بلیک روز سمرین شاہ قسط نمبر 2 The earth has …

???? سمرین شاہ
???? قسط نمبر 2
The earth has a music for those who listen
~William Shakespeare
میں کمرئے میں بیٹھی پیکنگ کررہی تھی ساتھ لیپ ٹاپ آن کیے
امریکن ہارر سٹوری کی asylum بھی دیکھ رہی تھی
مجھے ہارر چیزوں سے اوبزیشن سی تھی گو کے کھبی کھبار ڈر جاتی لیکن پھر مطمن بھی ہوجاتی تھیں کیونکہ نانو میرے ساتھ سوتی ہے اوپر سے ان کا کہنا تھا جو نماز پڑھتا ہے ساتھ میں آیت الکُرسی کا ورد کریں اسے تو کوئی نقصان نہیں پہنچتا اس لیں میں ریلکس انداز میں ڈھیروں ایڈونچر کرتی اب ہارر ناولز اور مویز بھی کسی ایڈونچر سے کم ہے کیا ؟”
ہاں تو میں بڑے امہناک سے سین دیکھ رہی تھی ایک نرس ائی سی یو کے قریب آرہی تھی مجھے پکا لگ رہا تھا کوئی ضرور آگئے ہوگا اُف ایک چیز ہارر فلم میں مجھے بہت بُری لگتی ہے اتنا سلیو موشن اتنی دیر میں تو بھوت بھی اپنا سر پیٹ لیں گا جتنا یہ لوگ آہستہ آہستہ اس جگہ کو پہنچتے ہیں ہاں تو جیسے میں نے سوچا تھا ویسے ہی ہوا لیکن ائپیسوڈ ختم ہوچکی تھیں
میں نے بےزاری سے سے لیپ ٹاپ بند کیا اور پھر پیکنگ میں لگ گئی اب کیا سائیکولجی پاکستان سے کرنی پڑیں گی ورنہ بابا نے جینا حرام کردینا ہے میں جانتی ہوں امی کو بہت دُکھ ہوگا لیکن کیا کرسکتے ہیں اب میرے پاس ایک نانو ہی رہ گئی ہے میں نہیں چاہتی بابا ان کو بھی تنگ کر کے مار دیں وہ ویسے ہی بیٹی کی موت کے بعد بہت سنسیٹو ہوگئی ہے اور نانو کے علاوہ میرا کون ہے فیصلہ مشکل تھا لیکن نانو کے لیے کرنا پڑا امی سے وعدہ جو کیا تھا میں انھیں سوچ میں گُم امی نانو کو سوچ رہی تھی جب مجھے لگا کوئی مجھے دیکھ رہا ہے
میں نے تیزی سے سر اُٹھایا وہاں کوہی نہیں تھا لیکن مجھے ایسا کیوں لگا کے کوئی بہت ہی گہری نظروں سے دیکھ رہا ہے اُف ہما ! تم بھی کیا سوچنے لگ جاتی ہوں ابھی ہارر سریز دیکھی ہے وہم تو لازمی ہونا تھا میں اپنے سر کو جھٹک کر آخری بیگ کی زپ بند کرنے لگی بس کپڑے اور بُکس ،امی کئ تصویر کے علاوہ اور کچھ نہیں لیے کے جانا تھا ظاہر ہر چیز میرے باپ کی تھیں بیگ کو بیڈ سے اُٹھا کر میں نے سائڈ پہ رکھا اور اردگرد کا جائزہ لینے لگی سب کچھ سیٹ پاکر میں نے نیچے نانو کے پاس جانے کا سوچا
میں دروازے کے قریب آئی کوئی کالا سایہ میرے پاس سے بڑی ہی تیزی سے گزرا میری چیخ نکلتی نکلتی رہ گئی ایک دم تیزی سے پھیچے ہوئی یہ کیا تھا میں گھوم کر گھر کو دیکھا یہ ائپیسوڈ واقی کچھ زیادہ دماغ میں آثر کر گئی تھی
میں نے تیزی سے جاکر دروازہ کھولا اور گھبڑاہٹ کو مٹانے کے لیے نانو کو آواز دینے لگی
????????????????????????????????????????
Nightmares will come pouring out of Hell when the Devil gets desperate.
