منتخب غزلیں

واسطہ کوئی نہ رکھ کر بھی ستم ڈھاتے ہو تم دل تڑپ اٹ…

واسطہ کوئی نہ رکھ کر بھی ستم ڈھاتے ہو تم
دل تڑپ اٹھتا ہے اب کاہے کو یاد آتے ہو تم

میری سب آزادیاں بندہ نوازی پر نثار
اے خوشا قیدِ وفا زنجیر پہناتے ہو تم

لاتے ہو کیفِ طرب دیتے ہو پیغامِ حیات
کیا بتاؤں ساتھ کیا لے کر چلے جاتے ہو تم

اس طرح چھپتے ہو جلوؤں کی فراوانی کے ساتھ
میں سمجھتا ہوں کہ جیسے سامنے آتے ہو تم

سن کے میرا حال ہیں آنکھیں نہ ملنے کے وجوہ
یہ بھی ہو سکتا ہے شاید اشک بھر لاتے ہو تم

بھیج کر خوش بو ہواؤں میں باندازِ پیام
کیا یہ سچ ہے آج یوں میری طرف آتے ہو تم

دل گزاری بھی لیے ہے امتیازِ حسن و عشق
خون رو دیتا ہوں میں اور اشک پی جاتے ہو تم

چاند میں رنگت تمہاری پھول بھی تم سے بسے
کھینچتی ہیں دل فضائیں یاد آ جاتے ہو تم

تم سے ہے آراستہ جذبات کا تازہ چمن
جیسی رت ہوتی ہے ویسا پھول بن جاتے ہو تم

ذکر اس کا ہے رضاؔ نے کیں وفائیں یا نہیں
تم نے آخر کیا کیا کاہے کو شرماتے ہو تم

(رضا لکھنوی)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/