منتخب غزلیں
شرقی امروہوی کی برسی [ 30 جون 1905ء _ 28 جنوری 197…

شرقی امروہوی کی برسی
[ 30 جون 1905ء _ 28 جنوری 1970ء ] شرقی صاحب کی شاعری کا آغاز ان کے زمانہءطالب_علمی سے ہوگیا تھا۔ یوں تو انھوں نے نظمیں بھی لکھی ہیں لیکن غزل کی طرف خصوصی میلان تھا۔ ان کے کلام میں بےساختگی اور پختگی نمایاں ہے۔ وہ اساتذہ کی غزل کی روایت کے امین ہیں۔
آخری عمر میں وہ صرف نعت گوئی تک محدود ہوگئے تھے۔ ان کا کلام نئی قدریں، در_مقصود، شیراز اور روزنامہ جنگ میں شائع ہوا۔
منتخب کلام :
لب کشائی کی نہ ہوتی تھی مجال اچھا ہے
بن گئی ہے مری صورت ہی سوال اچھا ہے
کم نظر ناصح_مشفق کو بھی رکھتا ہوں عزیز
ورنہ جس حال میں رہتا ہوں وہ حال اچھا ہے
ہوا انکشاف گردن جو خمار میں جھکائی
مری لغزشوں سے کم ہے ترا سجدہءریائی
پس_پردہ خوب پینا سر_بزم اس سے چڑنا
نہ کمال_مےکشی ہے نہ کمال_پارسائی
میں وفاشعارخود ہوں ہیں وفاشناس آنکھیں
مرے مطمح_نظر میں نہیں بوئے بے وفائی
شکوہ رکھتے ہیں خدایا اپنے آب و گل سے ہم
دور ہے اب ہم سے محفل دور ہیں محفل سے ہم
ہر نگاہ _ناوک افگن سے الجھ جاتا ہے یہ
باز آئے باز آئے اس دل_بسمل سے ہم
یا وہ عالم تھا کہ ہر منزل میں تھیں نیرنگیاں
یا یہ منزل ہے کہ ہیں بیگانہءمنزل سے ہم
تھی لب_ساحل پہ اک خاموش جنبش سی فقط
جب تلاطم پاس تھا اور دور تھے ساحل سے ہم
شباب میں جو شرارت نہیں تو کچھ بھی نہیں
اس اگ میں جو شرارت نہیں تو کچھ بھی نہیں
صداقتوں کا تری اعتراف ہے لیکن
جو دل میں تیرے جسارت نہیں تو کچھ بھی نہیں
بدست_دوست نہ ہو زندگی تو موت اچھی
بگام_یار قیامت نہیں تو کچھ بھی نہیں
اک آس لگی رہتی ہے ناکارہ نظر سے
کچھ روزن_دیوار سے کچھ پردہءدر سے
افلاک کی چشمک سے ستاروں کے اثر سے
اللہ بچائے تمھیں دشمن کی نظر سے
پردے ہی کے پیچھے سے سہی دور سےلیکن
اتنا تو ہو مل جائے نظر ان کی نظر سے
گرتی ہے تخیل پہ مرے برق_نشیمن
جب یاد ستاتی ہے اک اجڑے ہوئے گھر کی
خانہ بدوشیاں مری اک راز کہہ گئیں
ہر ذرہ اک ستارہ ہے پیہم سفر میں ہے
دونوں جہاں کے غم کو پیے جارہے ہیں ہم
برداشت کس بلا کی ہمارے جگر میں ہے
کچھ عالم_مجاز پہ ہی منحصر نہیں
واللہ لامکاں بھی دل_مختصر میں ہے
پائے ثبات_عشق نے اب دے دیا جواب
اور کاروان_شوق ابھی رہ گذر میں ہے
کم زور غریبوں کی ناؤ جب گرم_سفر ہوجاتی ہے
