مختصر کہانیاں

یارم (سمیرا حمید) قسط نمبر 29 ۔ ایک دن کے یونی کے…

یارم (سمیرا حمید)
قسط نمبر 29
۔
ایک دن کے یونی کے صرف 5 پونڈ——-بس’ٹیوب سے شکار کے پیچھے پیچھے رہائش گاہ تک دس پونڈز……. .درمیان میں دو گھنٹے کی بریک…….رات اور چوبیس گھٹنے کے بیس پونڈز …..یعنی شکار کے پیچھے پیچھے جم بازاروں ‘گلیوں ‘شاپنگ سینٹر تک جائے گا…….صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رکھ کر….زومبی. …اسٹائل میں گردن کو ایک ہی زاویے پر اکڑائے جم از گھورنگ.
ذیادہ تر صرف یونی کا ہی پیکیج لیتے …….بہت کم دوسرا بیس پونڈز کا پیکیج بھی لیتے.جم کے فن کے دوسرے رہنما اصول.
"اسے رشوت نہیں دی جا سکتی’سکتی’ بے شک شکار اسے اپنا کریڈٹ کارڈ پکڑا دے یا پچاس ہزار پونڈ ہاتھ سے دے…”
شکار کا کوئی قصور ہونا ضروری ہے.معصوم لوگوں کو وہ تنگ نہیں کرے گا اور اگر بعد ازاں ثابت ہو گیا کہ شکار معصوم تھا تو اسے پانچ پونڈ دینے والے کے ساتھ وہ یہی سب مفت میں کرے گا.تو جب جم ڈیوٹی دیتا تو یونی میں قہقہے بلند ہوتے.
"جم از آن ہز ورک ( جم اپنے کام پر).”
مشن امبیکا…..ڈپارٹمنٹ بیالوجی…عمر بیس سال ….انتہائی تیز طرار بد تمیز نمک مرچ لڑکی’قصور ….اپنی کلاس فیلو روزلین کے لمبے قد پر پھبتیاں کس نا اور اسے مسز ایفل کے نام سے ڈیپارٹمنٹ میں مشہور کر دینا.
ہاتھ میں پانچ پونڈ لے کر امرحہ جم کے پاس آئی.
کارل’بزنس ڈیپارٹمنٹ ‘بد تمیز’انتہائی بد تمیز’میرے ہاتھ سے کتابیں چھین کر لے گیا’پھر انہیں ضائع کر دیا.مجھے بھاری جرمانہ بھرنا پڑا. پھر میرا جوتا کاٹ دیا.پورے ڈیڑھ سو پونڈ کا تھا میرا جوتا…….”
غصے اور شرمندگی سے آنا کے گال اور کان سرخ ہوگئے۔ اس نے آس پاس نظر دوڑائی، سب انھیں ہی دیکھ رہے تھے۔ جم کارل کے پیچھے پڑا تھا تو بدلے کے طور پر کارل جم کی منگیتر کے پیچھے۔
آنا نے غصے سے ابلتے ہوئے جم کے ہاتھ پر زوردار چٹکی بھری پر مجال ہے جو جم نے سی بھی کی ہو۔
یعنی تم میری بات نہیں مانو گے۔۔۔
اب انا بےچاری کی آواز بھیگ گئی۔ امرحہ کی قسمت ہی خراب۔۔۔ کیا ضرورت تھی جم کو یونی میں اپنی منگیتر رکھنے کی۔۔۔
اسطرح بزنس تو نہیں ہوتے نا۔۔۔ اسکے پانچ پونڈ ضائع ہوگئے۔ کارل کو کیا کوفت ہوئی الٹا جم ہی کوفت کا شکار ہو رہا لوگا اندر ہی اندر۔۔ اب 5 پونڈ کے لیئے اپنی سویٹ ہارٹ کو ناراض تو نہیں کرے گا یقیناً ۔۔۔
اور پھر بیس منٹ تک جم کو بے نقط سنانے اور نم آنکھیں رگڑنے کے بعد بھی جم کے انہماک میں فرق نہ آیا تو آرٹ اسکول کی سب سے خوبصورت لڑکی آنا نے انگلی سے انگوٹھی اتار کر جم کی جیب میں ٹھونس دی۔۔
پاپا ٹھیک کہتے تھے تم انسان کے نام پر ایک بن مانس ہو۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔۔۔
سوں سوں کرتی آنا چلی گئی۔۔۔ سب تو یہ توقع کر رہے تھے کہ آنا جم کو ایک تھپڑ سے نوازے گی لیکن وہ تو اسے بن مانس ثابت کرکے چھوڑ لی گئی تھی۔
امرحہ دور سے بھی دیکھ سکتی تھی کہ کارل زیرِ لب ہنسا ہے ۔ امرحہ پاؤں پٹختی وہاں سے چلی آئی۔ کیونکہ جم آخر کار سوں سوں کرتی آنا کے پیچھے بھگ کھڑا ہو تھا۔
اگر دادی یہ منطر دیکھ لیتیں تو جم اور آنا کے پاس کاریں اور کہتیں۔۔۔
بیٹا جم مل گیا سبق۔۔ اب اس امرحہ سے دور رہنا۔۔۔کہو تو میں تمہیں اسکی ہسٹری شیٹ سنا دوں۔۔۔۔
لیکن اب کوئی فائدہ نہیں۔ تمہارے ساتھ جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا اور کافی برا ہوچکا۔۔۔
کارل پاگلوں کی طرح ہنس رہا تھا۔ اسکا بس نہیں چل رہا تھا مانچسٹر یونی کو انگلی پر فٹبال کی طرح گول گول گھما کر اپنی فتح کا واضح اعلان کرے اور کہے کون ہے جو مجھے زچ کر سکے۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
مانچسٹر یونی اسٹوڈنٹ اور چند دوسرے ملکوں کی اسٹوڈنٹس کی سوسائٹیوں نے مقامی برطانوی خاندانوں سے ملاقات کا اہتمام کیا تھا۔ ان ملاقاتوں کا مقصد ایک دوسرے کے معاشرے، رسم و رواج تاریخ، رحجانات وغیرہ کے بارے میں جاننا تھا۔ ایسی ملاقاتیں قربت کا باعث بنتی ہیں۔۔۔ امرحہ نے اپنا نام پہلے سے ہی دے دیا تھا اور امرحہ کو اوکے کر دیا گیا تھا۔ مختلف ملکوں کے اسٹوڈنٹس کا بیس رکنی گروپ مسٹر اینڈ۔سز پاؤل کے گھر پہنچ گیا جہاں پاؤل خاندان کے ساتھ دو اوع خاندان موجود تھے۔ مسٹر اینڈ مسز ایڈم اور مسٹر اینڈ۔سز گڈل اوران تین خاندانوں کے ٤ عدد شرارتی اور ایک سیکنڈ میں ساٹھ سوال پوچھنے جیسے بچے۔ ملاقات کے لیئے لان میں نشست کا انتظام کیاگیا تھا۔ دھند ستمے اٹے لان میں کوئلے کی دو بڑی انگھیٹیاں رکھی گئی تھیں۔۔ اسکے چاروں اطراف نشستیں لگائی گئیں تھیں۔ پھولوں کے گلدستے جابجارکھے گئے تھے۔ بھالو سے سفید کتے بھی ادھر ادھر گشت کر رہے تھے۔۔ گھر کی عمارت دھند میں لک چھپ جارہی تھی۔ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ کسی اور ہی جزیرے پر آچکے ہوں۔۔۔ انہیں اتنے اچھے خیر مقدم کی ر
توقع نہیں تھی۔امرحہ کے پاس صوفے پر ایک نو سالہ بچی اسکرٹ میں ملبوس بیٹھی تھی اور امرحہ حلف اٹھانے کو تیار تھی کہ بچی بہت ہی معصوم نظر آرہی تھی۔
تم کس نسل سے ہو۔۔؟ یہ اسکا پہلا سوال تھا۔، وہ۔۔۔۔

”سنا ہے…..ہندوستان میں زبردستی شادیاں کروا دی جاتی ہیں۔“مسز ایڈم نے پوچھا۔
”میں ہندوستانی نہیں ،پاکستانی ہوں۔“امرحہ بڑی جزبز ہوئی۔
مسز ایڈم ہنسنے لگی”تم سب پاکستانی انڈین ہندوستانی کہالئے جانے پر اتنا چڑتے کیوں ہو۔ہندوستانی سے مراد برصغیر ہوتا ہے۔تم لوگ ہمیں یورپین کہتے ہو۔ہم نہیں چڑتے،جبکہ برطانیہ اور امریکہ میں بھی کبھی ایسا ہی ماحول تھاجیسا انڈیا اور پاکستان میں ہے۔ہندوستان سے مراد ایک خطہ ہےجو بلاشبہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔جسے یورپ میں” جادو نگری“ کہا جاتا ہے۔میرے رشتے کے چچا جب اپنے کاروبار میں دیوالیہ ہو گئے تو انہوں نے ہندوستان کا سفر کیا۔پہلے وہ بنارس گئے اور پھر سندھ…واپسی پر ان کا کہنا تھا کہ ان شہروں کر سفر نے انہیں پاگل ہونے سے بچا لیا۔بنارس میں وہ سادھوؤں کے ساتھ وقت گزارتے رہے اور سندھ میں پیروں فقیروں کے ساتھ۔“
امرحہ خاموش ہو گئی اور مسز ایڈم کے پوچھے گئے سوال کے بارے میں سوچنے لگی۔امرحہ کو ڈر تھاکہ اس سے یہ سوال پوچھا جائے گا اور وہ پوچھ لیا گیا ۔
”ایسا نہیں ہے۔جہاں تعلیم اور سوچ کی کمی ہے۔وہاں یہ سب ہوتا ہے،اسلام نے تو سختی سے لڑکا لڑکی کی مرضی پوچھنے کا حکم دیا ہے۔معاملہ کوئی بھی ہو اسلام جبر کا مخالف ہے۔جبر کی کوئی گنجائش نہیں اسلام میں۔“
”اور یہ جو غیرت کے نام پر قتل کیے جاتے ہیں۔لندن میں ایک پاکستانی لڑکی کو اس کے باپ اور بھائی نے مار کر تہ خانے میں دبا دیا تھا۔“مسز ایڈم بولیں۔امرحہ کےہونٹ خشک ہو گئے۔
”جس نے ایک انسان کاقتل کیا ،وہ کل انسانیت کا قاتل ہے۔اسلام ہمیں یہ سبق دیتا ہے۔زور زبردستی کی تو کوئی گنجائش نہیں ،تو قتل کی کیسے ہو گی،وجہ کچھ بھی ہو جو لوگ ایسا کرتے ہیں،وہ لوگ اسلام کے دائرے سے باہر نکلے ہوئے ہیں۔یہ ان کا ذہنی جنون ہیں،ہمارا مذہب،ہمارا قانون،ہمارا معاشرہ نہ اس کء اجازت دیتا ہے ،نہ ہی تعلیم ،یہ اپنے گناہوں کے خود ذمہ دار ہیں۔افسوس یہ ہے کہ یہ خود کو مسلمان کہلواتے ہیں،ایک اچھا مسلمان ہرحال میں وہی کرتا ہے جو چودہ سو سال پہلے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا۔نہ کم نہ زیادہ،ٹھیک ٹھیک وہی۔ہم سب بھی ایسے لوگوں کو اتنا ہی ناپسند کرتے ہیں،جتنا آپ لوگ کرتے ہیں۔“
سب اس کی باتوں کو بغور سنجیدگی سے سنتے رہے اور سر ہلاتے رہے۔
باری باری پھر سب کے خاندانوں کے بارے میں پوچھا گیا۔
”یعنی تمہارے وہاں ابھی بھی خاندان بڑے بڑےہوتے ہیں۔گڈ….کیا گھر بھی بڑے بڑے ہوتے ہیں رہنے کے لیے؟“امرحہ نے اپنے خاندان کے بارے میں بتایا تو اس سے پوچھا گیا۔
امرحہ گڑبڑا گئی،یعنی کچھ کنبے جتنے زیادہ بڑے تھے۔گھر اتنے ہی چھوٹے تھے۔ان کے اس سوال کا مقصد طنز نہیں تھا۔وہ صرف یہ معلوم کرنا چاہتےتھے کہ کیا لوگوں کے پاس اتنے وسائل ہوتے ہیں کہ وہ بڑے کنبے بنا کر انہیں پال بھی لیتے ہیں۔امرحہ کہاں سے چھوڑتی کہاں سے بتاتی،ان کے گھر صفائی کرنے والی آپا کے گیارہ بچے تھے اور وہ ایک کمرے کے کرائے کے گھر میں رہتی تھیں۔
دادا کے ایک دوست کے سات شادی شدہ بیٹے پانچ کمروں کےایک گھر میں رہتے تھے۔
”سب مل جل کر رہنا پسند کرتے ہیں۔“سو باتوں کی ایک بات امرحہ نے کر دی۔
”اگر کسی خاندان میں چار پانچ ،بیٹے ہو تو…..کیا وہ ایک ہی گھر میں ہمیشہ رہیں گے۔“
”گھر کی سربراہ ماں پانچوں بچوں کو ایک ہی گھر میں اپنے پاس رکھنا چاہیں گی۔“
”ایک ہی گھر میں ….پانچوں کو ان کی بیویوں اور بچوں کو ؟“
”جی سب کو …..اگر ان میں سے کوئی ایک بھی کسی وجہ سے کہیں الگ رہائش اختیار کرنا چاہیے گا تو والدہ رہ رہ کر اپنا برا حال کر لیں گی۔“
”کیوں،وہ روئیں گی کیوں؟“تینوں خواتین نے مشترکہ Aww(آؤ) کیا۔
”وہ کسی ایک کو بھی خود سے جدا نہیں کرنا چاہیں گی۔“
”بچے بڑے ہو جائیں، خاص کر ان کی شادیاں ہو جائے تو انہیں الگ زندگی شروع کرنی ہی ہوتی ہے۔ہر ایک کو پرائیوسی چاہیے ہوتی ہے۔یو نو پرسنل اسپیس۔“
”کیا بات کر رہی تھی مسز گڈل….“امرحہ ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گئی۔”پاکستانی مائیں کیا جانیں،پرسنل اسپیس یا پرائیوسی….انہیں تو اپنےلال اپنی آنکھوں کے سامنے چاہئیں۔“
”بس وہ انہیں اتنا پیار کرتی ہیں کہ ان کے بغیر ایک پل بھی نہیں رہنا چاہتیں۔“
”اور بیٹے….وہ کیا کہتے ہیں؟“ مشترکہ آؤ کے بعد پوچھا گیا۔
”بیٹے بھی وہی چاہتے ہیں جو ماں جی چاہتی ہیں۔“
AWW(آؤ)
تینوں خواتین اپنی نم آنکھیں صاف کرنے لگیں۔وہ پاکستانی مشترکہ خاندانی نظام سے متاثر نظر آرہی تھیں۔امرحہ انہیں دادا دادای،نانا نانی، وغیرہ کرداروں کے بارے میں مزید بتانےلگی کہ کیسے وہ بچوں کی تربیت کی ذمہ داری اپنے سر لے لیتے ہیں اور خاندان کو جوڑے رکھنےمیں سب سے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
”اسی لیے مشرقی لوگ جو مغرب کا سفر کرتے ہیں تو اپنے گھروں کو یاد کر کے روتے ہیں۔“مسز ایڈم ٹشو سے آنکھیں رگڑنے لگیں۔
امرحہ ترچھی نظروں سے تینوں خواتین کو دیکھتی رہی۔اس نے یہاں اپنی بہترین پرفارمنس دی تھی۔ڈی این اے بچی خاموشی سے امرحہ کے پاس بیٹھی اسے ہمہ تن گوش سن رہی تھی۔امرحہ کو صرف ایک اس بچی سے ڈر تھاکہ کہیں وہ اسے غلط نہ ثابت کر دے۔
”تم اپنے گھر کو یاد کرکے روتی ہو ؟“ڈی این اے بچی نے پوچھا۔
اب امرحہ اسے کیا بتاتی کہ اسے تو اس خیال سے ہی رونا آجاتا تھا کہ اسے کبھی تو واپس گھر جانا ہی ہے۔
”نہیں….ابھی مجھ پر یہ نوبت نہیں آئی۔“
پاکستانیوں کی کوئی ایک خوبی بتاؤ؟
وہ مشکل حالات میں بھی زندہ رہنا جانتے ہیں۔
امریحہ نے جھٹ سے کہا۔ ۔۔
مانچسٹر والوں کی کوئی ایک بری خوبی بتاؤ؟ امریحہ نے پوچھا
ہم بد ترین حالات کو بدلنا جانتے ہیں اس نے مضبوط قوت ارادی کے تاسر کے ساتھ کہا۔۔۔۔
امریحہ دنگ سی دیکھتی رہ گئی ان سب کے ساتھ گروپ فوٹو لی گئی ۔۔۔
مسٹر ایڈم نے ان کے لئے ایک چھوٹی سی تقریر کی جس کے آخری جملے کو امریحہ نے ڈی این اے بچی کی طرح کاپی میں نوٹ کر لیا۔۔۔
There are never any winners or any looser participation is remembered that and enjoy the challenge of each moments as it Aries now…
امریحہ اپنے ساتھ گیر استعمال شدہ ایک گرم شال اور ایک کشمیری طرز کا شولڈر بیگ لے گی تھی اور ایک پاس یہ تنوں چیزیں اس نے ان تنوں خواتین کو پیش کی اور ان تنوں کے چہرے ایسے دھمکنے لگے جیسے انہیں بیش قیمت جواہرات پیش کر دئے گئے ہوں جاتے ہووے ان سب کو ہوم بیک پایی دی گئی۔ڈی این اے بچی نے اسے اپنا ای میل اڈریسس دیا کے امریحہ ہر صورت اسے اپنی رپورٹ بیجھ دے
امریحہ اسے ضرور بیجھ دے گی اگر وو اپنا ڈی این اے کروانے میں کامیاب ہو گئی تو اور خوش قسمتی سے وہ ریڈ انڈین بھی نکل آئ تو۔ ۔۔۔
مانچسٹر پکاڈلی گارڈن میں 230 فٹ اونچا سٹار فلائیر جھولا تھا
امریحہ دیکھو گی دو سو تیس فٹ کی بلندی سے مانجسٹر کیسا لگتا ہے؟ یونی کے باغ میں گم سم بیٹھا دیکھ کر ویرا نے قریب آ کر اسے لالچ ڈی اور زبردستی اسے اپنے ساتھ بیٹھا کر پکاڈلی گارڈن لے آئ کچھ وہ اداس تھی کے قریب سے گزرتے عالیان کو اس نے ہائی کہا تو وہ اتنی تیزی سے آگے بڑھ گیا جیسے وہ اس سے کوئی خیرات مانگ رہی ہو اور وہ اسے خیرات دیتے دیتے تھک گیا ہو اور کچھ وہ اپنے ذہن کو کہیں اور لگانا چاہتی تھی تا کے کم سے کم سوچ سکے کے وہ مانچسٹر کو دو سو تیس فٹ کی بلندی سے دیکھنے کے لئے جھولے میں بیٹھ گئی لیکن دو سو تیس فٹ کی بلندی سے اسے مانچسٹر تو کہیں نظر نہیں آ رہا تھا وہاں سے تو موت نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔۔موت ۔۔۔۔۔
ویرا نے اس کی قمر میں گھونسا جڑا خاموش بیٹھو امریحہ۔
لیکن امریحہ نے دور۔۔۔۔ بہت دور دھندلے ہوتے مانچسٹر کو جیسے آخری بار دیکھا اور سارے مانچسٹر کو گواہ بنایا میں مرنے جا رہی ہوں۔ ۔۔او مجھے بچا لو۔۔۔۔۔ہائے مجھے بچا لو
وہ ایسے چلائی۔ ۔ایسے چلائی۔۔اور چلاتی ہی رہی کے بہت سے وقتی بہرے ہو گئے
یونی کے کئی سٹوڈنٹس سٹار فلائییر میں موجود تھے۔گول گول جھومتے جھولے میں بیٹھے انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں تھونس لی ویرا نے سختی سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا۔مرنے والے کے کوئی ایسا کرتا ہے بھلا ؟ وہ مرنے جا رہی ہے بھلا چلائے بھی نا؟ دادا۔۔۔۔۔دادی جی۔ ۔۔۔۔۔
وہ تو اس لئے بھی سٹار فلائییر میں بیٹھ گئی تھی کے روسی کومانڈو ویرا کے سامنے اس کی سبکی نا ہو۔پر سبکی بہتر تھی۔ ۔۔۔۔ بہ نسبت موت کے ہے نا؟ تم اتنا ڈرتی ہو زمین پر آتے ہی ویرا نے اس کے بازو پر زور دار چوٹکی بھری امریحہ سن سی نا ہو چکی ہوتی تو اس چٹکی پر چلا اٹھتی۔
مجھے نہیں پتا تھا میں اتنا ڈرون گی۔۔۔۔۔۔ویسے ایسے ڈرتی نہیں آج نا جانے کیوں ڈر سی گئی۔۔۔۔۔۔۔امریحہ صاف جھوٹ بول رہی تھی۔۔۔۔مجھے یقین ہوگیا تھا یہ سٹار فلائییر کا آخری رائیڈ تھا۔۔۔۔تم مر جاتی اپر ہی حکومت اسے بین کر دیتی۔۔۔۔
شکر تھا وہاں کارل نہیں تھا۔۔۔۔۔امریحہ آس پاس شرمندہ سی دیکھ رہی تھی جو لوگ ان کے ساتھ بیٹھے تھے وہ بھی کڑے تیوروں سے گھور کر گزر رہی تھے ہمارا تو مزہ خراب کر دیا یو یونی چک۔۔۔۔۔۔۔
huh
امریحہ رات کو سوئی تو پھر سے دو سو تیس فٹ کی بلندی پر تھی۔۔۔آنکھ کھلی تو سادھنا اور این او این اس کے سرحانے کھڑی تھی۔۔۔۔۔ویرا نے ضرورت محسوس نہیں کی تھی آنے کی۔۔۔۔۔۔۔
کوئی برا خواب دیکھ لیا؟ سادھنا اسے پانی پلانے لگی
میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔شکریہ آپ دونو جائیں۔۔۔۔۔
این اون اسکی ہتھیلیاں مسل رہی رہی تھی ۔۔۔جب تم ٹھیک ہوتی ہو تو اس طرح سے چلاتی ہو؟ این اون نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کار کہا اور کمرے سے چلی گئی۔ ۔۔۔
کوئی پریشانی ہے تمھے؟ سادھنا اس کے قریب بیٹھ گئی
نہیں۔
تم پہلے جیسی نہیں رہی۔۔۔۔
پہلے جیسی کیسی؟
تم مرجھا گئی سی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسے لگتا ہے تمہارے اندر کچھ سوکھتا جا رہا ہے۔ ۔۔۔
تھک جاتی ہوں میں۔ ۔۔۔
کاش یہ تھکن ہی ہو۔ ۔۔۔۔۔۔اور تم بلکل ٹھیک ہو ۔۔۔۔۔۔سادھنا اس کے بال چھو کر چلی گئی۔ ۔۔۔۔
کاش یہ خواب ہی ہو اور کھڑکی کے پیچھے عالیان کھڑا ہو۔

کڑوٹ بدل کار اس نے سونے کی کوشش کی۔۔۔۔۔اگلے دن اسے شرو ع کے دو لیکچر چھوڑ کر اسے ایک پاکستانی گھر جانا پڑا۔۔۔۔۔۔۔سادھنا کی قمر میں بہت درد تھا اس لئے وو اپنی ڈیوٹی دینے نہیں جا سکتی تھی لیکن خاتون بہ ضد تھی ان کے گھر شام کو پارٹی تھی’ اس لئے سادھنا ہر صورت اپنا کام کر کے جائے۔۔۔۔۔سادھنا کو قمر پر ہاتھ رکھے کراہتے دیکھا تو امریحہ نے اس کی جگہ جا کر کام کی پیش کش کی جو سادھنا نے بہت مشکل سے مانی۔ ۔۔۔۔خاتون نے اس سے سارے گھر کا اتنا کام لیا کے وہ واپس یونی جانے کے قابل نہیں رہی۔
یونی۔ ۔۔۔۔جاب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پڑھائی اسے یہ سب پہلے مشکل لگتا تھا۔لیکن اب وہ اسکی عادی ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔زندگی تھوڑی سی مشکل تھی۔ ۔۔۔۔بدترین نہیں۔۔۔۔۔۔۔ہاں جو سکون اس کے پاس ہوا کرتا تھا اب وہ کہیں نہیں رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
اسی دوران اسے اپنے ڈیپارٹمنٹ کے سٹوڈنٹ کے ساتھ شیکسپئر کے اسٹیج ڈرامے دیکھنے کا اتفاق ہوا’شیکسپئر کے لکھے ڈرامے اچھے تھے۔بہ کمال ہوتے تھے لیکن اسٹیج پر آ کر انہوں نے حد کر ڈی تھی۔ ۔۔۔۔اتنے زبردست آنکھ جھپکے بنا دیکھتے جاؤ دوسرے سمسٹر میں کورس کی نویت بدل گئی تھی اور وہ مشکل لگنے لگا تھا۔ ۔۔۔۔یونی میں مشہور تھا کے جب تک پہلے سمیسٹر کی کتابوں سے دوستی ہونے لگتی ہے
اور سمسٹر ختم ہو جاتا ہے اور دوستی جو ہوتے ہووے رہ چکی ہوتی ہے وہ ایگزیم میں دشمنی نبھا کر جاتی ہے۔ ۔۔
نہیں۔ ۔۔۔نہیں اس میں بیچارے سٹوڈنٹس کا کوئی قصور نہیں وہ کتابوں کو بھی ایسے ہی سر پر سوار کرتے ہیں
جیسے فیس بک’ ٹویٹر اور یو ٹیوب کو۔۔۔۔۔۔۔
انہیں انہیں پڑھنے کی بھی اتنی جلدی ہوتی ہے جتنی لاگ ان ہونے کی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔امریحہ کو ٹافورڈ شاپنگ سینٹر میں بالی وڈ ڈھابہ اچھے معاوضہ پر جاب افر ہوئی لیکن اس نے انکار کر دیا….اس کا دل نہیں چاہا اپنا سٹور چھوڑ کر جانے کے لیے…..وہاں سات سیلزمین اور دو منیجر تھے وہ ان سب کی عادی ہو چکی تھی۔بغیر کسی وجہ کہ ان سے وابستگی محسوس کرتی تھی۔
