منتخب غزلیں

(ضیا الدین نعیم) روز سنتے ہیں نئی ایک کہانی کو…

(ضیا الدین نعیم)

روز سنتے ہیں نئی ایک کہانی کوئی
عذر سازی میں نہیں آپ کا ثانی کوئی
یہ تو بس یونہی زباں پر مچل اٹھا شکوہ
آپ محسوس نہ فرمائیں گرانی کوئی
آس تجدید ِمراسم کی بندھے بھی کیونکر
آنا جانا ہے نہ پیغام رسانی کوئی
کبھی فرمائیں قدم رنجہ ہمارے ہاں بھی
شام ہو جائے ہماری بھی سہانی کوئی
عہد ِآئندہ میں ممکن ہے کہ یہ بھی نہ رہے
یہ جو ملتی ہے بھلے پن کی نشانی کوئی
جو حقائق ہیں کوئی سامنے لے آئے نعیم
دودھ کا دودھ کرے پانی کا پانی کوئی
………………
بَرتے کچھ امتیاز تو انسان کم سے کم
ہو اپنے دوستوں کی تو پہچان کم سے کم

اہل ِ غرَض کسی کے ہوۓ ہیں جو ہوں مرے ؟
اِتنا تو سوچ ، اے دل ِ نادان کم سے کم

ہوگا یہی بہت سے بہت ، جاں سے جایٔیں گے
رہ جا ۓ گی وفا کی مگر آن کم سے کم

چلیٔے ، معاملہ یہ کسی سمت تو ہوا
کم تو ہوا یہ روز کا خلجان کم سے کم

ایسا نہیں کہ مایہ ٔ احساس بھی نہ ہو
اِتنے نہیں ہیں بے سرو سامان کم سے کم

ناممکنات میں سے تو شاید نہ ہو نعیم
آمد بہار کی نہیں آسان کم سے کم
……..
پرائے پن کا ہے اب تک پڑاؤ لہجے میں
کہیں سے ڈھونڈ کے لاؤ، لگاؤ لہجے میں

یہ بات اپنی طرف سے نہیں کہی تم نے
عیاں ہے صاف کسی کا دباؤ لہجے میں

عد م توجہی گویا، مری کھلی اُس کو
تبھی در آیا ہے اتنا تناؤ لہجے میں

یہ گفتگو، کسی ذی روح کی نہیں لگتی
کوئی اتار نہ کوئی چڑھاؤ لہجے میں

زبان پر تو بظاہر خوشی کے جملے ہیں
دہک رہا ہے حسد کا الاؤ لہجے میں

نعیؔم دن وہ سہانے، خیال و خواب ہوئے
مٹھاس لفظوں میں تھی، رکھ رکھاؤ لہجے میں​
………………….


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/