امجد صاحب نے ایک یادگار واقعہ بیان کیا۔ ” ایک مرت…
” ایک مرتبہ میں فردوس جمال اور عابد علی کے ساتھ پی ٹی وی لاہور اسٹیشن کے گیٹ کے باہر کھڑا تھا۔ ان دنوں میرا ڈراما ‘وارث’ ٹی وی سے نشر ہو رہا تھا۔ وہ رکشے کا انتظار کر رہے تھے اور میں کسی کو ملنے کا منتظر تھا۔ سامنے ایک سائیکل سوار، سائیکل کھڑی کر کے مجھے مسلسل دیکھے جا رہا تھا۔ اس نے تیل میں بھیگے ملیشیے کے کپڑے پہن رکھے تھے ۔ عابد علی اور فردوس جمال کے رخصت ہونے کے بعد وہ میرے قریب آیا۔ میں اس کے مسلسل دیکھنے کی وجہ سے بے چین ہو رہا تھا۔ قریب آکر اس نے پنجابی میں پوچھا "سر، وارث تُسی لکھیا سی؟” (سر، وارث آپ نے لکھا تھا؟ ) ۔میرا فوری تاثر یہ تھا کہ وہ نیلام گھر کا یا کسی اور پروگرام کا پاس مانگے گا۔ سو میں نے سپاٹ لہجے میں کہا ” ہاں بھئی، کیوں کیا بات ہے؟” اس نے ہاتھ جوڑ کر کہا "بادشاہ، نو کر ہیگے آں تیرے” ( بادشاہ تمھارے نوکر ہیں)۔ یہ کہہ کر وہ سائیکل پر بیٹھا اور وہاں سے چلا گیا۔ تب مجھے احساس ہوا کہ ایک دنیا کی مار کھایا ہوا شخص میرا شکر گزار ہوا ہے کہ میں نے اُس کے حقوق کی بات کی ہے۔ مجھے لگا کہ ساری مجبور عوام کہہ رہی ہے ” تم نے ہماری بات کی ہے۔” اس بات نے میرے دل پر بہت اثر کیا۔ میں نے زندگی بھر حقیقت سے ناتا نہیں توڑا اس لیے میرے پاؤں زمین پر رہے اور دماغ درست جگہ پر رہا۔”
عرفان جاوید کی کتاب “ سرخاب ” میں امجد اسلام امجد پر خاکے “ وارث “سے اقتباس
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی


