ڈاکٹر کلیم احمد عاجز کی وفات Feb 15, 2015 کلیم عاج…

Feb 15, 2015
کلیم عاجز کی پیدائش بہار کے نالندہ ضلع میں ۱۹۲۰ میں ہوئی تھی۔ اس اعتبار سے انہوں نے ۹۵ سال کی عمر پائی او رچھ دہائیوں سے زائد عرصہ تک شعر و ادب کے زلفِ برہم کو سنوارتے اور حکایاتِ غم سناتے رہے
کلیجہ تھام کر سنتے ہیں لیکن سن ہی لیتے ہیں
مِرے یاروں کو میرے غم کی تلخی بھی مزا دے ہے
…….
وہ پوچھے ہیں جب خیریت سے ہو عاجز
جگر تھام کر مسکرانا پڑے ہے
…..
اس قدر سوز کہاں اور کسی ساز میں ہے
کون یہ نغمہ سرا میرؔ کے انداز میں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے غم کی قدرو قیمت کوئی میرے دل سے پوچھے
یہ چراغ وہ ہے جس سے میرے گھر میں ہے اجالا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا حال پوچھ کے ہم نشیں میرے سوزِ دل کو ہوا نہ دے
بس یہی دعا میں کروں ہوں اب کہ یہ غم کسی کو خدا نہ دے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیرا درد اتنا بڑا حادثہ ہے کہ
ہر حادثہ بھول جانا پڑے ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمانہ صبر کرلیتا ہے عاجز ہم بھی کرلیں گے
خلش دل کی مٹا لینے کو دو آنسو بہانے دو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہاں غم ملا اٹھایا پھر اسے غزل میں ڈھالا
یہی درد سر خریدا یہی روگ ہم نے پالا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزلیں کب کہتا ہوں یارو، غم کو لوریاں دیتا ہوں
کچھ رات گئے سوجاتا ہوں جب غم کو نیند آجاتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہی سمجھتے ہیں مجھ کو جو مجھ کو سنتے ہیں
میری غزل میں میری زندگی مجسم ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کتنا دکھ کتنی جفا کتنا ستم دیکھا ہے
ہم نے اس عمر میں ایک عمر کا غم دیکھا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہو
مجھ سے ہی امیروں کی طرح بات کرو ہو
دن ایک ستم، ایک ستم رات کرو ہو
وہ دوست ہو، دشمن کو بھی تم مات کرو ہو
ہم خاک نشیں، تم سخن آرائے سرِ بام
پاس آ کے ملو، دُور سے کیا بات کرو ہو
ہم کو جو ملا ہے وہ تمھیں سے تو ملا ہے
ہم اور بھُلا دیں تمھیں، کیا بات کرو ہو
یوں تو ہمیں منہ پھیر کے دیکھو بھی نہیں ہو
جب وقت پڑے ہے تو مدارات کرو ہو
دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
بکنے بھی دو عاجزؔ کو جو بولے ہے، بکے ہے
دیوانہ ہے، دیوانے سے کیا بات کرو ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات جی کھول کے پھر میں نے دعا مانگی ہے
اور اک چیز بڑی بیش بہا مانگی ہے
اور وہ چیز نہ دولت، نہ مکاں ہے، نہ محل
تاج مانگا ہے، نہ د ستار و قبا مانگی ہے
نہ تو قدموں کے تلے فرشِ گہر مانگا ہے
اور نہ سر پر کلہِ بالِ ہما مانگی ہے
