Category: عکسِ خیال
-

کیسا سُنسان ھے ، سَحر کا سماں پتّیاں محوِ یاس ، گھ…
کیسا سُنسان ھے ، سَحر کا سماں پتّیاں محوِ یاس ، گھاس اُداس صُبح ھونے کو ھے ، اُٹھو ناصرؔ گھر میں بیٹھے ھو کیوں ، نراس اُداس ؟؟ ”ناصر کاظمی“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

”تصوف“ ھم تصوف کے خرابوں کے مکیں وقت کے طُولِ ال…
”تصوف“ ھم تصوف کے خرابوں کے مکیں وقت کے طُولِ المناک کے پروردہ ھیں ایک تاریک ازل ، نُور اَبد سے خالی ھم جو صدیوں سے چلے ھیں تو سمجھتے ھیں کہ ساحل پایا اپنی دن رات کی ، پا کوبی کا حاصل پایا ھم تصوف کے نہاں خانوں میں بسنے والے اپنی پامالی کے…
-

بات کچھ سُوجھی نہیں ھے ، تجھ سے کہنے کے لیے یہ تحی…
بات کچھ سُوجھی نہیں ھے ، تجھ سے کہنے کے لیے یہ تحیر بھی بہت ھے ، زندہ رھنے کے لیے آؤ بے سوچے ، زمانے بھر کی ھم باتیں کریں عمر تو ساری پڑی ھے ، کچھ نہ کہنے کے لیے ”ن .م. راشد“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

”مِری محبت جواں رھے گی“ مثالِ خورشید و ماہ و انجم…
”مِری محبت جواں رھے گی“ مثالِ خورشید و ماہ و انجم مِری محبت جواں رھے گی عروسِ فطرت کے حُسنِ شاداب کی طرح جاوداں رھے گی شعاعِ اُمید بن کے ، ھر وقت رُوح پر ضو فشاں رھے گی شگفتہ و شادماں کرے گی شگفتہ و شادماں رھے گی میری محبت جواں رھے گی کیا…
-

”حَسن کُوزہ گر“ سے ایک ٹکڑا۔ تیرے جیسی عورتیں، جہ…
”حَسن کُوزہ گر“ سے ایک ٹکڑا۔ تیرے جیسی عورتیں، جہاں زاد !! ایسی اُلجھنیں ھیں جن کو آج تک کوئی نہیں ، سُلجھ سکا جو میں کہوں کہ میں سُلجھ سکا تو سر بسر فریب اپنے آپ سے کہ عورتوں کی ساخت ھے وہ طنز اپنے آپ پر جواب جس کا ھم نہیں ”ن.م.راشد“ بشکریہ…
-

”اظہار اور رسائی“ سے ایک ٹکڑا۔ مُو قلم ، ساز، گلِ…
”اظہار اور رسائی“ سے ایک ٹکڑا۔ مُو قلم ، ساز، گلِ تازہ ، تِھرکتے پاؤں بات کہنے کے بہانے ھیں بہت آدمی ، کس سے مگر بات کرے ؟؟ بات جب حیلۂ تقریبِ ملاقات نہ ھو اور رسائی کہ ھمیشہ سے ھے کوتاہ کمند بات کی غایتِ غایات نہ ھو ایک ذرّہ کفِ خاکستر کا…
-

نظم ”کشاکش “ سے ایک ٹکڑا۔ شبِ دوشینہ کے آثار کہیں…
نظم ”کشاکش “ سے ایک ٹکڑا۔ شبِ دوشینہ کے آثار کہیں بھی تو نہیں تیری آنکھوں میں ، نہ ھونٹوں پہ ، نہ رخساروں پر اور نمودار ھو بھی جائیں تو کیا ؟؟ آگہی ھو بھی ، تو حاصل نہیں کچھ اِس کے سِوا کہ غمِ عشق چراغ تہہِ داماں ھو جائے زندگی اور پریشاں…
-

راشد شاعر نہیں ، لفظوں کے مجسمہ ساز ھیں ۔ وہ نظمیں…
راشد شاعر نہیں ، لفظوں کے مجسمہ ساز ھیں ۔ وہ نظمیں نہیں کہتے ، سانچے میں ڈھلے ھُوئے مجسّمے تیار کرتے ھیں۔ آزاد نظم کو ایک نیا اسلُوب ، نیا لہجہ اور نئی ھیئت عطا کرنے والوں میں ن۔م۔راشد سرِ فہرست ھیں۔ اُن کی ایک لازوال نظم ”اندھا کباڑی“ ضیا محی الدین کی پڑھت…
-

”تیرے ھونٹوں کا لَمس“ تیرے رنگیں ، رَس بَھرے ھونٹ…
”تیرے ھونٹوں کا لَمس“ تیرے رنگیں ، رَس بَھرے ھونٹوں کا لَمس جس سے میرا جسم ، طوفانوں کا جَولاں گاہ ھے جس سے میری زندگی ، میرا عمل گمراہ ھے میری ذات ، اور میرے شعر افسانہ ھیں. تیرے رنگیں رَس بھرے ھونٹوں کا لَمس اور پھر ”لمسِ طویل“ جس سے ایسی زندگی کے…
-

اب تو اِس شہر کے سناٹے سے ، ڈر لگتا ھے اپنے اندر ھ…
اب تو اِس شہر کے سناٹے سے ، ڈر لگتا ھے اپنے اندر ھی ، کوئی شہر بسایا جائے ”ن.م.راشد“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house