منتخب غزلیں

افتاں خیزاں یہ اڑاٸےلیے جاتی ہے مجھے اور میں چپ چا…

افتاں خیزاں یہ اڑاٸےلیے جاتی ہے مجھے
اور میں چپ چاپ ر خ ِبادِفنا دیکھتا ہوں
….
راولپنڈی کے بھرپور غزل گو شاعر شہزاد اظہر اب ہم میں نہیں رہے
انا للہ و انا الیہ راجعون
گذشتہ ڈیڑھ دو سال سے وہ فالج کے خلاف بڑی بہادری سے جنگ لڑ رہے تھے اسی دوران میں اپنی غزلوں اور نظموں کے مجموعے بھی لے آئے لیکن افسوس کہ وہ خود جاں بر نہ ہو سکے ۔۔۔ بہرحال وہ اپنی شاعری کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہیں گے
……
یہ میں جو مانگنے لگا دریا سی زندگی
ممکن ہے مجھ سے ایک بھنور بھی بسر نہ ہو
۔۔۔
اِدھر اُدھر مرے حالات نے کیا ہے مجھے
میں اس جگہ پہ نہیں ہوں جہاں کا آدمی ہوں
۔۔۔۔۔
خواب کے مراحل میں جاگ جاگ جاتے ہیں
پانیوں میں کاغذ کی کشتیاں چلاتے ہیں
تم ہراس جذبوں پر دل کی راہ مت کھولو
یہ لہو کے ریشم سے سرخیاں چراتے ہیں
…..
وہ رنگ وحشت اسلوب شعر ہے میرا
غزل کہوں تو غزال آئنے میں آتا ہے
۔
معانی ہیکل مستور ہے لیکن کہاں ہے
کسی کو ان کہے لفظوں کے معبد کی خبر کیا
۔
اس کا اترانا سر شاخ الگ ہے سب سے
پھول نے دیکھ لیا باغ کی حیرانی کو
۔
ایک یخ بستہ کہانی کی یہی منزل تھی
شب کو چوپال میں بھوبل کے قریں بیٹھ گئی
۔
یوں ہوا پھر والہانہ میں نے بانہیں کھول دیں
جانے والا پل مجھے اپنی طرف آتا لگا
۔
کنارے پر جھکا یہ پیڑ پہلے جاگ جاتا ہے
پھر اک پتا گرا کر جھیل کو بیدار کرتا ہے
۔
ایک آنسو کی حراست میں ہوں شہزاد اظہر
اور سمجھتا ہوں گرفتار سمندر نے کیا

میں یہاں دل سے گرہ گیر ہوں دیکھا تم نے
میں نے اک عمر میاں کی ہے بسر کاغذ پر
میں نے اک سطر کو خود دیکھا ہے گلشن ہوتے
پھر پرندوں کو چہکتے بھی سنا کاغذ پر
یہ مرے اشک ریاضت کا ثمر ہے شہزاد
چمک اٹھتا ہوں اگر آئینہ بھر کاغذ پر

تیشہ عرض ہنر سے توڑ دے چپ کا پہاڑ
لکھ غزل شہزاد اظہر اور مصیبت سے نکل
……
یہ جہان ِ نجم و گُل بے ماجرا رہ جاٸے گا
تم چلے جاؤ گے تو دُنیا میں کیا رہ جاٸے گا
اس لیے زاد ِ سفر میں چھاؤں تہ کر کے رکھی
دُھوپ کا بےانت جادہ کم کڑا رہ جاٸے گا
…..
ماتمی سے کام کیا ہے مرہم و تدبیر کا
خود بخود بھر جاٸے گا ہر زخم تُجھ زنجیر کا
موتیے کے پھُول اِتنے فریم پر ڈالے گیے
ہنسنا مُشکل ہو گیا دیوار پر تصویر کا
…..
افتاں خیزاں یہ اڑاٸے لیے جاتی ہے مجھے
اور میں چپ چاپ رخ ِ بادِ فنا دیکھتا ہوں
یہ جو خوراک کی نلکی ہے مرے معدے میں
مرض الموت کو پاؤں میں پڑا دیکھتا ہُوں
…..
قرطاس پر تمام ہنر ہی ہنر نہ ہو
کچھ درد کھینچیے کہ سخن بے اثر نہ ہو
….
افتاں خیزاں یہ اڑاٸےلیے جاتی ہے مجھے
اور میں چپ چاپ ر خ ِبادِفنا دیکھتا ہوں
….
بولوں تو کھا نہ جائے میری بات کو ہوا
لکھوں تو میرے حرف کو دیمک کا ڈر نہ ہو

مَیں عکسِ لمحۂ نم ساز تھا کب تک کِھلا رہتا
پلک بھر آئینے میں لہلہا کر مَیں نکل آیا

دل میں ہر رنگ پٸے خواب گری ہے موجود
اِس پری خانے میں پر تیری کمی ہے موجود
……………….


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/