچی چلے گئے اور نورِ صبح نہیں آئی ؟۔”
"نورِصبح ؟۔”
وہ نا سمجھی سے دیکھنے لگی
"ارے بچی دو دن ہوگئے گئے ہوئے اسے اس کا نکاح سُنا ہے کسی سے پڑھا دیا گیا ہے ۔”
ثمرن کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی وہ گرنے لگی صلاح الدین نے اسے سنبھالا
"کیا مطلب ہے آپ کا ؟۔”
"پتا نہیں مجھے کچھ نہیں بتایا کوئی مولوی صاحب آئے تھے کوئی ایک بزرگ تھا اور کوئی نوجوان سا خوبصورت سا لڑکا تھا
"نہیں آپ مزاق کررہی ہوگی آنٹی !۔”
ثمرن تیزی سے کہنے لگی ایسا نہیں کرسکتے وہ جس کے لیے وہ اتنا کچھ برادشت کرتی رہی وہی چیز ہوئی