منتخب غزلیں

خواجہ جاوید اختر کا یومِ وفات July 13, 2013 ہر وق…

خواجہ جاوید اختر کا یومِ وفات
July 13, 2013

ہر وقت یہ احساس دلانے کا نہیں میں
تیرا ہوں فقط، سارے زمانے کا نہیں میں

مدّت سے مرے سینے میں اک راز ہے پنہاں
یہ راز مگر سب کو بتانے کا نہیں میں

دریا تو ہوں لیکن مرے اندر ہے وہ وسعت
کوزے میں کسی طور سمانے کا نہیں میں

اِس بار کوئی گل میں کھلاؤں گا یقینا
صحرا میں فقط خاک اُڑانے کا نہیں میں

اِس بھیڑ میں پہچان مری سب سے جدا ہے
شیشہ ہوں مگر آئینہ خانے کا نہیں میں

لگتا ہے وہ پھر کوئی نئی چال چلے گا
اِس بار مگر جال میں آنے کا نہیں میں

اب ڈوبنا چاہے جو کوئی شوق سے ڈوبے
ہر ڈوبنے والے کو بچانے کا نہیں میں
……
خواجہ بہت اچھے شاعر تھے اور اپنی خوبصورت آواز سے مشاعروں میں سماں باندھ دیا کرتے تھے۔”2010ء میں ان کاشعری مجموعہ ” نیند شرط نہیں” شائع ہو کر بر صغیر کے ادبی حلقوں میں داد تحسین وصول کر چکا ہے

میرا خود سے ملنے کو جی چاہتا ہے
بہت اپنے بارے میں میں نے سنا ہے

سکوں سے کوئی گھر میں بیٹھا ہوا ہے
کوئی خواب میں دوڑتا بھاگتا ہے

ادب میں بہت کچھ پرانا ہے لیکن
ہمیں دیکھنا ہے کہ کیا کچھ نیا ہے

جہاں آندھیوں نے جمائے تھے ڈیرے
ابھی تک وہاں ایک روشن دیا ہے

کوئی سو رہا ہے اجالے میں دن کے
کوئی رات کے خوف سے جاگتا ہے

مجھے حال دل کا سنانا ہے جس کو
اسے میرے بارے میں سب کچھ پتہ ہے

عجب شور محشر بپا ہے یقیناً
کسی شاخ سے کوئی پتا گرا ہے


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/