منتخب غزلیں

عزم بہزاد کی پیدائش December 31, 1958 عزم بہزاد/ش…

عزم بہزاد کی پیدائش
December 31, 1958

عزم بہزاد/شاعر اردو کے مقبول شاعر عزم بہزاد کا اصل نام مختار احمد تھا اور وہ 31 دسمبر 1958ءکو کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ مشہور شاعر بہزاد لکھنوی کے پوتے تھے۔ ان کے والد افسر بہزاد بھی کراچی کے ممتاز شعرا میں شمار ہوتے تھے۔ عزم بہزاد کی شاعری کا مجموعہ” تعبیر سے پہلے“کے نام سے اشاعت پذیر ہوا تھا۔ عزم بہزاد 4 مارچ 2011ءکو اردو کے مقبول شاعر عزم بہزاد کراچی میں وفات پاگئے وہ کراچی میں محمد شاہ قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔ ان کی ہجری تاریخ وفات ”تربت عزم بہزاد مرحوم“ اور عیسوی تاریخ وفات ”تربت خلق مجسم عزم بہزاد“ سے نکلتی ہے۔
۔۔۔
جو بات شرطِ وصال ٹہھری، وہی ہے اب وجہِ بدگمانی
ادھر ہے اس بات پر خموشی، ادھر ہے پہلی سے بے زبانی

کسی ستارے سے کیا شکایت کہ رات سب کچھ بجھا ہوا تھا
فسردگی لکھ رہی تھی دل پر، شکستگی کی نئی کہانی

ہمارے لہجے میں یہ توازن بڑی صعوبت کے بعد آیا
کئی مزاجوں کے دشت دیکھے، کئی رویّوں کی خاک چھانی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہاں گئے وہ لہجے دل میں پھول کھلانے والے
آنکھیں دیکھ کے خوابوں کی تعبیر بتانے والے

کدھر گئے وہ رستے جن میں منزل پوشیدہ تھی
کدھر گئے وہ ہاتھ مسلسل راہ دکھانے والے

کہاں گئے وہ لوگ جنہیں ظلمت منظور نہیں تھی
دیا جلانے کی کوشش میں‌خود جل جانے والے

یہ اک خلوت کا رونا ہے جو باتیں کرتی تھی
یہ کچھ یادوں کے آنسو ہیں دل پگھلانے والے

کسی تماشے میں رہتے تو کب کے گم ہوجاتے
اک گوشے میں رہ کر اپنا آپ بچانےو الے

ہمیں کہاں ان ہنگاموں میں تم کھینچے پھرتے ہو
ہم ہیں اپنی تنہائی میں رنگ جمانے والے

اس رونق میں شامل سب چہرے ہیں خالی خالی
تنہا رہنے والے یا تنہا رہ جانے والے

اپنی لے سے غافل رہ کر ہجر بیاں کرتے ہیں
آہوں سے ناواقف ہیں یہ شور مچانے والے

عزم یہ شہر نہیں ہے نفسا نفسی کا صحرا ہے
یہاں نہ ڈھونڈو کسی مسافر کو ٹھیرانے والے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وسعتِ چشم کو اندوہِ بصارت لکھا
میں نے اک وصل کو اک ہجر کی حالت لکھا

میں نے لکھا کہ صفِ دل کبھی خالی نہ ہوئی
اور خالی جو ہوئی بھی تو ملامت لکھا

صرف آواز کہاں تک مجھے جاری رکھتی
میں نے چپ سادھ لی سناٹے کو عادت لکھا

یہ سفر پاؤں ہلانے کا نہیں آنکھ کا ہے
میں نے اس باب میں رکنے کو مسافت لکھا

میں نے دستک کو لکھا کشمکشِ بے خبری
جنبشِ پردہ کو آنے کی اجازت لکھا

لکھنے والوں نے تو ہونے کا سبب لکھا ہے
میں نے ہونے کو نہ ہونے کی وضاحت لکھا

اشک اگر سب نے لکھے میں نے ستارے لکھے
عاجزی سب نے لکھی میں نے عبادت لکھا

میں نے خوشبو کو لکھا دسترسِ گمشدگی
رنگ کو فاصلہ رکھنے کی رعایت لکھا

کوئی آسان رفاقت نہیں لکھی میں نے
قرب کو جب بھی لکھاجزوِ رقابت لکھا

زخم لکھنے کے لئے میں نے لکھی ہے غفلت
خون لکھنا تھا مگر میں نے حرارت لکھا

میں نے پرواز لکھی حدِ فلک سے آگے
اور بے بال و پری کو بھی نہایت لکھا

حسنِ گویائی کو لکھنا تھا لکھی سرگوشی
شور لکھنا تھا سو آزارِ سماعت لکھا

میں نے تعبیر کو تحریر میں آنے نہ دیا
خواب لکھتے ہوئے محتاجِ بشارت لکھا

میرے سر پر کبھی افسوس کا سایہ نہ رہا
رنج تھا جس کی جگہ میں نے شکایت لکھا

اتنے دعوؤں سے گذر کر یہ خیال آتا ہےعزم
کیا تم نے کبھی حرفِ ندامت لکھا


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/