امرحہ تبدیلی کو پسند بھی کرتی تھی اور تبدیلی سے خائف بھی رہتی تھی…..اس نے اپنی زندگی میں ایک چیز کے لیے پورے شدت سے تبدیلی کہ خواہش تھی….اپنے ماحول کے بدل جانے کی…..پاکستان میں اس کےلیے بنا دئے گئے ماحول میں اس کا دم گھٹتا تھا….وہ وہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی۔اور اب یہاں ….یہاں اسے ہر چیز کے ساتھ گہری وابستگی محسوس ہوتی تھی…..یونیورسٹی کے ساتھ….اپنی کلاس کے ساتھ….کلاس میں موجود اپنی نشست کے ساتھ،کلاس ڈور تک کے ساتھ….یونی کےایک ایک درخت کے ساتھ،گھاس کے ایک ایک قطعہ کے ساتھ….یونی میں جابجا ایستادہ خاموش مشہور شخصیات کے مجسموں تک کے ساتھ بھی…..ہر چیز اسے اپنا آپ محسوس کرواتی تھی….اس سے باتیں کرتی تھی….وہ جانتی تھی وہ مانچسٹر میں مہمان ہےاور یہی چیز اسے کرب میں مبتلا کر دیتی تھی…..آکسفورڈ روڈ پر واقع چرچ کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر وہ کبھی کبھی دادا سے بات کر لیا کرتی تھی ورنہ خاموش بیٹھی آتی جاتی ڈبل ڈیک بسوں کو تکا کرتی تھی اور ہنستے ہوئے مسکراتے باتیں کرتے اسٹوڈنٹس کو کس قدر حسرت لیے دیکھا کرتی تھی…..کبھی کبھی وہ بھی ہنسنے والوں میں شامل رہی تھی …..بےفکری تھی…..چرچ کی سیڑھیوں پر اکیلے بیٹھنے کی نوبت وہ خود پر خود لےآئی تھی….اور اکثر وہ وہاں پائی جاتی…..اور سوچا کرتی کہ اگر اسے پاکستان جانا ہے تو ان سب چیزوں کو اُٹھا کر اپنے ساتھ لے جانا ہے…..یہ سب جو اس کا اپنا نہیں تھا لیکن جس نے اسے اپنا بنا لیا تھا…..یہ سب اپنا ہے….یہ سب اپنا نہیں رہے گا…..یہ یہیں رہ جائے گا….اگر یہ سب یہیں رہ گیا تو وہ تو خالی ہاتھ رہ جائی گی نا…..تو کیا مانچسٹر اسے سب دے کر سب واپس بھی لے لے گا …..دوسرے سمسٹر نے اس پر خوف طاری کر دیا تھا۔دوسرا سمسٹر بھی ایک دن ختم ہو جائے گا ،تیسرا اور چوتھا بھی….بس پھر سب ختم….چلو گھرواپس…..اسی ماحول میں جس میں وہ نجس تھی…..وہ رات کو مانچسٹر میں سوتی…..صبح آنکھ کھلتی تو لاہور ماڈل ٹاؤن اپنے گھر میں ہوتی …..دادا کے کمرے کی کھڑکیوں سے روشنی لکیر بناتی عین اس کی آنکھوں عین اس کی آنکھوں پر برس رہی ہوتی۔تلملا کر وہ آنکھ کھولتی سامنے ہی دادا اور اس کی مشترکہ دیوار پر جگمگا رہی ہوتی….وہ چیخ مار کر اُٹھ جاتی۔
”میں لاہور کب آئی….مانچسٹر کہا گیا ؟“
اس کی دل کی ڈھرکن کی رفتار خطرناک حد تک بڑھ جاتی،شٹل کاک کے نیم اندھیرے کمرے میں وہ گہری گہری سانسیں لے رہی ہوتی ،اُٹھ کر کھڑکی تک جاتی،باہر مانچسٹر پر نظر دوڑاتی…..اسے پھر بھی لگتا یہ خواب ہی ہے….حقیقت میں تو وہ ماڈل ٹاؤن اپنے گھر کے بیڈ پر سوئی یہ خواب دیکھ رہی ہے…..
