علاّمہ سیماب اکبرآبادی کے منتخب اشعار …………..

………….
کچھ ایسے وقت بھی آتے ہیں جب مایوس انساں کو
خوشی بھی اِک طرح کا سانحہ معلوم ہوتی ہے
سحر ہوگی تو پھر ہوں گے افق سے ضو فگن ہم بھی
کہ سورج کی طرح ڈوبے ہیں اے شامِ وطن ہم بھی
پھیلے تو یوں کہ چھا گئے کُل کائنات پر
سمٹے تو اس قدَر کہ رگِ جاں میں رہ گئے
مِری نگاہ میں ہے ایک زندہ مستقبل
میں اپنے ماضیِ مردہ کا سوگوار نہیں
بھرے گی ان کو میرے بعد لاکھوں رنگ سے دنیا
خلائیں چھوڑ دی ہیں میں نے کچھ اپنے فسانے میں
وحدت و کثرت کے جلوے خلقتِ انساں میں دیکھ
ایک ذرّہ اس قدر پھیلا کہ دنیا ہو گیا
دل ہے چراغ خانۂ مفلس، نہ توڑ اسے
پھر غم کی رات آئی تو ہم کیا جلائیں گے
ہم اپنے سر کہاں اچھا بُرا الزام لیتے ہیں
مقدّر خود بناتے ہیں، خدا کا نام لیتے ہیں
امید و عزم میرے کارواں کی شاہراہیں ہیں
جو ہو مایوس منزل سے، وہ میرا ہم سفر کیوں ہو
کھینچی ہے مصوّر نے عجب شان سے تصویر
جیسے کوئی میری ہی طرف دیکھ رہا ہے
بظاہر ہیں یہی اسباب دنیا سے نہ ملنے کے
کسی سے ہم نہیں ملتے، کسی سے دل نہیں ملتا
مبارک تجھ کو اپنی خود رَوی لیکن یہ سنتا جا
کہ دنیا اپنے رستے پر لگا لیتی ہے انساں کو
تضحیک و التفات میں رہنے دے امتیاز
یوں مسکرا نہ دیکھ، ہاں مسکرا کے دیکھ
بہت محتاط ہوکر لطف اٹھائے عمرِ فانی کے
ذرا سی زندگی جی کھول کر برباد کیا کرتے
مرکز پہ اپنے دھوپ سمٹتی ہے جس طرح
یوں رفتہ رفتہ تیرے قریب آرہا ہوں میں
بڑھا لیتے ہیں خود دشواریاں منزل کی گِن گِن کر
قدم اٹھنے سے پہلے میٖلِ منزل دیکھنے والے
فقط احساسِ آزادی سے آزادی عبارت ہے
وہی دیوار گھر کی ہے وہی دیوار زنداں کی
غزل ہی کہہ لی سنانے کو حشر میں سیمابؔ
پڑے پڑے یونہی تنہا لحد میں کیا کرتے
دنیا سے اِک افسانہ کہنے کو تھے، پھر سوچا
دنیا ہے خود افسانہ، افسانے سے کیا کہیئے
کچھ وقت کٹ گیا تھا تِری یاد کے بغیر
ہم پر تمام عمر وہ لمحے گراں رہے
دیوانگیِ عشق بڑی چیز ہے سیمابؔ
یہ اس کا کرم ہے جسے دیوانہ بنا دے
قفس کی تیلیوں میں جانے کیا ترکیب رکھی ہے
کہ ہر بجلی قریبِ آشیاں معلوم ہوتی ہے
کہانی میری رودادِ جہاں معلوم ہوتی ہے
جو سنتا ہے اسی کی داستاں معلوم ہوتی ہے
کہانی ہے تو اتنی ہے فریبِ خوابِ ہستی کی
کہ آنکھیں بند ہوں اور آدمی افسانہ ہوجائے
اُڑ رہے ہیں گَردِ بربادی میں کچھ اوراقِ دل
ان میں وہ صفحہ نہ ہو جس پر تِری تصویر تھی
تجھے کر لیتے ہیں یوں اپنی مصیبت میں شریک
تیری تصویر پہ کچھ اشک گرا لیتے ہیں
دل کی بساط کیا تھی نگاہِ جمال میں
اِک آئینہ تھا، ٹوٹ گیا دیکھ بھال میں
دنیا ہے خواب، حاصلِ دنیا خیال ہے
انسان خواب دیکھ رہا ہے خیال میں
محبت میں اِک ایسا وقت بھی آتا ہے انساں پر
ستاروں کی چمک سے چوٹ لگتی ہے رگِ جاں پر
کیا دیتے ہم کسی کو دعائے سلامتی
اپنی ہی زندگی کا کسے اعتبار تھا
یہ کس نے شاخِ گل لاکر قریبِ آشیاں رکھ دی
کہ میں نے شوقِ گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی


