منتخب غزلیں

وہ سرد فاصلہ بس آج کٹنے والا تھا میں اک چراغ کی…

وہ سرد فاصلہ بس آج کٹنے والا تھا
میں اک چراغ کی لو سے لپٹنے والا تھا

بہت. بکھیرا مجھے میرے مہربانوں نے
مرا وجود ہی لیکن سمٹنے والا تھا

بچا لیا تری خوشبو کے فرق نے ورنہ
میں تیرے وہم میں تجھ سے لپٹنے والا تھا

اسی کو چومتا رہتا تھا وہ، کہ اس کو بھی
عزیز تھا وہی بازو، جو کٹنے والا تھا

مجھی کو راہ بدلنی تھی، سو بدل ڈالی
کہیں پہاڑ بھی ٹھوکر سے ہٹنے والا تھا

تلاش جسکی تھی وہ حرف مل گیا ورنہ
میں ایک سادہ ورق اور الٹنے والا تھا

یہ کس کو تیر چلانے کا شوق جاگ اٹھا
وہ باز میری طرف ہی جھپٹنے والا تھا

(کیفی وجدانی)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/