اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ مختصر کہانیاں

Epi 17 "چلو اسے بارے میں ڈسکس کرتے ہیں بعد میں اپن…


Epi 17
"چلو اسے بارے میں ڈسکس کرتے ہیں بعد میں اپنے الادین کو گڈ بائی بولو ۔”
وہ مسکرا کر مڑا اور اسے دیکھنے لگا
"گڈ بائی !۔”
وہ معصومیت سے دیکھنے لگی اور نرمی سے کہا صلاح الدین نے سوچا اس جیسا معصوم بندہ واقی کوئی نہیں ہوسکتا
"تم اپنے شوہر کو گڈ بائی بول رہی ہو کے کسی ایسے ہی عام سے بندے کو ۔”
صلاح الدین نے گھوری دکھائی
"آپ نے کہا گڈ بائی بولو تو میں نے وہی کہا ۔”
"یا اللہ مجھے صبر دیں ۔”
اس نے کہتے ہوے ثمرن کی کمر پکڑی اور پھر ثمرن پچتائی ایسے گڈ بائی بول کر
••••••••••••••••••
وہ خاموش سے مگر سرد تاثرات لیے ریش ڈرائیونگ کررہا تھا جبکہ وہ کھبی اسے کھبی کھڑکھی کو دیکھ رہی تھی جب خاموشی برداشت نہ ہوئی تو بول پڑی
"آپی کے پاس کب تک پہنچے گے ۔”
اسامہ چونکہ اس نے گردن موڑ کر اسے دیکھا جو اس کے جواب کی منتظر تھی اس نے کوئی جواب نہیں دیا
"آپ سے کچھ پوچھا ؟۔”
"اور میں تمھیں جواب دینا ضروری نہیں سمجھتا ۔”
وہ سختی سے بولا
"تو پھر میں کس سے پوچھو گاڑی میں آپ کے علاوہ اور کوئی نہیں ۔”
وہ اس کی سختی کو خاطر میں لاے بغیر بولی
"تو پھر اپنا منہ رکھو !۔”
وہ جبڑے بھینچے ہوے بولا
"آپ یہ بات آرام سے بھی کہہ سکتے ہیں جس طرح آپ میرے ساتھ بات کرتے ہیں آپی کے ساتھ تو اور بُرا کرتے ہوگے ۔”
"تمھاری آپی !۔”
وہ تمسخرا انداز میں سر جھٹکتے ہوے بولا
"اسامہ آپ گاڑی روک دیں گے میں تاکہ کسی سے پوچھ لو ۔”
دوسرا جھٹکا جو اسامہ خان کو لگا تھا نور صبح سے اس نے ایک دم بریک لگائی اور رُک کر اسے دیکھا جو شیشہ نیچے کر کے کسی کو آواز دینے لگی یہاں مری شروع ہوچکا تھا اور کارپٹس لگاے کھڑے آدمی جو بیچ راستے میں پاے جاتے تھے اس سے پہلے وہ کچھ کہتی اسامہ نے اس کا بازو دبوچا اور کھینچا
"اوچ !۔”
اسامہ نے اپنی سائڈ سے شیشہ بند کیا
"مجھے کیا کہا ہے تم نے ۔”
وہ دھاڑا تھا
"اسامہ آپ میرا ہاتھ چھوڑے ورنہ میں چلاو گئ ۔”
وہ گھورتے ہوے بولی اسامہ اسے رکھ کر لگانا چاہتا تھا لیکن اس بولڈ لڑکی ! بچی تو وہ کہی سے نہیں لگ رہی تھی یہ تو بہت مختلف ایک اس کی بہن جو ہر مظلومیت سہنے والی جس نے اپنے لب سی لیے تھے اور جتنے جہاں کا ظلم ہوا اس نے چُپ چاپ کر قسمت کا کڑوا گھونٹ سمجھ کر پی لیا مگر صلاح الدین نہ آتا تو یقینن اس کی خاموشی اور صبر نے یقینن مار دینا تھا
