منتخب غزلیں

بے نسب آواز کا مت دیجیو ہرگِز جواب اپنے لہجے کو کب…

بے نسب آواز کا مت دیجیو ہرگِز جواب
اپنے لہجے کو کبھی بے آبرو مت کیجیو
..
نسیم سیّد کا یومِ پیدائش
February 19, 1947
خاتون قلم کاروں میں ایک نمایاں اور معتبر نام نسیم سید کا بھی ہے ۔ان کی ولادت1947میں الہ آباد میں ہوئی۔ہندوستانی مٹی میں گندھی ،پاکستان کی ہوائوں میں پلی بڑھی یہ شخصیت اب دیار مغرب ٹورنٹو،کنیڈامیں مقیم ہے۔نسیم سید کے دو شعری مجموعے منظر عام پر آکر ان کی شاعرانہ شخصیت کو مقبول بناچکے ہیں۔پہلا مجموعہ’آدھی گواہی‘اور دوسرا ’سمندرراستہ دے گا‘ان کے تخلیقی مزاج کا آئینہ دار ہے

تعلقات میں پھر معجزہ نہیں ہوتا
جو ٹوٹ جائے وہ پتہ ہرا نہیں ہوتا
نصیب سے جو الجھ جائے بے دھیانی میں
اس الجھی ڈور کا کوئی سرا نہیں ہوتا
ہمارے حق میں دلائل پہ داد ملتی ہے
ہمارے حق میں مگر فیصلہ نہیں ہوتا

کہیں انسانوں سے ہی دل کو نہ وحشت ہو جائے
اسی ویرانے کی ایسا نہ ہو عادت ہوجائے

دل لہو ہوتا ہے ہو، آنکھیں لہو مت کیجیو
چاہتی ہے جو یہ دنیا وہ کبھو مت کیجیو
رہیو محوِ گفتگو اک آرزو سے رات دن
آرزو جب روبرو ہو، گفتگو مت کیجیو
جانیو اس کو تبرک، بارگاہِ عشق کا
جب مسک جائے کوئی دھڑکن، رفو مت کیجیو
سورہء یوسف ہے و ہ رخ دید کو تاکید ہو
ایسے چہرے کی تلاوت بے وضو مت کیجیو
مدعا کہہ کر سبک سر کیجیو مت عشق کو
اس انا خو کی انا کو سر خرو مت کیجیو
بے نسب آواز کا مت دیجیو ہر گز جواب
اپنے لہجے کو کبھی بے آبرو مت کیجیو
دربدر، کاسہ بہ کف، شہرت گزیدوں کا یہ غول
ان سے عبرت لیجیو، یہ ہاؤ ہو مت کیجیو
چاک پر کیسے ڈھلا ہے کون، کس آوے کا ہے
جانیو سب، آئینہ پر روبرو مت کیجیو
………………………..


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/