میں اس آندھیرے کو پار کر کے چل رہی تھیں جب میں ایک جگہ داخل ہوئی جہاں ہر طرف آئینے تھے اس آئینے میں میرا عکس نظر آرہا تھا حیرت کی بات میرے بال شولڈر کے بجائے کافی لمبے تھے اور میری رنگت پہ دمک رہی تھی ساتھ میں میں نے سفید رنگ کا لیس گاون پہنا ہوا تھا ایک پرنسس یا ایک پری لگ رہی تھئ اب یہ جھٹکے والی بات تھیں میں اور اتنی خوبصورت مجھے لگا ایک آئینہ مجھے دھوکہ دیں رہا ہے میں چل کر دوسرے کی طرف بڑھی وہ بھی یہی دکھا رہا تھا سب آئینے مجھے دھوکہ دیں رہے تھے میں نے کنفرم کرنے کے لیے اپنے جسم کو دیکھا تو اس میں میں سفید لیس میں ملبوس نہیں تھی جبکہ آئینے میں تھی دیکھا میں کہہ رہی تھی یہ آئینہ مجھے دھوکہ دیں رہا ہے مجھے یہ جگہ بھی ٹھیک نہیں لگ رہی تھی تو میں یہاں سے جانے کا راستہ تلاش کرنے لگی لیکن یہ کیا اب رستہ کہاں گیا میں گھوم کر دیکھنے لگی لیکنُ ہر طرف آئینے کے سوا کچھ نہیں تھا اُف اللّٰلہ کہاں پھنس گئی
میں ایک آئینے کے قریب آئی اسے چھوا تو اس سے مجھے جھٹکا لگا میں ایک دم پھیچے ہوئی
میرے ہاتھوں میں یک دم درد کی لہر اُٹھی میں نے اپنے لب سختی سے بھینچ لیں کے میں چیخوں نا میں نے اپنے ہاتھ کو پکڑا اور زمین پہ بیٹھ گئی اُف اتنا درد کیا تھا اس آئینے میں میں آئی کہاں سے میں رونا نہیں چاہتی تھی لیکن تکلیف سے میری آنکھوں میں آنسو آنے لگے پھر ایک سایہ میرے قریب آیا میں نے تکلیف سے سر اُٹھایا وہاں کوئی نہیں تھا لیکن آئینے میں مجھے نظر آرہا تھا
وہ بلیو جینز اور سفید شرٹ میں ملبوس تھا اس کی پُشت ہی نظر آئی وہ میرے قریب ہی تھا بہت قریب میں ایک طرف بیٹھی اپنے ہاتھ کو پکڑیں آنسو سے بھری آنکھوں سے اس کو دیکھنے کی کوشش کررہی تھی پھر آئینے سے نظر ہٹا کر اپنے آس پاس دیکھا وہاں کوئی نہیں تھا پہلے یہاں سایہ تو تھا وہ کہاں گیا پھر اچانک میں نے اس کی آواز سُنی
"شش ! مائی ایجنلُ!”
میں ڈر کر تیزی سے اُٹھی یہ آواز تھیں تو بڑی خوبصورت آواز لیکن میرا جسم ناجانے کیوں کانپ اُٹھا تھا یہ آخر کون تھا جو مجھے پندرہ دن سے چھیڑ رہا تھا
"ہما! رُک جاو یہ بہت خطرناک آئینے ہیں !”
اس کی نرم آواز میں بے اختیار اُٹھی اور میں نے آئینے میں اس بلیو جینز گائی کو دیکھا وہ میرے فیورٹ گانے کی طرح تھا
"آگ کا شعلہ لیکن روح کی ٹھنڈک ۔
سپارک جس کی نیلی آنکھوں سے ہی روشنی پھوٹ کر میرے اندر زندگی بھر رہی تھی اس کو دیکھ کر بندہ جم کر ہی رہ جائیں یا پھر وہی بیٹھ کر ساری زندگی اس کا جائزہ لیتا رہے اور اس شخص کو میرا نام کیسے پتا ۔”
اس کو دیکھنے سے میں اپنا درد ہی بھلا بیٹھی تھی آئینے میں وہ بلکل میرے قریب آرہا تھا اتنے قریب کے مجھے ڈر تھا ڈر پتا نہیں کیسا ڈر وہ دیکھنے میں تو کتنا پیارا لگ رہا تھا کیا وہ مجھے نقصان دیں گا
وہ جیسے میرے قریب آرہا تھا کے میری آنکھوں میں آندھیرا چھا گیا اور میرا بلیو جینز گائی کہی غائب ہوگیا
????????????????????????
میں آج پھر خواب سے اُٹھی آج اس خواب میں
میں نے وہ سایہ دیکھ لیا تھا وہ سیاہ بلیو جینز والا تھا
جس نے میرا نام پکارا تھا وہ مجھے بچا رہا تھا یا کوئی نقصان کرنے والا تھا میں یہ سمجھنے سے قاصر تھئ میں نے چہرہ موڑ کر دیکھا نانو بستر میں ہی موجود تھی اور سو رہی تھی مطلب ابھی تہجد کا وقت نہیں ہوا تھا میں ان کو دیکھتے ہی آہستہ سے اُٹھی کمرہ ضرورت سے زیادہ ہی گرم تھا اور مجھے پیسنہ بھی خوب آرہا تھا سلپرز پہن کر میں واش روم کی طرف بڑھی..
جاری ہے


