Epi 16
"نہیں !میں اب بالکل نہیں مانو گی آپ میری ایک بچی کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں جبکہ میں دوسری ہرگز نہیں دوں گی ہمارا قصور بھی نہیں تھا پھر بھی میں نے اپنی پھول سی بچی آپ کے حوالے کی ۔”
انھوں نے جب آغا جان کی بات سُنی تو ان کا دماغ بھک سے اُڑھ گیا
"ہم وانی میں اپنے ساتھ دو لڑکیاں لے کر جاتیں ہیں ۔”
آغا جان سرد لہجے میں بولے
"تو آپ کو پہلے لے جانا چاہیے تھا اور میں ابھی کہو گی میرے بیٹے نے کچھ کیا ہی نہیں سارا قصور اس کے دوست کا تھا اسے کچھ کیوں نہیں کہتا میرے ہی بچوں کے پیچھے پڑ گئے آپ ۔”
امی کا ضبط ٹوٹ گیا تھا وہ نہیں برداشت کرسکتی تھی سب سے زیادہ دُکھ اس بات کا ثمرن کی قربانی ضائع گئی
"آپ اپنی بیٹی کو بلا دیں ورنہ آپ کے پاس کچھ نہیں بچے گا ۔”
"میں نہیں دیں سکتی اپنی بچی ۔”
ان کا دل تڑپ رہا تھا
"پہلے بھی تو دینی والی تھی اب آپ کو کیا ہوا ہے ۔”
وہ خاموش ہوگئی
"اپنے بیٹے کی اگر آپ زندگی چاہتی ہیں تو اپنے بیٹی کو ابھی میرے حوالے کریں اور میں یہ آخری بار کہہ رہا ہوں ۔”
**************
"آج ہی فلائٹ کیوں ہے ؟۔”
وہ تیار ہوکر باہر نکلا تھا جب اس کی کال آگئی اور اب اس کی دوست کی بات سُن کر وہ بے چینی سے بولا
"یار اب کوئی کیپٹن اویل نہیں کررہا تھا یہ فلائٹ چُنتے پتا نہیں سب نے ہی چھٹیاں لے لی تمھیں ہی آنا پڑے گا ۔”
"ہاں دو دن کیسے رہوں گا ۔”
وہ بڑبڑایا اور دروازہ کھول کر جس دشمن جاں کا سوچ رہا تھا وہی تھی اور ابھی اسی سوٹ میں تھی جسے تھوڑی دیر پہلے صلاح الدین نے دیا تھا اور زبردستی کہا تھا پہنو امیرالڈ گرین اور بلیک کامبنیشن جس پہ ہلکہ سا نیٹ اور موتیوں کا کام ہوا تھا بال اس نے فرنچ ناٹ میں کیے وہ اپنی تمام تر خوبصورتی مگر کمزوری سمیت اس کے سامنے موجود تھی
"اب تو بہت زیادہ مشکل ہوگیا ہے ۔”
"تو کیا کہہ رہا ہے دین شام کو ریڈی رہنا ۔”
"ٹھیک ہے ۔”
اس نے بے دلی سے کہتے ہوے فون بیڈ پہ پھینکا اور اس کے پاس آیا
"تم سے کس نے کہا تھا کے بال باندھ کر آتی ۔”وہ اس کے چوٹی کو پکڑتے ہوے بولا وہ ڈر گئی
"میں نے نہیں کیے وہ مورے نے کہا تھا مم میں آگئے سے کیا کہتی ۔”
صلاح الدین نے سینے پہ ہاتھ باندھ لیے
"میں پریشان ہوں اور تم موشم اپنی ہی پڑی ہے سب کتنے مطلبی ہو میرا تو کوئی سوچتا نہیں ہے ۔”
اس کی کہنی کی دیر تھی اور ثمرن کو شرمندگی ہوئی
صلاح الدین نے اسے اپنے ساتھ لگایا اور زور سے اسے بھینچا
I’m gonna miss you moosham
وہ لب اس کے پیشانی پہ رکھتے ہوے بڑبڑایا ثمرن ڈر گئی
"آپ کہاں جارہے !!۔”
صلاح الدین کو اس کے لہجے میں جیسے کسی کو کھونے کا بڑی شدت سے ڈر محسوس ہوا تھا
"ہاں جارہا ہوں میری تو قدر ہی نہیں کرتا ۔”
وہ اب سے تنگ کرنے کی ٹھان چکا تھا دیکھے تو سہی
کرتی کیا ہے
"دین پلیز کہی مت جاے میں اکیلی رہ جاو گی ۔”
وہ اس سے الگ ہوتے ایک دم وحشت زدہ ہوتے ہوے بولی
"میرے پاس آتی نہیں ہو ، کچھ کہتا ہوں تو میڈم کا ایسی حالت ہوجاتی جیسے میں قصائی ہوں اور تم کوئی قربانی کا بکرا تو میں کیا کروں گا ۔”
"آئیم سوری دین پلیز مجھے چھوڑ کر نہ جائے ۔
وہ بالکل رونے والی ہوگئی
صلاح الدین کو بہت ہنسی آئی
"اگر تمھیں وہ چور دیکھ لے تم ایک مرد سے وہ بھی اپنے شوہر اور اس کے سسرالی سے تو اس نے ہنس ہنس کر پاگل ہوجانا ہے کہ یہ وہی لڑکی ہے جس نے بھرے مجمے میں مارا تھا اور کیا مارا تھا کہ میں پٹھان خود حیران ہوگیا تم مادر بزرگ خانم سے مل لیتی تو تم ان کی فیورٹ ہوتی اور تمھارا ساتھ یہ سب ہوتا بھی نہیں ۔”
وہ ان کو سوچتے ہوے ہنس پڑا کاش وہ آجاتی
"وہ کون ہیں ۔”وہ اب اس کی ہر بات کا جواب دینا چاہتی تھی کیونکہ کہی وہ ناراض نہ ہوجاے
"آغا جان کی بڑی بہن ہے اور قسم سے بالکل لگتی نہیں ہے ایک تو وہ ابھی بھی ماشااللّہ سے سے جوان اور خوبصورت لگتی ہیں دوسرا فمینزم اگر کوئی ہے صحیح والا تو وہ ہماری خانم ہیں بہت محبت ہے انھوں نے لڑکیوں سے لڑکوں کو تو منہ ہی نہیں لگاتی بس ان کا ایک ہی لاڈلا ہے اسامہ باقی ہم نے تو پیار سب سے لے لیا تھا اسامہ پہ تو وہ جان چھڑکتی تھی بس باقی تو ان کی فیورٹ گھر کی لڑکیاں تھی ۔”
"واقعی میں !۔”
وہ حیران ہوئی تھی صلاح الدین نے اس کی آنکھوں کو پیار کیا
چشمان شما باعث می شود قلب من سریعتر شود
Your eyes makes my heart beat faster
"یہ آپ کیا کہتے ہیں ۔”
وہ سر اُٹھاتے ہوے بولا
"خود ڈھونڈو میں اب تیاری کرلوں میری امسٹرڈم کی فلائٹ ہے رات کو ۔”
"آپ کیوں جارہے ہیں ۔”
وہ الماری کھول کر اپنا بیگ نکلاتے ہوے بولا
"روزی روٹی کماو گا تو تمھارا خیال رکھ سکو گا ۔”
وہ شرارت سے اس کو دیکھتے ہوے بولا
"صبح واپس آجاے گے ۔”
وہ بے چینی سے اس کی طرف آئی
"جھلی ! صبح کیسے آسکتا ہوں امریکہ میں جب ہم دونوں ساتھ تھے تو ہمیں پاکستان پہنچتے ہوے ایک دن لگ گیا تھا اور میں جاوں گا وہاں ایک دن رُکو گا پھر دو دن بعد واپس آجاو گا تب تک تم اور مورے انجوائی کرنا ۔”
"اگر وہ لوگ آگئے ۔”
ایک خوف تھا جو دین کو لگ رہا تھا اس کا بہت دیر سے ختم ہونا ہے
"تمھارا ایمان مضبوط نہیں ہے موشم اگر ہوتا تو تم کسی سے بھی نہیں ڈرتی سواے اللہ کے ۔”
وہ اب خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی
"ڈرنا چھوڑ دوں واپس آو تو مجھے اپنی موشم واپس چاہیے اچھا سپیس ملی گی خود کو ان دو دن کے اندر اندر سنبھالوں مجھے وہی لڑکی چاہیے جس سے میں ایک سال سے بے انتہا عشق کرتا ہوں محبت بھی نہیں عشق ہیو یو گاٹ دیٹ ۔”
وہ حیرت سے اس شخص کو دیکھنے لگی اس شخص نے اس میں ایسا کیا دیکھا تھا جو اس سے عشق کر بیٹھا تھا وہ چلتے ہوے اس کے پاس آئی اور اس کی پشت سے لگ گئی اور اس کے گرد بازو پھیلائے اور اپنے آنسو سے بھری آنکھوں سے اس نے آہستہ آہستہ کچھ کہنے کی کوشش کی تھی
