منتخب غزلیں
تُم اپنے حُسن پہ غزلیں پڑھا کرو بیٹھے کہ لِک…

تُم اپنے حُسن پہ غزلیں پڑھا کرو بیٹھے
کہ لِکھنے والے تو مُدت سے ہوش کھو بیٹھے
کہ لِکھنے والے تو مُدت سے ہوش کھو بیٹھے
تَرس گئی ہیں نگاہیں، زیادہ کیا کہیے
صنم صنم رہے بہتر، خدا نہ ہو بیٹھے
خدا کے فضل سے تعلیم وہ ہوئی ہے عام
خرد تو خیر، جُنوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے
برا کیا کہ تلاطم میں ناخدائی کی
کِنارہ بھی نہ ملا، ناؤ بھی ڈبو بیٹھے
مریضِ عشق کا جلدی جنازہ نکلے گا
کچھ اور دیر پتا پوچھتے رہو بیٹھے
تمام شہر میں بانٹی ہے شعر کی خیرات
ہم اُس کے درد کو دل میں نہیں سمو بیٹھے
تمھاری بزم بہت تنگ اور دشت وسیع
چلے تو آئے گھڑی دو گھڑی ہی گو بیٹھے
بُجھی نہ آتشِ دِل ہی کسی طرح راحیلؔ
وگرنہ یار تو آنکھیں بہت بھگو بیٹھے
راحیلؔ فاروق
المرسل: فیصل خورشید