نہ شریک سفر و زاد سفر مانگا ہے
نہ صدائے جرس و بانگِ درا مانگی ہے
نہ سکندر كی طرح فتح کا پرچم مانگا
اور نہ مانندِ خضر عمرِ بقا مانگی ہے
نہ کوئی عہدہ، نہ کرسی، نہ لقب مانگا ہے
نہ کسی خدمتِ قومی کی جزا مانگی ہے
نہ تو مہمانِ خصوصی کا شرف مانگا ہے
اور نہ محفل میں کہیں صدر کی جا مانگی ہے
مے کدہ مانگا، نہ ساقی، نہ گلستاں، نہ بہار
جام و ساغر نہ مئے ہوشرُبا مانگی ہے
نہ تو منظر کوئی شاداب و حسیں مانگا ہے
نہ صحت بخش کوئی آب و ہوا مانگی ہے
محفلِ عیش نہ سامانِ طرب مانگا ہے
چاندنی رات نہ گھنگور گھٹا مانگی ہے
بانسری مانگی، نہ طاؤس، نہ بربط، نہ رباب
نہ کوئی مطربۂ شیریں نوا مانگی ہے
چین کی نیند، نہ آرام کا پہلو مانگا
بختِ بیدار، نہ تقدیرِ رسا مانگی ہے
نہ تو اشکوں کی فراوانی سے مانگی ہے نجات
اور نہ اپنے مرَض دل کی شفا مانگی ہے
نہ غزل کے لئے آہنگ نیا مانگا ہے
نہ ترنم کی نئی طرزِ ادا مانگی ہے
سن کے حیران ہوئے جاتے ہیں اربابِ چمن
آخرش! کون سی پاگل نے دعا مانگی ہے
آ! ترے کان میں کہہ دوں اے نسیم سحری!
سب سے پیاری مجھے کیا چیز ہے؟ کیا مانگی ہے
وہ سراپائے ستم، جس کا میں دیوانہ ہوں
اس کی زلفوں کے لئے بوئے وفا مانگی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چمن اپنا لٹا کر بلبلِ ناشاد نکلی ہے
مبارک باد ، تیری آرزو صیاد نکلی ہے!
خدا رکھے سلامت تیری چشمِ بے مروت کو
بڑی بے درد نکلی ہے بڑی جلاد نکلی ہے
نکل کر دل سے آہوں نے کہیں رتبہ نہیں پایا
چمن سے جب بھی نکلی بوۓ گل ۔ برباد نکلی ہے
لبِ بام آ کے تم بھی دیکھ لو کیا تماشہ ہے
فغاں کی دوش پر لاشِ دل برباد نکلی ہے
پریشاں ہو کے جانِ زار کیا نکلی ہے سینے سے
کسی بیداد گر کی حسرتِ بیداد نکلی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت بھی کۓ جاتے ہیں غم کھاۓ بھی جاتے ہیں
گنہہ کرتے بھی جاتے ہیں سزا پاۓ بھی جاتے ہیں
جفا کرتے بھی ہیں عذرِ جفا لاۓ بھی جاتے ہیں
لہو پیتے بھی جاتے ہیں قسم کھاۓ بھی جاتے ہیں
اِسی نے تم کو چمکایا ہمیں برباد کر ڈالا
وفا پر ناز بھی کرتے ہیں پچھتاۓ بھی جاتے ہیں
وہی ہر صبح امیدیں وہی سر شام مایوسی
کھلے بھی جا رہے ہیں پھول مرجھاۓ بھی جاتے ہین
مزا یہ ہے لۓ بھی جا رہے ہیں جانبِ مقتل
تسلی بھی دیۓ جاتے ہیں سمجھاۓ بھی جاتے ہیں
پڑے ہیں اس بتِ کافر کے سنگِ آستاں ہو کر
مگر پامال بھی ہوتے ہیں ٹھکراۓ بھی جاتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پدم شری ڈاکٹر کلیم احمد عاجز۔ غمِ جاناں اور غمِ دوراں دونوں سے آزادی پاکر اور دنیائے آب وگِل کی مصیبتوں اور پریشانیوں سے چھٹکارا حاصل کرکے ۱۵ فروری ۲۰۱۵ کو صبح ۷ بجے اپنے لاکھوں پرستاروں کو روتا بلکتا چھوڑ کر اس دارِ فانی سے دار البقاء کی طرف کوچ کر گئے