من
در
عشق
با
شما
ھستم
صلاح الدین ٹہر گیا
"میں نے صحیح کہا ہے کہ نہیں الادین صاحب ۔”
صلاح الدین مڑا اور اس
کو دیکھا اور اس پر جھک گیا اور اتنے کہا
من در عشق باشما ھستم
(مجھے تم سے محبت ہوگئی )
**********************
کالی رینج روور سُنہری حویلی کے اندر داخل ہوئی سب ان کے استقبال میں کھڑے ہوے تھے دروازہ کھلا اور سب سے پہلے بلال اُترا اور دوسری طرف آکر اس نے دروازہ کھولا اور ہاتھ آگئے کیا ایک بے انتہا گریس فل اور خوبصورت بزرگ اُتری وہ اس وقت نیوی بلیو شلوار قمیض میں ملبوس کے ساتھ ڈراک گرے شال اپنے گرد لپیٹے ہلکے سے گرے بالوں والی اور نیلی آنکھوں سمیت پٹھانوں والی نقوش کی حامل وہ آغا جان کی بڑی بہن ردا خانم تھی جو اپنے گردن پہ پہنا موتی کے نیکلس کو ٹھیک کرتی شان سے چل کر ان کے پاس آئی
"پخیر خانم جان !۔”
سب سے پہلے تائی اماں بڑی خوشی سے آگئے بڑھی
اور ان سے ملی
"کیسے ہو نازیہ ! ہادی پر صرف صبر کرسکتے ہیں میری جان !۔”
وہ پیار کرتے ہوے بولی تائی کی آنکھوں میں آنسو آگئے
"صبر نہیں آتا خانم جان وہ میرے جگر کا ٹکڑا کھا گئے ظالم !۔”
وہ خود پہ قابو نہ رکھ سکی
"صبر صبر رو نہیں مجھے سب سے ملنے دوں ۔”
"بالی !۔”
وہ مڑی اور بلال کو دیکھتے ہوے کہنے لگی
"جی دادی !۔”
"زرا وہ سپیشل سامان نکلانا ۔”
وہ سر ہلا کر مڑا
"خان کہاں ہے اور دین اسامہ اور ارباز ۔”
وہ ساری لڑکیوں سے مل کر ان کا پوچھنے لگی
"خانم جان آغا جان شہر گئے ہوے ہیں اسامہ بھی ان کے ساتھ ہی ہے اور ارباز کا اگزام تھا دین کو رہنے دیں ۔”
"کیوں کیا ہوا ۔”
وہ ان کے ساتھ چلتے ہوے حیرت سے بولی
"دین نے ہم سے سارے تعلق توڑ دیں ایک لڑکی کی خاطر !۔”
"کیا ؟۔”
انھوں نے حیرت اور خاصی اونچی آواز میں کہا
*************
اسامہ سٹیرنگ کو تھامے سختی سے تھامے خاصی ریش ڈرایونگ کررہا تھا اور جبکہ اس کے ساتھ اس کی بیوی یہ سوچتے ہوے اسامہ کی نسے پھٹنے کے قریب تھی اس نے ایک بچی سے شادی کر لی
آغا جان نے کہا تھا وہ یہ کام گھر میں نہیں کرسکتا تھا اس لیے اسے ان کے ایک فارم ہاوس لے جاے جو ایبٹ آباد میں واقع تھا اور اس کا ایسا حشر کردیں اور ایسا ڈرا دیں کے وہ جب اسے اپنے ساتھ لاے تو وہ بالکل گونگی ہوجاے
اسامہ سر ہلاتے ہوے بے انتہا نفرت سے اس بارہ سال کی لڑکی کو دیکھتے ہوے اپنی مسرڈیز جی وگین آڑ کی طرف بڑھا اور وہ بالکل گھبراتے ہوے کھبی اِدھر کھبی اِدھر دیکھ رہی تھی اس کی کالی خوبصورت موٹی آنکھیں کھبی اِدھر کھبی اُدھر دیکھ رہی تھی اس نے جامنی رنگ کی فراک پہنی ہوئ تھی جو اپنی دوست کی پارٹی میں جانے لگی تھی اسے کیا پتا تھا کے وہ کسی کی بیوی بن جاے گی شادی کے مطلب سے بھی وہ اتنے صیحح طرح سے واقف نہیں تھی آغا جان کے حکم سے امی نے روتے ہوے ثمرن کا ہی کالا ڈوپٹہ پہنا دیا
"امی مجھے نہیں جانا ابو !۔”
وہ بچی رونے لگی تھی اور ان کا کلیجہ پھٹنے کے قریب تھا
"میری جان مت رو بہادر بنا ہے تم نے اور تم کون سا اکیلی ہو آپی ہے نا تمھارے ساتھ رونا نہیں میری بچی کچھ کہے تو آپی کو بتادینا دیکھنا آپی آپ کو کچھ نہیں ہونے دیں گی ۔”
جھوٹی تسلی سے اس کے معصوم جسم کو گھیرے میں لیے دلاسا دیں رہے تھے
"ابو یہ زیادتی ہے رینی کا صبر نہیں آیا تھا اب نوری !۔”
ارسل بہت پریشان تھا
"تم چُپ کروں میری نظروں سے دور ہوجاو آج میری دوسری بیٹی مجھ سے جدا ہورہی ہے اللّٰہ کھبی تمھیں سکھ نہ دیں میری دو بچی چھین لی ۔”
وہ نوری کو لگاے غصے سے بول رہی تھی ارسل شرمندہ ہوگیا کاش وہ ایسا نہ کرتا کاش تو آج اس کی بہنوں کا مستقبل نہ تباہ ہوتا یہی چیز اس کو ساری زندگی پاگل کرتی رہے گی اسے یقین تھا
"تمھیں انویٹیشن دینے ہوگا جانے کا جاو !۔”
وہ دھاڑے نور ڈر گئی اور رونے والی ہوگئی پھر دل میں سوچا آپی آپی کو بتاو گی آپی کے پاس جانا ہے امی نے کہا تھا
"کون سی کار میں جانا ہے ۔”
وہ خود کو تسلی دیتے ہوے بولی
"وہ سامنے تمھارا شوہر کھڑا ہے اب جلدی دفع ہو ورنہ کھال اُدھیڑ دوں گا ۔”
"میں پولیس کو بتاو گی اگر آپ نے ایسا کیا انکل !۔”
وہ تھوڑی سی بہادری سے بولی وہ کیوں ڈرے وہ کسی سے نہیں ڈری وہ بھری لاڈلی سب کو فٹافٹ جواب دیتی تھی کیسے چُپ رہتی ان بہنوں میں یہی خصوصیت تھی وہ بہت کم ڈرا کرتی تھی اور بولڈ انتہا کی تھی بچی کیا بڑی آغا جان مڑتے ہوے رُک گئے اور حیرت سے اسے دیکھنے لگے جو سُرخ آنکھوں سے انھیں دیکھ رہی تھی لیکن تھوڑا ڈر ابھی بھی چہرے پہ تھا بچی تھی آخر !
"گستاخ !۔”
وہ اس مارنے لگے تھے کہ وہ جلدی سے بھاگتے ہوے گاڑی کی طرف آئی اس کا ڈوپٹہ اُتر گیا تھا اور اسامہ سگریٹ کے کاش لینے لگا وہ انتظار کررہا تھا مگر وہ آہی نہیں رہی تھی اسے غصہ آرہا تھا بے پناہ اس نے ہارن بجانا شروع کردیا نور نے دروازہ کھولا مگر دروازہ خاصا بھاری تھا اس نے بجانا شروع کردیا اسامہ چونکہ
اس نے دیکھا تو وہی بچی اسے مشکلوں سے کھولنے کی کوشش کررہی تھی اس نے تیزی سے دروازہ کھولا
وہ اب چڑھنے لگی اور بڑی ہی مشکلوں سے
"آپ میری مدد کرسکتے ہیں !۔”
امی نے منع کیا تھا اگر اس نے اسامہ کو بھائی کہا وہ پھر کہہ رہی تھی کچھ مت کہنا اسے اور اگر وہ تمھیں کچھ کہے تو شور کرنے لگ جانا
"خود چڑھوں ! ”
وہ غصے سے بولا
اس نے ہمت کی مگر اس سے ہو نہیں رہا تھا اسامہ نے تیزی سے اس کا بازو پکڑا اور کھینچا کے وہ درد سے چیخ پڑی
"امی !۔”
"آواز نیچی رکھو !۔”
وہ دھاڑا
"آپ مجھ پہ چیخی نہیں میں پولیس کو بلاؤں گی میرے ارشد بھائی آپ کو مارے گے ۔”
وہ آنسو اور غصے سے کہنے لگی
"کیا کہا تم نے !۔”
اسامہ کو پہلے حیرت ہوئی پھر غصے سے بولا
