منتخب غزلیں
افسر سیمابی 1966 – 1923 عبد الغفور افسر 1923ء میں …

افسر سیمابی
1966 – 1923
عبد الغفور افسر 1923ء میں احمد نگر (دکن ) میں پیدا ہوۓ ۔ ان کے والد مولوی محمد اسمٰعیل نے ان کی تعلیم پر خاص توجہ دی لیکن ان کی اچانک وفات سے یہ سلسلہ منقطع ہوگیا اس وقت افسر کی عمر صرف پندرہ برس تھی ۔ افسر نے 1939ء سے شاعری کا آغاز کیا جب کہ ان کی عمر صرف سولہ سال تھی ۔
دور ہے منزلِ ادراکِ حقیقت افسر
دل نہ ہنگامۂ باطل سے پریشاں ہو جاۓ
عرش سے لایا ہوں اے افسر جنونِ تیزگام
وسعتِ عالم بقدرِ یک فغاں ہے اور میں
افسر اقبال سے متاثر ہوۓ اور ان کے تتبع میں نظمیں لکھنی شروع کیں اور بقول نیاز فتح پوری ” بعض جگہ وہ اقبال سے اس قدر قریب ہو کر گزرے ہیں کہ امتیاز مشکل ہوجاتا ہے ۔ ”
افسر سیمابی سیماب اکبر آبادی کے شاگرد تھے ۔ 1955ء میں ان کا مجموعۂ کلام ‘ خاورستان ‘ کے نام سے شائع ہوا جس میں ایک سو پچانوے نظمیں شامل ہیں ۔
افسر سیمابی کا انتقال 1966ء میں ہوا ۔
” اقبال کے کلام کی تین خصوصیتیں بہت نمایاں ہیں ۔ ندرتِ بیاں ، خیال کی گہرائ اور دردمندانہ لب و لہجہ ، اور انہیں تینوں خصوصیات کو سامنے رکھ کر افسر نے نظمیں لکھنا شروع کیں ، وہ اس میں کس حد تک کامیاب ہوۓ اس کا اندازہ دشوار نہیں کیونکہ بعض جگہ وہ اقبال سے اس قدر قریب ہوکر گزرے ہیں کہ امتیاز مشکل ہوجاتا ہے ”
* نیاز فتح پوری *
اقبال کے ایک شعر کی تضمین سے شروع کرتے ہیں
ایک خواب
کل شاعرِ مشرق نے کہا خواب میں مجھ سے
افسوس کہ مومن ہے غلامی پہ رضا مند
کھلتا نہیں یہ راز کہ اۓ بندۂ مجبور
تو صاحبِ لولاک ہے یا دانۂ اسپند
کیا عالمِ تدبیر تجھے راس نہ آیا
کیوں تیری خودی ہوگئ تقدیر کی پابند
ہر حال میں محکوم ہے مغموم ہے معذور
تدبیر سے خورسند ، نہ تقدیر سے خورسند
تو کشورِ انجم کی حکومت کا سزاوار
کیوں تجھ پہ زمیں تنگ ہے اے مردِ ہنر مند
آغوشِ صدف جس کے لۓ وا ہو وہ قطرہ
رکھتا ہے نظر میں مہ و پرویں کو نظر بند
لیتا ہے ستاروں سے خراج اپنے جنوں کا
ہے اس کا نشیمن نہ بخارا نہ سمرقند
شاہیں کے لۓ تنگ ہے یہ وسعتِ افلاک
پا بستۂ ہے شمشاد ہے گلزار میں پر بند
غمگین نہ ہو پژمردگئ لالہ و گل سے
تخریب ہے اس دہر میں تعمیر کی مانند
” معمارِ حرم باز بہ تعمیرِ حرم خیز
از خوابِ گراں خوابِ گراں خوابِ گراں خیز ”
شاعرِ مشرق اور بندۂ محکوم
محکوم
اے ترے نغموں سے روۓ حاکیمت بے حجاب
یہ زوالِ مردِ مومن ہے حقیقت یا کہ خواب
مٹ گئ وہ محفلِ عزم و عمل مثلِ سراب
سنگِ خارا ہوگیا ہے زندگی کا لعلِ ناب
کیا ملے کیونکر ملے گم گشتہ منزل کا سراغ
ساحرِ افرنگ کے مسحور ہیں سب شیخ وشاب
شاعرِ مشرق
آ ، بتاؤں تجھ کو شانِ عارف و مردِ تمام
وارثِ دینِ مبین ، آتش نسب ، والا مقام
عشق رزمِ زندگانی ، عشق تیہغِ نے نیام
عشق کی گرمی سے پیدا تابشِ کاس الکرام
اب کہاں وہ عشق و مستی کا جمالِ جاوداں
وہ جنونِ دعوتِ حق ، وہ خیالِ ننگ و نام
اب کہاں وہ عشق دستی کا جمالِ بے اماں
مردِ مومن کو مبارک ہو نمازِ بے قیام
کاروانِ عشق پہونچا منزلِ مقصود پر
ہیں خرد کے کارواں لیکن ابھی دور از مقام
آتشِ افرنگ کے شعلوں میں گھر کر رہ گیا
مکتبِ اسرارِ فطرت کا جوانِ سبز فام
عشق نے مجھ کو عطا کی سوزشِ دردِ دروں
تھا مرے افکار کا سرمایہ سوزِ ناتمام
محکوم
یاد ہے مجھ کو ابھی تکوہ ترا حرفِ بلند
کردیا بحرِ معانی تو نے اک نقطے میں بند
بندۂ محکوم کو کیا ہو اسیری سے خطر
” قطرۂ نیساں ہے زندانِ صدف سے ارجمند ”
شاعرِ مشرق
ترا قلبِ پرسکوں تھا محوِ وردِ لا الٰہ
آج ہے بے ربطئ افکار کی آماجگاہ
اے اسیرِ جہل و عصیاں ! نا شناسِ زندگی !