طوفان پریشاں پھرتے ہیں ہر گھاٹ خبر ہوجاتی ہے
بچپن کےتوفرضی سودوں میں ہرٹھیکری زر ہوجاتی ہے
پھر ہیچ گہر ہوجاتے ہیں جب پختہ نظر ہوجاتی ہے
جیسےکہ لچکتی شاخوں سےاک پیڑکےپیچھےچمکے چاند
یوں ان کی تھرکتی زلفوں سے بے پردہ نظر ہوجاتی ہے
اللہ کے بندو سوچو تو جو تم کو بہت کچھ دیتا ہے
مفلس بھی اسی کےبندے ہیں انکی بھی بسرہوجاتی ہے
جب سانس کےچلتے دھارےپربہتی ہےمحبت کی کشتی
ہر سانس جھکولے دیتا ہے ہر موج بھنور ہوجاتی ہے
بار_کرم سے آپ کے سر زیر_بار ہے
اپنی سبک سری سے بھی دل شرم سار ہے
زردی میں پتیوں کی کچھ ایسا نکھار ہے
اس باغ کی خزاں بھی بہ رنگ_بہار ہے
لے دے کے ایک زندگی_مستعار ہے
جس پر بھی تیرے عشق کا سودا سوار ہے
اس زندگی کے واسطے عقبی’ نہ کر خراب
جس شے کا نام زیست ہے ناپائیدار ہے
شرقی~ نباہ یار سے آساں نہیں ہے کچھ
ہم ہیں وفا شعار وہ غفلت شعار ہے
یقیں سے عزم سے وہم و گماں بدل ڈالو
پھر اپنے حسن_عمل سے جہاں بدل ڈالو
دکھا کے بزم کو حسن و عمل کے نظارے
مذاق _ واعظ _ رنگیں بیاں بدل ڈالو
گرا دیے ہیں درختوں نے اپنے برگ_کہن
بہار آئی ہے اب آشیاں بدل ڈالو
خدا نےدی ہیں عمل کو وہ طاقتیں شرقی~
کہ گام گام سے کون و مکاں بدل ڈالو
………….
[ 30 جون 1905ء _ 28 جنوری 1970ء ] شرقی صاحب کی شاعری کا آغاز ان کے زمانہءطالب_علمی سے ہوگیا تھا۔ یوں تو انھوں نے نظمیں بھی لکھی ہیں لیکن غزل کی طرف خصوصی میلان تھا۔ ان کے کلام میں بےساختگی اور پختگی نمایاں ہے۔ وہ اساتذہ کی غزل کی روایت کے امین ہیں۔
آخری عمر میں وہ صرف نعت گوئی تک محدود ہوگئے تھے۔ ان کا کلام نئی قدریں، در_مقصود، شیراز اور روزنامہ جنگ میں شائع ہوا۔
منتخب کلام :
لب کشائی کی نہ ہوتی تھی مجال اچھا ہے
بن گئی ہے مری صورت ہی سوال اچھا ہے
کم نظر ناصح_مشفق کو بھی رکھتا ہوں عزیز
ورنہ جس حال میں رہتا ہوں وہ حال اچھا ہے
ہوا انکشاف گردن جو خمار میں جھکائی
مری لغزشوں سے کم ہے ترا سجدہءریائی
پس_پردہ خوب پینا سر_بزم اس سے چڑنا
نہ کمال_مےکشی ہے نہ کمال_پارسائی
میں وفاشعارخود ہوں ہیں وفاشناس آنکھیں
مرے مطمح_نظر میں نہیں بوئے بے وفائی
شکوہ رکھتے ہیں خدایا اپنے آب و گل سے ہم
دور ہے اب ہم سے محفل دور ہیں محفل سے ہم
ہر نگاہ _ناوک افگن سے الجھ جاتا ہے یہ
باز آئے باز آئے اس دل_بسمل سے ہم
یا وہ عالم تھا کہ ہر منزل میں تھیں نیرنگیاں