"آپ ڈانٹ کیوں رہے ہیں مجھے میں نے اور آپی نے تو کچھ نہیں کیا ڈانٹ تو بھائی کو پڑنی چاہئ تھی آپ بھی ان انکل کی طرح گندے ہیں ۔”
اسامہ کو دل کیا الٹے ہاتھ کا تھپڑ اسے لگاے مگر کچھ روک رہا تھا اسے
"دروازہ بند کرو !۔”
"وہ بہت دور ہے مجھ سے بند نہیں ہورہا اور آپ نے میرے بازو میں درد کردیا ۔”
کیا پٹھکا بچی تھی اسامہ نے اس کی طرف آکر بہت ہی غصے سے دروازہ بند کیا
اس کی نظر نور کی آئی پوڈ کی طرف بھری جسے اس نے سختی سے تھاما ہوا تھا
"یہ کیا اِدھر دوں !۔”
"نہیں یہ نہیں دوں گی ۔”
وہ ڈر کر پیچھے ہوئی
"کیوں نہیں دوں گی دیکھو لڑکی میرے سے مار نہ کھا لینا ۔”
"یہ فون نہیں ہے یہ میرا آئی پوڈ ہے اس میں امی بابا کی آوازیں آئی گی ریکارڈ میں سُنو گی تو انھیں مس نہیں کروں گی اور رو گی نہیں تو پھر آپ سب مجھے مارے گے نہیں ۔”
وہ معصومیت سے بولی ایک منٹ کے لیے اسامہ ٹہر گیا
اور پھر اس نے اس کے آئی پوڈ کو دیکھا جس کے ساتھ ہیڈ فون بھی لگے ہوے تھے
اس نے چھینا چاہا تھا مگر کچھ تھا جو اسے روک رہا تھا
"آواز نہیں نکالو گی !۔”
وہ سختی سے کہہ کر گاڑی ریورس میں کرنے لگا
"تھینک یو !۔”
وہ اسے دیکھ کر کہنے لگی وہ ایک دم خاموش ہوگیا اور سگیرٹ باہر پھینکا اس کی نیلی آنکھوں میں عجیب سے کرب تھا س
***********
وہ اس کے کوٹ کے بٹن بند کررہی تھی جبکہ صلاح الدین نے اس اپنی کیپ پہنائی
"کھانا ٹائیم پہ کھانا ، میڈ میں نے منگوا دیں ہے ،دونوں کو کوئی ضرورت نہیں ہے کام کرنے کی میڈسن میں نے باکس میں رکھ دیں ہے اسے دیکھ لینا باہر جانا ہے تو یہ لے میڈم چابی حاضر ہے گھومو پھیرو شاپنگ کروں چیک بھی رکھ دیا کریڈٹ کارڈ بھی ہے سب کچھ بس میں نہیں موجود یہ سب سے بڑی کمی ہے ویسے بتاو تمھارے لیے کیا لاو ؟۔”
وہ جھک کر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوے بولا ثمرن نے اس کا نام کی پلیٹ کو ٹھیک کیا
"الادین !۔”
"جی الادین کی موشم !۔”
"ویسے الادین کی جسمین ہوتی ہے موشم نہیں ۔”
وہ تھوڑا مسکرا کر بولی
"جو بھی ہو لیکن تم موشم ہو وہ نام تو نہیں بدلنے والا
اگر امی ابو کے گھر جانا چاہتی ہو تو ضرور جاوں مگر میرا دل تھا میرے ساتھ چلتی ۔”
"آپ کو کیسے پتا !۔”
دین نے اسے پیار کیا
"دل کو دل سے راہ ہوتی ہے میری جان ۔”
وہ مڑ کر شیشے میں ٹائی ٹھیک کررہا تھا ثمرن نے اس کے بازو پہ سر رکھ دیا
"آپ بہت اچھے ہیں دین !۔”دین مسکرایا
"یاد آیا تمھارے کتنے سیمسٹر ہوے ہیں ۔”
ثمرن چونک پڑی
"دو !۔”
"اوکے جاکر یونی میں ری ایڈ میشن کرواوں تم !۔”
"دین مجھے سے نہیں ہوں پاے گا ۔”
"مار کھاو گی اگر انڈسٹرل ڈیزائن نہیں ہوتا تو کچھ اور کروں مگر مجھے پڑھی لکھی لڑکی چاہئیے بس !ایک کام کروں اکنامکس میں گھس جاو ۔”
وہ شرارت سے بولا
"اللہ صلاح الدین اکنامکس سے اچھا ہے میں آپ سے مار کھا لو !۔”
وہ ہنس پڑا

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