منتخب غزلیں

ہری بھری نہ ہو سکی دلوں کی سرزمیں کہیں پڑی تری نگ…

ہری بھری نہ ہو سکی دلوں کی سرزمیں کہیں
پڑی تری نگاہ بھی کبھی کبھی، کہیں کہیں

یہ تِیرگی، یہ ابتری، یہ نکہتیں یہ مستیاں
کہ کُھل پڑی ہو جس طرح وہ زلفِ عنبریں کہیں

نگاہِ ناز پردے پردے میں تھی مائلِ کرَم
وہ رسمِ دلبری نہیں اب اے دلِ حزیں! کہیں

بس ابتدا ہی ابتدا ہے زندگئ عشق میں
کہ بھول بھی سکی تری نگاہِ اوّلیں کہیں؟

پڑی نگاہ دل پر اور بِنائے دہر ہل گئی
کہیں تھی اور پہنچ گئی یہ موجِ تہہ نشیں کہیں

کہاں یہ موجِ آسماں؟ کہاں یہ نظمِ زندگی؟
ہزاروں ایسی محفلیں وہ آنکھیں لے اڑیں کہیں

چمن کی رازداریوں کا اے چمن خیال کر!
ارے لہو نہ دے اٹھے گُلوں کی آستیں کہیں؟

اُسے گزرتے دیکھ کر جھپک کے آنکھ رہ گئی
شرارے اُڑ گئے تھے کچھ ابھی ابھی، یہیں کہیں

فراقؔ زیرِ آسماں چمک بھی ہے، دھواں بھی ہے
کہ جیسے اٹھ رہی ہو وہ نگاہِ شرمگیں کہیں

(فراقؔ گورکھپوری)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/