"پہلی بات خبرادر مجھے اسامہ کہا تو ! خان کہو مجھے دوسرا چلا کر دکھاو زبان گھدی سے کھینچ لو گا میں تمھاری !۔”
وہ اس کا بازو چھوڑ کر غرایا تھا
"آپ کا نام کیا پہلے وہ آپ ڈیسائڈ کر لے کیونکہ قاری صاحب نے آپ کا نام اسامہ بولا تھا دوسرا ماما نے مجھے آپ کو بھائی بولنے سے منع کیا کیونکہ آپ میرے ہزبنڈ ہیں اور تیسرا آپ نے اگر ایسا کیا تو میں ارشد بھائی کو بلا دوں گی ۔”
وہ جیسے ٹہر گیا تھا یہ لڑکی نہ رورہی ہے نہ ڈر رہی یہ ہے کیا آخر ؟۔
نوری کو رونا آرہا تھا مگر آپی نے ایک دفعہ کہا تھا
"میری طرح کھبی نہ بنا اور ویسے بھی میری طرح ہو بھی نہیں ہمیشہ اسی طرح رہنا ہاں بچوں کی طرح رو لینا چھپکے چھپکے یا خالی ماما بابا کے سامنے اگر کسی اور کے سامنے روئی میری جان تو تم انھیں کمزور نظر آو گی پھر پتا ہے نا کیا ہوگا ۔”
ثمرن نے ناجانے کیوں جاتے ہوے اس آخری دفعہ ماتھے پہ پیار کرتے ہوے کہا تھا اور یہ بات نوری کو سمجھ آگئی تھی جتنی وہ چھوٹی سی لگتی تھی اتنی ہی وہ سمجھدار تھی
"آپی اگر انھوں نے مجھے مارا تو میں کیا کروں گی ۔”
وہ اپنی ہر بات آئی پوڈ کی نوٹ میں لکھا کرتی تھی یہ بھی اس نے انگلش میں لکھا تھا
پھر اپنے آنکھیں ہاتھوں سے مسلی کہی یہ شخص اس کے آنسو نہ دیکھ لے
*****************
تائی روتے ہوے سارا واقعہ بتانے لگی خانم کا منہ حیرت سے کھل گیا جتنی ساری ہمدردی تھئ تائی کے لیے وہ ہوا میں چلی گئی
"بس! ۔”
وہ اب تیزی سے اور خاصی اونچی آواز میں بولی تائی ڈر گئی
"آفسوس سدا آفسوس تم لوگوں پر آفسوس بھی نہیں تم جیسے جاہلوں پر تف ہے غضب خدا کا خون بہا کس کا حُکم تھا ۔”
تائی کا چہرہ خائف کے باعث سُرخ ہوگیا
"تو کیا اپنے بیٹے کی خون کی قمیت وصول کرتے بے غیرت بن جاتے ۔”
"زبان کو سنبھالوں اپنی تم بھول رہی تم کس کے سامنے بات کررہی ہو ۔”
"نہ تم لوگ قمیت وصول کرتے نہ ہی ان کی بیٹی لے کر آتے غضب خدا کا میرے پیچھے یہ سب ہونا تھا تو میں یہاں سے نہ جاتی میرے اصول تو بھول گئے سب آنے دوں اس خان کو دو کؤڑی کا رکھ دیا ہے کدھر ہے وہ بچی اسلام تو صرف تم لوگوں کے ڈوپٹے تک کا رہ گیا ہے بس ! درگزر نہیں کرنا بس دل میں ٹھنڈک پڑنی چاہیے سو فضول کام کرلو حرا جاکر اس لڑکی کو میرے سامنے لاو میں بھی تو دیکھو کیا حشر کیا خون بہا میں آئی لڑکی اور اس کے ساتھ ظلم نہ ہو ناممکن سی بات ہے کیوں خانزادی !۔”
وہ ظنز سے تائی کو دیکھنے لگئ
"وہ یہاں نہیں ہے مادر بزرگ خانم !۔”
ارباز بولا تائی نے ارباز کو گھور کر دیکھا کے کہی یہ بول نہ کھول دیں
"تو کہا ہیں جہاں ہمارے جانوروں کا ٹھکانہ ہے وہاں رکھا ہوگا ۔”
وہ اب سختی سے بولی تھی ان کی سختی واقی صحیح قسم کی سختی تھی کے اگلا بندہ سو دفعہ سوچتا ان کے سامنے بات کریں
"دین بھائی انھیں اپنے ساتھ لے گئے ہیں ۔”
"خانم جان آپ چھوڑے اب وہ ڈائن چلی گئی آپ ہادی کا سوچے ۔”
"کیوں سوچو میں ہادی کو کیوں ہادی اللہ کی امانت ہے اس رب کا جب دل کریں اپنی چیز کو اس دُنیا میں بھیجے اپنی دُنیا میں پاس بلا لے دُکھ ہوتا ہے میں جانتی ہو بہت زیادہ لیکن کیا یہ سب کرنے سے ہادی واپس آئی گا اگر آتا ہے تو پھر لاو سامنے لاو میں بھی کھل کر ظلم کروں ہاتھیوں جیسی جسامت کے ساتھ ہاتھیوں جیسی موٹی عقل بھی تم نے لے لی یہ مجھے آج معلوم ہوا اتنا بیٹے کا غم ہوتا تو کھانا پینا سونا سب کچھ چھوڑا ہوتا لیکن چھوڑا نہیں تو پھر اس انسان کو کیوں نہیں بخشتے جس کا کوئی قصور بھی نہیں ہے ۔”
وہ بہت زیادہ غصے میں تھی بلال نے آگئے بڑھ کر نوکر سے پانی منگوایا تھا خانم کو پکڑایا
"جزاک اللہ ! ”
وہ تین گھونٹ وقفے سے لے کر بلال کو دیتے ہوے بولی
"بلال کو دیکھ رہی ہو اس کا ماں باپ یعنی میرا بیٹا شکیل کو قتل کردیا تھا امریکہ میں مسلمان سمجھ کر کیا ہم وہاں گئے کیا ہم نے سزا دلوانے کی کوشش کی میں جانتی ہوں وہاں ناممکن سی بات ہے پر میں نے اپنا اکلوتا بیٹا کھویا تھا پھر میرے پاس تین پوتے پوتیاں تھی وہ بھی چھوٹے چھوٹے سے ان کو دیکھ کر میرا کلیجہ پھٹنے کے قریب ہوتا لیکن در گزر کردیا سارے انصاف اللہ پر چھوڑ دیں ہمیں اللہ کے کام میں دخل نہیں کرنا چاہئے کیونکہ بیشک انصاف کرنے والا وہی ہے لیکن ان نام کے مسلمانوں کو میں کیا کہو تم لوگوں سے بہتر انگریز ہیں جن کو یہ بات سمجھاو تو وہ اسلام قبول کر لے ۔”
"ارباز تم زرا میرے کمرے میں آو !۔”
وہ اُٹھتے ہوے ان کو دیکھے بنا چل پڑی
ارباز بھی تیزی سے ان کے ساتھ چل پڑا کے کہی تائی کچا نہ چبا جاے
*****************
"مجھے بھوک لگ رہی ہے ۔”
وہ تھک گئی تھی تو سیٹ کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوے بولی اسامہ نے موڑ کاٹا اسے سگریٹ کی شدید طلب ہورہی تھی سر درد سے پاگل ہورہا تھا
"اسامہ !۔”
"کیا مسئلہ ہے منہ نہیں بند رکھ سکتی اپنا !۔”
"غصہ بعد میں کر لیجیے گا پلیز ماما نے اس وقت صرف چاے بسکٹ دیں تھے اب میرا بھوک سے بُرا حال ہورہا ہے ۔”
وہ اب بہت پریشان لگ رہی تھی بھوک سے واقی وہ پاگل ہورہی تھی
"تو میں کیا کروں گا ۔”
"آپ میرے ہزبنڈ ہیں !”
ایک تو اس منہ سے اتنا عجیب لگ رہا تھا یہ کہنا اسامہ کو غصے کے بجاے عجیب سی جھنجھلاہٹ ہوئی
"جیسے میرے بابا میری ماما کے ہزبنڈ ہیں بابا ہم سب کے لیے اتنا کچھ لاتے ہیں چپس بسکٹ ، کپڑے کھانا بُکس اور کھبی کھبی باہر لے جاتے ہیں تو آپ کو بھی میرے لیے چیزیں لے کر دینی چاہئے فل حال تو کھانا ہی کھلا دیں ۔”
"منہ بند رکھو اپنا !۔”
وہ صرف اتنا ہی کہہ سکا تھا
"میں رکھو گی اگر آپ مجھے کچھ لے دیں کھانے کے لیے ۔”
اسامہ نے کار کو روکا اور تیزی سے اُترا
اور دھڑم کر کے دروازہ بند کیا
"توبہ فضول آدمی بس ایک بات کررہا ہے منہ بند رکھو ماروں گا مجھے نہیں کرنی شادی آپی صحیح کہتی تھی ماں باپ زبردستی کرواے گے اور کروادی سب بُرے ہیں اور کتنا خطرناک ہے میری دوستوں کو پتا چلے گا تو وہ ہنسے گی مجھ پر ابھی تو بچی تھئ میں ۔”
اسے رونا آرہا تھا
"ماما بابا آپ نے اچھا نہیں کیا ابھی تو میں نے باہر کے ملک دیکھنا تھا ۔”
وہ اب ہچکی لیتے ہوے روپڑی
"یہ بھی تو اچھا ہوا سکول سے جان چھٹی اب روز روز نہیں اُٹھنا پڑے گا۔”
وہ خوش ہوئی اس بچی کی بھی عجیب سے خواہشات تھی باہر پھرنا گھومنا انجوائی کرنا بس گھر میں تو کھبی نہ ٹکنا اور ہمیشہ یہی مشن تھا سکول کو آگ لگادینا یا چھٹی کرنے کے بہانے ڈھونڈنا پھر سارا دن وڈیوز، آرٹ اینڈ کرافٹ کا کام ٹی وی دیکھنا ڈھیر سارے ہاٹ فلیمنگ چیتوز کے ساتھ جوس کے ڈبے خالی کرنا وہ دونوں بہنیں ایسی ہی تھی ایک ہی جیسی مگر مزاج دونوں کے مختلف
وہ اندر آیا شاپر پھٹک کر اس کی گود میں پھینکا
اور سگریٹ کو ہنٹوں سے نکال کر بولا تو اس کی دھوا صبح کے چہرے پر پڑا تو وہ کھانستے ہوے پیچھے ہوئی
"اگر اب تم نے کچھ بولا تو میں تمھارا وہ حشر کروں گا کے تمھیں امی نانی سب یاد آجائیں گی ۔”
اس نے کھانس کر تیزی سے سگیرٹ اس کے منہ سے نکال کر شیشے کے باہر جلدی سے پھینکی
"خود تو مرے گے لیکن میں ابھی بہت سارا جینا چاہتی ہوں آپ کو پتا بھی ہے اس لنگز کالے ہوجاتے ہیں اور اپنے لپس دیکھے کتنے پرپل ہوگئے ہیں ایسا لگتا ہے جیسے انک پی ہو یک !۔”
وہ منہ بگاڑ کر فورن شاپر کھولا اس میں کے ایف سی کا برگر اور جوس کے ساتھ فرآئز تھے اس نے پہلے فرآئز کھانے کا سوچا اسامہ کو سمجھ نہیں آرہی تھی وہ اس تھپڑ جھاڑنے لگا کے صبح نے اسے چُپس آفر کیے
"تھینک یو یہ لے ۔”ہاتھ ہوا میں رہ گیا اور صبح اسے نہیں دیکھ رہی تھی وہ ایک ہاتھ میں اسے دیں شاپر میں تقریبا منہ گھسایا ہوا تھا اسامہ کے دل کو کچھ ہوا اس کے چھوٹے معصوم سے ہاتھوں میں پکڑا ڈبہ بھی بے حد چھوٹے لگ رہے تھے