وہ ویرا کو فون کرتی …..”ویرا ! صبح یونیورسٹی جانا ہے۔“
”نہیں….صبح تمہیں الیکٹرک چیئر پر بیٹھایا جانا ہے….صبح تمہاری موت کا دن ہے…..ویرا چلا کر کہتی۔
وہ کہی بار اس بے چاری کو ایسے ہی تنگ کر چکی تھی۔
”تمہیں یہ راتوں کو کیا دورے پڑتے ہیں امرحہ ….“صبح ویرا پوچھتی۔
وہ اب اسے اپنے دوروں کی کیفیت کیا سمجھاتی کہ جب اس کی آنکھ لاہور میں کھلتی ہے تو اس پر کیا گزارتی ہے….
وہ سائی کےپاس اگلی صبح آئی …..
”سائی !میں نے خواب میں دیکھا کہ تمہاری شادی ہو رہی ہے۔“
”اچھا !“وہ مسکرانے لگا ۔”کیا اب مجھے یہ نہیں پوچھ لینا چاہیے کہ کس کے ساتھ؟“
”ہاں پوچھ لو….لڑکی کا چہرہ تو نظر نہیں آیا لیکن اس نے چولی پہن رکھی تھی ہاتھوں میں گول گول مہندی لگا رکھی تھی۔“
بسنت بہاری رنگوں نے سائی کے وجود کا احاطہ کیا ۔
”سنا ہے خواب اُلٹےہوتے ہیں جیسے وہ نظر آتے ہیں اس سے ….“
”یہ اُلٹ نہیں ہو گا….میرے دادا کہتے ہے فجر کے وقت دیکھے گئے خواب سچے ہوتے ہیں۔“
”کیا واقع ؟“بسنت بہاری رنگ پھر سے اس کے وجو کے گرد اڑانیں بھرنے لگے۔
”مجھے حیرت ہےکہ تم نے میرے لیے خواب دیکھا ۔“
”مجھے حیرت نہیں ہے….ہم باقاعدہ دوست نہ سہی ،ہم میں ایک تعلق تو ہے….تم نے کتنی بار سنا ہے مجھے….“
سائی کی آنکھیں نم ہو گئیں وہ Say it all تھا .پوری یونی اس کے پاس آتی تھی ….اور وہ…..اس کے پاس کوئی نہیں ہو گا شاید ۔
”میں جذباتی ہو رہا ہوں ،مجھے تمہارا خواب اچھا لگا ۔“
”کیا تم مجھے اپنی شادی میں بلاؤ گے؟“
”کیا تم میری شادی میں آؤ گی…..ہاں ضرور آنا ….عالیان کے ساتھ….اوہ….“اس نے اپنی زبان پکڑی ….وہ واقع جذباتی ہو رہا تھااس کی زبان پھسل گئی تھی….مطلب عالیان بھی اس کے پاس آیا تھا ….شاید آدھی رات کو آیا ہو….اسے جگا کر بورڈ کو اس کے پاس ٹکا کر ….یا اسے اپنے ساتھ چہل قدمی پر آمادہ کرکے…..بہار سے پہلے اور بہار کے بعد نجانے وہ کتنی بار آچکا ہو گا سائی کے پاس ….امرحہ سے ملنے کے بعد اور امرحہ کو چھوڑ دینے کے بعد …..
سائی کے سامنے قہقہہ لگاتےہوئے….سائی کے سامنے آنسو چھپاتے ہوئے….

،جاری ہے

53

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/