Category: عکسِ خیال
-

”ٹُوٹ جائیں وہ پٹڑیاں ، اور چُھوٹ جائیں وہ گاڑیاں …
”ٹُوٹ جائیں وہ پٹڑیاں ، اور چُھوٹ جائیں وہ گاڑیاں ، جو تمہیں مجھ سے دُور لے جاتی ھیں“ ”اَمرتا پریتم“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

ھائے ، کیا لوگ ھیں جنہیں تُو نے اپنے اِن باکس تک …
ھائے ، کیا لوگ ھیں جنہیں تُو نے اپنے اِن باکس تک رسائی دی. ”احمّد فرھاد“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

تم سوچو!! اگر واقعی کوئی ایسا آدمی ھم سے بچھڑ جائے…
تم سوچو!! اگر واقعی کوئی ایسا آدمی ھم سے بچھڑ جائے ، جس کے ساتھ زندگی گزارنے کو جی چاھتا تھا ، تو اُس کے فراق کی دیوانگی ھمیں کیا کچھ کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی ؟؟ ”اَمرتا پریتم“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

25 منٹ کا یہ افسانہ ”بادشاھت کا خاتمہ“ اور اس میں …
25 منٹ کا یہ افسانہ ”بادشاھت کا خاتمہ“ اور اس میں آر۔جے صائمہ کی صداکاری سننے والے کو جیسے جکڑ ھی لیتی ھے کمال کی کاوش ھے۔ جیسے منٹو کے افسانے میں ایک نئی روح پھونک دی ھو۔ آپ کی سماعتوں کی نذر ھے۔ ”بادشاھت کا خاتمہ“۔ من موھن نے ریسیور رکھ دیا اور مُسکراتا…
-

شہزادی !! تجھے کون بتائے تیرے چراغ کدے تک کتنی محر…
شہزادی !! تجھے کون بتائے تیرے چراغ کدے تک کتنی محرابیں پڑتی ھیں ، کتنے دَر آتے ھیں ”ثروت حسین“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

اکتفا کر لیا ، بس دیکھتے رھنے پہ تجھے ورنہ تُو جس …
اکتفا کر لیا ، بس دیکھتے رھنے پہ تجھے ورنہ تُو جس کا مقدر ھو ، وہ کیا کچھ نہ کرے ؟؟ ”عابد ملک“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

ایک زمانہ تھا کہ طلعت حسین کی آواز کا طوطی بولتا ت…
ایک زمانہ تھا کہ طلعت حسین کی آواز کا طوطی بولتا تھا۔ آج اُن کی پڑھی ھُوئی ن۔م۔راشد کی لازوال نظم ”حسن کُوزہ گر“ نظر سے گزری۔ آپ کی سماعتوں کی نذر ھے۔ حسن کوزہ گر (4). جہاں زاد !! کیسے ھزاروں برس بعد اک شہرِ مدفُون کی ھر گلی میں مِرے جام و مینا…
-

راشد کا مخاطب بدلتی ثقافتوں میں حیران کھڑا تعلیم ی…
راشد کا مخاطب بدلتی ثقافتوں میں حیران کھڑا تعلیم یافتہ شخص ھے۔ ان کی شاعری میں جذبات بھی نظریات کے سائے میں میچور دکھائی دیتے ھیں۔ وہ نرم نہیں بلکہ کھردرے جذبات کے شاعر ھیں۔ زندگی سے ڈرتے ھو ؟ (ضیا مُحی الّدین کی آواز میں۔) زندگی سے ڈرتے ھو ؟ زندگی تو تم بھی…
-

راشد کی علامتی شاعری کو اُن کی لفاظی قرار دیا گیا …
راشد کی علامتی شاعری کو اُن کی لفاظی قرار دیا گیا جب کہ راشد تشکیک زدہ معاشرے کو نئے رجحانات اور افکار سے آشنا کرنا چاھتے تھے۔ راشد نے نئے افکار کے حامل ، اِرتقا اور جدت سے ھم آھنگ اور باعمل افراد پر مشتمل معاشرہ تشکیل دینے کی بات کی۔ چلا آ رھا ھُوں…
-

یوں لگتا ھے ، دین و دنیا چُھوٹ گئے مجھ سے تیرے شہر…
یوں لگتا ھے ، دین و دنیا چُھوٹ گئے مجھ سے تیرے شہر کی بس , کیا چُھوٹی ھے۔ ”تہذیب حافی“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house