پستیِ فطرت سے ہے تو بے گلیم و بے کلاہ
محکوم
بادۂ آلام سے پر ہے ایاغِ زندگی
کس طرح روشن ہو مومن کا چراغِ زندگی ؟
شاعرِ مشرق
اس کی ہے شاہنشہی دنیاۓ مہر و ماہ پر
تیز ہے تیغِ دوپیکر کی طرح جس کی نظر
جس کی فطرت بے نیازِ گردشِ شام و سحر
جس کی ہستی کامیابی کا جمالِ منتظر
جس کے حق میں پھول بن جاتا ہے ہر خارِ ضرر
ہے وجودِ ذاتِ باری کا وہی پیغامبر
بندۂ آزاد کی آواز صوتِ سرمدی
بندۂ محکوم کی آواز بالکل بے اثر
خاکِ محکومی سے گرد آلود ہے تیری جبیں
زندگی خودداریوں کا نام ہے اے بے خبر
زندگی اور خودی
خودی کو ” ذات : کا عرفاں نہیں تو کچھ بھی نہیں
خودی حقیقتِ عریان نہیں تو کچھ بھی نہیں
نہ پوچھ مجھ سے وہ راحت جو اضطراب میں ہے
تو مثلِ انجم رخشاں نہیں تو کچھ بھی نہیں
ہو شعلہ بار کہ ہے دنیا تودۂ خاشاک
تری خودی شرر افشاں نہیں تو کچھ بھی نہیں
خرد ہے لذتِ ایماں کے ذکر سے بیزار
حیات لذتِ ایماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
تو ، جس کی سعی سے تاباں ہے کوکبِ تقدیر
فروغِ عالمِ امکاں نہیں تو کچھ بھی نہیں
خودی کی ضرب سے لرزاں ہے کائنات تمام
خودی کے بحر میں طوفاں نہیں تو کچھ بھی نہیں
یہ فیضِ سوز خودی تیری زیست کی راتیں
حریفِ صبح زر افشاں نہیں تو کچھ بھی نہیں
تجھے خبر نہیں کیا ہے حیاتِ شعلہ مزاج
رگوں میں شورشِ پنہاں نہیں تو کچھ بھی نہیں
خودی کا زخمہ ہے مضرابِ سازِ کون و مکاں
خودی کا ساز غزل خواں نہیں تو کچھ بھی نہیں
ترے ” جمال ” کی اس پر اساس ہے اے دوست
تو اپنے دل کا نگہباں نہیں تو کچھ بھی نہیں
کمالِ عشق ہے ذوقِ نظر کی سیرابی
یہاں تجلئ فاراں نہیں تو کچھ بھی نہیں
وجعدِ قطرۂ نیساں سے ہے صدف کی نمود
صدف میں قطرۂ نیساں نہیں تو کچھ بھی نہیں
مری نواؤں سے لرزاں ہیں تارِ عودِ حیات
میں زندگی کا حدی خواں نہیں تو کچھ بھی نہیں
اقبال نمبر ‘ شاعر ‘ بمبئ 1988ء
خاورستاں افسر سیمابی
٭ نیاز فتح پوری کا پیشِ لفظ ‘ سخنہاۓ گفتنی ‘
افسر سیمابی کے مجموعہ کلام خاورستاں
…
بشکریہ وسیم سیّد
1966 – 1923
عبد الغفور افسر 1923ء میں احمد نگر (دکن ) میں پیدا ہوۓ ۔ ان کے والد مولوی محمد اسمٰعیل نے ان کی تعلیم پر خاص توجہ دی لیکن ان کی اچانک وفات سے یہ سلسلہ منقطع ہوگیا اس وقت افسر کی عمر صرف پندرہ برس تھی ۔ افسر نے 1939ء سے شاعری کا آغاز کیا جب کہ ان کی عمر صرف سولہ سال تھی ۔
دور ہے منزلِ ادراکِ حقیقت افسر
دل نہ ہنگامۂ باطل سے پریشاں ہو جاۓ
عرش سے لایا ہوں اے افسر جنونِ تیزگام
وسعتِ عالم بقدرِ یک فغاں ہے اور میں
افسر اقبال سے متاثر ہوۓ اور ان کے تتبع میں نظمیں لکھنی شروع کیں اور بقول نیاز فتح پوری ” بعض جگہ وہ اقبال سے اس قدر قریب ہو کر گزرے ہیں کہ امتیاز مشکل ہوجاتا ہے ۔ ”
افسر سیمابی سیماب اکبر آبادی کے شاگرد تھے ۔ 1955ء میں ان کا مجموعۂ کلام ‘ خاورستان ‘ کے نام سے شائع ہوا جس میں ایک سو پچانوے نظمیں شامل ہیں ۔
افسر سیمابی کا انتقال 1966ء میں ہوا ۔
” اقبال کے کلام کی تین خصوصیتیں بہت نمایاں ہیں ۔ ندرتِ بیاں ، خیال کی گہرائ اور دردمندانہ لب و لہجہ ، اور انہیں تینوں خصوصیات کو سامنے رکھ کر افسر نے نظمیں لکھنا شروع کیں ، وہ اس میں کس حد تک کامیاب ہوۓ اس کا اندازہ دشوار نہیں کیونکہ بعض جگہ وہ اقبال سے اس قدر قریب ہوکر گزرے ہیں کہ امتیاز مشکل ہوجاتا ہے ”
* نیاز فتح پوری *
اقبال کے ایک شعر کی تضمین سے شروع کرتے ہیں
ایک خواب
کل شاعرِ مشرق نے کہا خواب میں مجھ سے
افسوس کہ مومن ہے غلامی پہ رضا مند
کھلتا نہیں یہ راز کہ اۓ بندۂ مجبور
تو صاحبِ لولاک ہے یا دانۂ اسپند
کیا عالمِ تدبیر تجھے راس نہ آیا
کیوں تیری خودی ہوگئ تقدیر کی پابند
ہر حال میں محکوم ہے مغموم ہے معذور
تدبیر سے خورسند ، نہ تقدیر سے خورسند
تو کشورِ انجم کی حکومت کا سزاوار
کیوں تجھ پہ زمیں تنگ ہے اے مردِ ہنر مند
آغوشِ صدف جس کے لۓ وا ہو وہ قطرہ
رکھتا ہے نظر میں مہ و پرویں کو نظر بند
لیتا ہے ستاروں سے خراج اپنے جنوں کا
ہے اس کا نشیمن نہ بخارا نہ سمرقند
شاہیں کے لۓ تنگ ہے یہ وسعتِ افلاک
پا بستۂ ہے شمشاد ہے گلزار میں پر بند
غمگین نہ ہو پژمردگئ لالہ و گل سے
تخریب ہے اس دہر میں تعمیر کی مانند
” معمارِ حرم باز بہ تعمیرِ حرم خیز
از خوابِ گراں خوابِ گراں خوابِ گراں خیز ”
شاعرِ مشرق اور بندۂ محکوم
محکوم
اے ترے نغموں سے روۓ حاکیمت بے حجاب
یہ زوالِ مردِ مومن ہے حقیقت یا کہ خواب
مٹ گئ وہ محفلِ عزم و عمل مثلِ سراب
سنگِ خارا ہوگیا ہے زندگی کا لعلِ ناب
کیا ملے کیونکر ملے گم گشتہ منزل کا سراغ
ساحرِ افرنگ کے مسحور ہیں سب شیخ وشاب
شاعرِ مشرق
آ ، بتاؤں تجھ کو شانِ عارف و مردِ تمام
وارثِ دینِ مبین ، آتش نسب ، والا مقام
عشق رزمِ زندگانی ، عشق تیہغِ نے نیام
عشق کی گرمی سے پیدا تابشِ کاس الکرام
اب کہاں وہ عشق و مستی کا جمالِ جاوداں
وہ جنونِ دعوتِ حق ، وہ خیالِ ننگ و نام
اب کہاں وہ عشق دستی کا جمالِ بے اماں
مردِ مومن کو مبارک ہو نمازِ بے قیام
کاروانِ عشق پہونچا منزلِ مقصود پر
ہیں خرد کے کارواں لیکن ابھی دور از مقام
آتشِ افرنگ کے شعلوں میں گھر کر رہ گیا
مکتبِ اسرارِ فطرت کا جوانِ سبز فام
عشق نے مجھ کو عطا کی سوزشِ دردِ دروں
تھا مرے افکار کا سرمایہ سوزِ ناتمام
محکوم
یاد ہے مجھ کو ابھی تکوہ ترا حرفِ بلند
کردیا بحرِ معانی تو نے اک نقطے میں بند
بندۂ محکوم کو کیا ہو اسیری سے خطر
” قطرۂ نیساں ہے زندانِ صدف سے ارجمند ”
شاعرِ مشرق
ترا قلبِ پرسکوں تھا محوِ وردِ لا الٰہ
آج ہے بے ربطئ افکار کی آماجگاہ
اے اسیرِ جہل و عصیاں ! نا شناسِ زندگی !