یا یہ منزل ہے کہ ہیں بیگانہءمنزل سے ہم
تھی لب_ساحل پہ اک خاموش جنبش سی فقط
جب تلاطم پاس تھا اور دور تھے ساحل سے ہم
شباب میں جو شرارت نہیں تو کچھ بھی نہیں
اس اگ میں جو شرارت نہیں تو کچھ بھی نہیں
صداقتوں کا تری اعتراف ہے لیکن
جو دل میں تیرے جسارت نہیں تو کچھ بھی نہیں
بدست_دوست نہ ہو زندگی تو موت اچھی
بگام_یار قیامت نہیں تو کچھ بھی نہیں
اک آس لگی رہتی ہے ناکارہ نظر سے
کچھ روزن_دیوار سے کچھ پردہءدر سے
افلاک کی چشمک سے ستاروں کے اثر سے
اللہ بچائے تمھیں دشمن کی نظر سے
پردے ہی کے پیچھے سے سہی دور سےلیکن
اتنا تو ہو مل جائے نظر ان کی نظر سے
گرتی ہے تخیل پہ مرے برق_نشیمن
جب یاد ستاتی ہے اک اجڑے ہوئے گھر کی
خانہ بدوشیاں مری اک راز کہہ گئیں
ہر ذرہ اک ستارہ ہے پیہم سفر میں ہے
دونوں جہاں کے غم کو پیے جارہے ہیں ہم
برداشت کس بلا کی ہمارے جگر میں ہے
کچھ عالم_مجاز پہ ہی منحصر نہیں
واللہ لامکاں بھی دل_مختصر میں ہے
پائے ثبات_عشق نے اب دے دیا جواب
اور کاروان_شوق ابھی رہ گذر میں ہے
کم زور غریبوں کی ناؤ جب گرم_سفر ہوجاتی ہے
طوفان پریشاں پھرتے ہیں ہر گھاٹ خبر ہوجاتی ہے
بچپن کےتوفرضی سودوں میں ہرٹھیکری زر ہوجاتی ہے
پھر ہیچ گہر ہوجاتے ہیں جب پختہ نظر ہوجاتی ہے
جیسےکہ لچکتی شاخوں سےاک پیڑکےپیچھےچمکے چاند
یوں ان کی تھرکتی زلفوں سے بے پردہ نظر ہوجاتی ہے
اللہ کے بندو سوچو تو جو تم کو بہت کچھ دیتا ہے
مفلس بھی اسی کےبندے ہیں انکی بھی بسرہوجاتی ہے
جب سانس کےچلتے دھارےپربہتی ہےمحبت کی کشتی
ہر سانس جھکولے دیتا ہے ہر موج بھنور ہوجاتی ہے
بار_کرم سے آپ کے سر زیر_بار ہے
اپنی سبک سری سے بھی دل شرم سار ہے
زردی میں پتیوں کی کچھ ایسا نکھار ہے
اس باغ کی خزاں بھی بہ رنگ_بہار ہے
لے دے کے ایک زندگی_مستعار ہے
جس پر بھی تیرے عشق کا سودا سوار ہے
اس زندگی کے واسطے عقبی’ نہ کر خراب
جس شے کا نام زیست ہے ناپائیدار ہے
شرقی~ نباہ یار سے آساں نہیں ہے کچھ
ہم ہیں وفا شعار وہ غفلت شعار ہے
یقیں سے عزم سے وہم و گماں بدل ڈالو
پھر اپنے حسن_عمل سے جہاں بدل ڈالو
دکھا کے بزم کو حسن و عمل کے نظارے
مذاق _ واعظ _ رنگیں بیاں بدل ڈالو
گرا دیے ہیں درختوں نے اپنے برگ_کہن
بہار آئی ہے اب آشیاں بدل ڈالو
خدا نےدی ہیں عمل کو وہ طاقتیں شرقی~
کہ گام گام سے کون و مکاں بدل ڈالو
………….



