افسانے

آپ سب کو ایک فلم "فتنہ” تو ضرور یاد ہوگی… سنہ 2008 میں آنے والی یہ فلم بہت زیا…

آپ سب کو ایک فلم "فتنہ” تو ضرور یاد ہوگی… سنہ 2008 میں آنے والی یہ فلم بہت زیادہ مشہور ہوئی .. یہ فلم واقعی ہی ایک فتنہ ثابت ہوئی تھی.. اس فلم کے ریلیز ہوتے ہی دنیا بھر کے مسلمانوں میں اشتعال پھیل گیا تھا.. دنیا بھر میں جہاں کہیں کوئی مسلمان رھتا تھا اس نے اس فلم کی پرزور مذمت کی.. پاکستان سمیت دنیا کے تمام مسلم ممالک میں شدید احتجاج کیا گیا. شدید مظاہرے کیے گئے جبکہ غیر مسلم ممالک میں بھی وہاں کے رھنے والے مسلمانوں نے انفرادی طور پر احتجاج کیا…

یہ فلم ہالینڈ کے ایک سیاستدان گیرٹ وائیلڈرز نے پروڈیوس کی تھی. یہ فلم بنائی تو گیرٹ نے تھی لیکن اس فلم کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچانے میں ایک اور متعصب اسلام مخالف شخص کا کردار بہت اہم تھا… یہ شخص تھا آرنوڈ وین ڈورن… ایک ایسا متعصب شخص اور ہالینڈ کا نامی گرامی سیاستدان جو پیدائش کے زمانے سے ہی کٹر عیسائی تھا اس کی گھٹی میں اسلام سے شدید نفرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی.. چنانچہ جب آرنوڈ نے فلم کی تقسیم کا ذمہ لیا تو اس اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر کے فلم کو دنیا کے ہر کونے میں پہنچا دیا..

حسب توقع مسلمانوں کی جانب سے احتجاج کی شدید ترین لہر اٹھی جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا. یہ ایک طرح سے اس فلم کی کامیابی کا اعلان تھا. فلم کیا تھی؟ جھوٹ اور پراپیگنڈا کا ایک ملغوبہ تھا. اس میں مسلمانوں کو ایک خوفناک اجڈ اور جاھل مخلوق کے طور پر پیش کیا گیا تھا.. ایسی ایسی بکواس کی گئی تھی جس کا ذکر کرنا بھی ناقابلِ برداشت ہے…

یہ سب اسلام سے اس نفرت کا نتیجہ تھی جو اہل مغرب کے عیسائی خاندانوں میں بچوں کو شروع سے ہی ، ایک گھٹی کی طرح دی جاتی تھی.. فلم کی کامیاب تقسیم کے بعد وہ بہت مطمئن اور خوش تھا کہ اس نے یہ کام کر کے عیسائیت کی عظیم خدمت کی ہے.. ہالینڈ بھر میں اسے اس حوالے سے بہت ہی عزت احترام دیا جاتا تھا اب وہ پورے ملک میں ایک سچے مسیحی کے طور پر مشہور ہوچکا تھا…

لیکن ایک طرف تو یہ سب چل رہا تھا اور دوسری طرف اس کے اندر ایک بے نام سی بے چینی دن بہ دن بڑھتی جا رہی تھی.. اسے لگ رہا تھا کہ اس سے کہیں نا کہیں کچھ غلط ہو گیا ہے بلکہ بہت زیادہ غلط ہوگیا ہے؟. اگر یہ دین اسلام ظلم کا دین ہے تو پھر اس دین کے ماننے والے، جو اربوں کی تعداد میں ہیں وہ کیوں اور کیسے اپنے دین سے بے پناہ محبت کرتے ہیں؟ یہ سوالات اس کے اندر ہی اندر چلتے رہتے تھے..

سنہ 2011 کے شروع کی بات ہے کہ ایک روز بیٹھے بیٹھے اس کے اندر آواز ابھری کہ میں اس دین کا مطالعہ کروں گا اور اس کے سچ کا کھوج لگاؤں گا… لیکن اس سچ کی تلاش کے سفر کو اکیلے خود طے کروں گا کسی سے کوئی مدد نہیں لوں گا… اس نے ایک قرآن پاک لیا اور دوسرا سیرت کی کتابیں لیں اور گھر کے ایک کونے میں بیٹھ کر ان کے مطالعہ شروع کر دیا.. دن ہفتے مہینے گزرنے لگے وہ جنونی بن کر مسلسل مطالعہ کرتا رہا.. یہ کتابیں اس کی زندگی کی سب سے قیمتی کتابیں بن گئیں تھیں..ایک سال بعد جب وہ گھر سے باہر نکلا تو وہ مکمل طور پر تبدیل ہو چکا تھا..

پھر فروری 2013 میں دنیا اس وقت حیرت میں ڈوب کر رہ گئی جب اس کے مشہور ٹویٹر اکاؤنٹ پر عربی میں کلمہ شہادت لکھا ہوا نظر آیا…

وہ مسلمان ہو گیا تھا..

وہ سیاستدان جس کی پہچان ہی متعصب عیسائی رہنما کی تھی. جس نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بننے والی زہریلی فلم کو تقسیم کرنے کا ذمہ دار تھا.

پھر معاملہ یہاں تک ہی محدود نہیں رہا تھا سنہ 2014 میں اس کے بیٹے الیگزینڈر نے بھی اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا.. متعصب حلقوں میں صف ماتم بچھ گئی کیونکہ فلم کا اثر الٹا ہو رہا تھا.. لوگ سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ اس قدر نفرت پھیلانے والا کا زہن مکمل طور پر بدل سکتا ہے تو اس کے پیچھے وجہ کیا ہے؟

اپنے پہلے حج کے موقع پر وہ ان کے دربار میں شرمندہ ہاتھ باندھے کھڑا تھا جو اپنے بدترین دشمنوں کو بھی معاف کر کے سوچنے پر مجبور کر دیا کرتے تھے.. اس کے آنسو تھم نہیں رہے تھے اور زبان سے مسلسل معافی مانگتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا.. کہنے لگا پھر میرے اندر سکون پھیل گیا.. مجھے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم میرے پاس ہی موجود ہیں اور مجھے معاف کر چکے ہیں…

اس نے کسی سے کچھ نہیں پڑھا یا سیکھا تھا.. اپنی مرضی سے اسلام کا مطالعہ کیا اور پھر اپنی مرضی سے مسلمان ہوا تھا.. اس کا اسلام ہم سب پیدائشی اسلام والوں سے الگ ہی شان والا تھا…

منقول۔



Source

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/