اور وہ اب اس کے گالوں کو دیکھنے لگا اتنے چھوٹے سُرخ گالوں پہ وہ کیا تھپڑ ابھی مار سکتا تھا اس نے ہاتھ تیزی سے گرا کر اس کا ہاتھ پرے کیا
"خود کھاو اور میرا سر مت کھاو ۔”
"پاگل ہو اتنا فضول گندی چیز کھاو زومبی تھوڑی ہو میں تو چکن کھاو گی یم !۔”
وہ مزے سے بولی
****************
وہ لوگ صبح کو گھسیٹ رہے تھے بالوں سے اور اس کو لاتوں اور گھونسوں سے مارنے کے بعد پتھراوںُ کرنے لگے اور وہ آپی آپی پکار رہی تھی اس کا چہرہ اور جسم لہو ہوگیا تھا لیکن کوئی اسے بچانے کے لیے نہیں آیا تھا اور ثمرن چیخ چیخ کر انھیں روک رہی تھی کسی نے تیزاب کے بوتل اُٹھائی تو اس کی دلخراش چیخی حویلی میں گونجی
"نوری !۔”
وہ تیزی سے اُٹھی چہرے پہ پسینہ تھا اور سانسیں پھولی ہوئی تھی جبکہ حلق سوکھ گیا تھا اس نے مڑ کر دیکھا لیمپ کے ساتھ صلاح الدین کی تصویر لگی ہوئی تھی اسے صلاح الدین کی ضرورت محسوس ہوئی
اس نے ہاتھ بڑھا کر فون اُٹھایا اور کال ملانے لگی دو بار اُٹھائی نہیں گئی جب وہ تیسری بار ملانے لگی دین کا خود آگیا
"موشم ؟۔”
صلاح الدین کی سوئی ہوئی آواز پہ اس نے رونا شروع کردیا کے صلاح الدین کا دماغ الرٹ ہوگیا
"کیا ہوا موشم سب ٹھیک ہے نا ؟ موشی رو کیوں رہی ہو کچھ بتاو ۔”
"د د دین نوری !۔”
وہ ہچکی لیتے ہوے بولی
"موشم ! میری جان نکالوں گی بولو ہوا کیا ہے ؟ سب ٹھیک ہو مورے کو فون دوں ۔”
وہ اب واقعی بہت زیادہ پریشان ہوگیا تھا
"دین وہ لوگ نوری کو مارنے والے تھے اس کا چہرہ خوبصورت چہرہ خراب کرنے والے تھے ۔”
وہ زیادہ رونی لگی صلاح الدین نے گہرا سانس لیا
"میرا دل کررہا ہے تمھارا گلا دبا دو لڑکی کیا ہو کھبی تو اپنے شوہر کو سکون بخشو۔”
"دین میرا دل گھبڑا رہا آپ پلیز آجائیں ۔”
"بس ایک دن کی بات ہے میری جان میں پھر آجاوں گا ۔”
"آپ ابھی کیوں نہیں آسکتے ۔”
اس کا رورو کر بُرا حال ہورہا تھا
"ایک منٹ رونا بند کروں پاگل لڑکی !۔”
وہ اب خاصے غصے سے بولا وہ ایک دم چُپ ہوگئی
"رکھوں فون !۔”
وہ کہہ کر فون بند کر چکا تھا ثمرن کا منہ کھل گیا اس کے دل کو ٹھیس پہنچی وہ کتنا بدتمیز ہے وہ گھٹنے میں سر رکھ کررونے لگی تقریباً بیس منٹ بعد فون بجا اس نے دیکھا دین کا تھا اس نے غصے سے بند کرنا چاہا مگر اُٹھا لیا
"کیوں کیا ہے فون !نہ کرتے نیند خراب ہورہی تھی آپ کی ۔”
وہ غصے سے بولی
"موشم بعد میں غصہ کرنا باہر میکڈونلز والا کھڑا ہے اس سے آڈر رسیو کرو پیمنٹ میں کر چکا ہوں ۔”
"کیا ؟۔”
وہ حیرت سے اس کی بات سُن رہی تھی
"جو کہہ رہا ہوں وہ کروں مجال ہے جو کھبی تم میری سُن لو ۔”