ذکر تھا مشاعروں کا، بات گھوم پھیر کر پہنچی سخن فہم…
"آئینہ ہوتا اگر میرا عشق ان کے حسن کا”
سامعین میں سے کسی نے مصرعہ اٹھایا ” آئینہ ہو جائے میرا عشق ان کے حسن کا (اس ذرا سی تبدیلی سے مصرع کس قدر بلند ہو گیا، قابل غور ہے)ثاقب مرحوم نے نظر بھر کے مصرعہ اٹھانے والے کی جانب دیکھا، زیر لب تبسم فرمایا، قدرے تأمل کیا اور پھر انہی صاحب کو مخاطب کر کے شعر پڑھا
آئینہ ہو جائے میرا عشق ان کے حسن کا—-!!!
کیا مزہ ہے درد میں جب خود ہی دوا دینے لگے
مشاعرہ ختم ہوا تو ثاقب لکھنوی نے ان صاحب کو جا کر گلے سے لگا لیا، گفتگو ہوئی تو معلوم ہوا کہ انہوں نے زندگی میں کبھی ایک شعر تک نہیں کہا البتہ شعر سننے کا شوق جنون کی حد تک تھا، صرف مشاعرہ سننے کی غرض سے بنارس سے لکھنؤ آئے تھے——-)
(شوکت صدیقی کے کالم سے اقتباس)
” منتخب کلام ”
وصل کی امید بڑھتے بڑھتے تھک کر رہ گئی
صبحِ کاذب اور کیا کرتی؟چمک کر رہ گئی
دل شبِ غم کاٹ لایا دم ہوا لیکن ہوا
اک کلی تھی جو سحر ہوتے مہک کر رہ گئی
ناشناسِ روئے خوشحالی ہے طبعِ غم نصیب
جب مسرت سامنے آئی جھجک کر رہ گئی
مجھ کو جلنے دے ابھی اے موت دنیا کیوں کہے
آگ کیسی تھی جو سینے میں بھڑک کر رہ گئی
کوئی کیا دیکھے بہارِ روئے قاتل بعدِ ذبح
کیوں کھلے وہ آنکھ جو حسرت سے تک کر رہ گئی
میرے دل کے زخم اور ان کی شماتت دیکھئے
ہنس دیے کشتِ تمنا جب لہک کر رہ گئی
کیا تمنا تھی یہ بیتابی جسے رکنا پڑا
تنگ تھا صحنِ قفس بلبل پھڑک کر رہ گئی
لوگ کہتے ہیں کھلا تھا رات بھر بابِ قبول
کس طرف میری دعا ثاقب بھٹک کر رہ گئی
(ثاقب لکھنوی)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