پستیِ فطرت سے ہے تو بے گلیم و بے کلاہ
محکوم
بادۂ آلام سے پر ہے ایاغِ زندگی
کس طرح روشن ہو مومن کا چراغِ زندگی ؟
شاعرِ مشرق
اس کی ہے شاہنشہی دنیاۓ مہر و ماہ پر
تیز ہے تیغِ دوپیکر کی طرح جس کی نظر
جس کی فطرت بے نیازِ گردشِ شام و سحر
جس کی ہستی کامیابی کا جمالِ منتظر
جس کے حق میں پھول بن جاتا ہے ہر خارِ ضرر
ہے وجودِ ذاتِ باری کا وہی پیغامبر
بندۂ آزاد کی آواز صوتِ سرمدی
بندۂ محکوم کی آواز بالکل بے اثر
خاکِ محکومی سے گرد آلود ہے تیری جبیں
زندگی خودداریوں کا نام ہے اے بے خبر
زندگی اور خودی
خودی کو ” ذات : کا عرفاں نہیں تو کچھ بھی نہیں
خودی حقیقتِ عریان نہیں تو کچھ بھی نہیں
نہ پوچھ مجھ سے وہ راحت جو اضطراب میں ہے
تو مثلِ انجم رخشاں نہیں تو کچھ بھی نہیں
ہو شعلہ بار کہ ہے دنیا تودۂ خاشاک
تری خودی شرر افشاں نہیں تو کچھ بھی نہیں
خرد ہے لذتِ ایماں کے ذکر سے بیزار
حیات لذتِ ایماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
تو ، جس کی سعی سے تاباں ہے کوکبِ تقدیر
فروغِ عالمِ امکاں نہیں تو کچھ بھی نہیں
خودی کی ضرب سے لرزاں ہے کائنات تمام
خودی کے بحر میں طوفاں نہیں تو کچھ بھی نہیں
یہ فیضِ سوز خودی تیری زیست کی راتیں
حریفِ صبح زر افشاں نہیں تو کچھ بھی نہیں
تجھے خبر نہیں کیا ہے حیاتِ شعلہ مزاج
رگوں میں شورشِ پنہاں نہیں تو کچھ بھی نہیں
خودی کا زخمہ ہے مضرابِ سازِ کون و مکاں
خودی کا ساز غزل خواں نہیں تو کچھ بھی نہیں
ترے ” جمال ” کی اس پر اساس ہے اے دوست
تو اپنے دل کا نگہباں نہیں تو کچھ بھی نہیں
کمالِ عشق ہے ذوقِ نظر کی سیرابی
یہاں تجلئ فاراں نہیں تو کچھ بھی نہیں
وجعدِ قطرۂ نیساں سے ہے صدف کی نمود
صدف میں قطرۂ نیساں نہیں تو کچھ بھی نہیں
مری نواؤں سے لرزاں ہیں تارِ عودِ حیات
میں زندگی کا حدی خواں نہیں تو کچھ بھی نہیں
اقبال نمبر ‘ شاعر ‘ بمبئ 1988ء
خاورستاں افسر سیمابی
٭ نیاز فتح پوری کا پیشِ لفظ ‘ سخنہاۓ گفتنی ‘
افسر سیمابی کے مجموعہ کلام خاورستاں
…
بشکریہ وسیم سیّد



