منتخب غزلیں

وہ میری راہ میں کانٹے بچھائے میں لیکن اسی کو پیار …

وہ میری راہ میں کانٹے بچھائے میں لیکن
اسی کو پیار کروں اس پہ اعتبار کروں

شاعر، ادیب، نقاد احمد ہمدانی کی وفات
February 26, 2015
ممتاز، شاعر، ادیب، نقاد احمد ہمدانی 26فروری 2015ء کو80برس کی عمر میں راہی ملک عدم ہوئے، ان کی تدفین اگلے روز 27فروری کو بعد از نماز جمعہ کراچی ہی میں ہوئی۔
منتخب کلام
وہ میری راہ میں کانٹے بچھائے میں لیکن
اسی کو پیار کروں اس پہ اعتبار کروں
……..
کیوں ہمارے سانس بھی ہوتے ہیں لوگوں پر گراں
ہم بھی تو اک عمر لے کر اس جہاں میں آئے تھے
…..
عجیب وحشتیں حصے میں اپنے آئی ہیں
کہ تیرے گھر بھی پہنچ کر سکوں نہ پائیں ہم
…..
تو میسر تھا تو دل میں تھے ہزاروں ارماں
تو نہیں ہے تو ہر اک سمت عجب رنگ ملال
…….
اب یہ ہوگا شاید اپنی آگ میں خود جل جائیں گے
تم سے دور بہت رہ کر بھی کیا پایا کیا پائیں گے
دکھ بھی سچے سکھ بھی سچے پھر بھی تیری چاہت میں
ہم نے کتنے دھوکے کھائے کتنے دھوکے کھائیں گے
کل کے دکھ بھی کون سے باقی آج کے دکھ بھی کے دن کے
جیسے دن پہلے کاٹے تھے یہ دن بھی کٹ جائیں گے
عقل پہ ہم کو ناز بہت تھا لیکن یہ کب سوچا تھا
عشق کے ہاتھوں یہ بھی ہوگا لوگ ہمیں سمجھائیں گے
آنکھوں سے اوجھل ہونا کیا دل سے اوجھل ہونا ہے
تجھ سے چھٹ کر بھی اہل غم کیا تجھ سے چھٹ جائیں گے
ہم سے آبلہ پا جب تنہا گھبرائیں گے صحرا میں
راستے سب تیرے ہی گھر کی جانب کو مڑ جائیں گے
….
منہ اندھیرے گھر سے نکلے پھر تھے ہنگامے بہت
دن ڈھلا تنہا ہوئے اور رات بھر پگھلے بہت
رنج کے اندھے کنویں میں رات اب کیسے کٹے
دیکھنے کو دن میں دیکھے چاند سے چہرے بہت
پھر بھی ہم اک دوسرے سے بد گماں کیا کیا رہے
جھوٹ ہم نے بھی نہ بولا تم بھی تھے سچے بہت
تھا ارادہ ان کے گھر سے بچ کے ہم نکلیں مگر
ہر قدم پر ان کے گھر کے راستے آئے بہت
ان دنوں رہتے ہیں لوگوں سے ہمیں کیا کیا گلے
اور لگتے بھی ہیں ہم کو لوگ سب اچھے بہت
پیڑ اپنے دشت میں اب ہم لگا کر کیا کریں
دھوپ نے پھیلا دیئے ہیں دور تک سائے بہت
…………………….


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/