" وصال " وہ نہیں تھی تو دل اک شہرِ وفا …
" وصال "
وہ نہیں تھی تو دل اک شہرِ وفا تھا جس میں
اس کے ہونٹوں کے تصور سے تپش آتی تھی
اس کے انکار پہ بھی پھول کِھلے رہتے تھے
اس کے انفاس سے بھی شمع جلی جاتی تھی
دن اس امید پہ کٹتا تھا کہ دن ڈھلتے ہی
اس نے کچھ دیر کو مل لینے کی مہلت دی ہے
انگلیاں برق زدہ رہتی تھیں جیسے اس نے
اپنے رخساروں کو چھونے کی اجازت دی ہے
اس سے اک لمحہ الگ رہ کے جنوں ہوتا تھا
جی میں تھی اس کو نہ پائیں گے تو مر جائیں گے
وہ نہیں ہے تو یہ بے نور زمانہ کیا ہے
تیرگی میں کسے ڈھونڈیں گے کدھر جائیں گے
پھر ہوا یہ کہ اُسی آگ کی ایسی رَو میں
ہم تو جلتے تھے، مگر اس کا نشیمن بھی جلا
بجلیاں جس کی کنیزوں میں رہا کرتی تھیں
دیکھنے والوں نے دیکھا کہ وہ خرمن بھی جلا
اک زولیخائے خود آگاہ کا دامن بھی جلا
(مصطفیٰ زیدی)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی
If he was not there then the heart was a city of loyalty in which
The Flames used to come from the imagination of her lips
Flowers used to open even on his denial.
The Candle was also lit by his words.
The day used to cut on the hope that the day was going on
And he gave respite for a while.
Fingers used to be lightning like he
Allowed to touch my rkẖsạrw ں
There was a jinn from him a moment.
Yes, I was not able to find it then I will die.
If he is not there then what is this light time
Who will you find in ty̰rgy̰, where will you go?
Then he will be in the fire of hell.
We were jealous, but his aina also burnt.
The lightning that used to live in the maids
Those who saw that they were burnt too.
A zwly̰kẖạỷ ے is also burnt.
(Mustafa Zaidi)
Al-ạlmrsl :-:


