منتخب غزلیں

احمد فراؔز نہ شب و روز ہی بدلے ہیں، نہ حال اچھّا …

احمد فراؔز

نہ شب و روز ہی بدلے ہیں، نہ حال اچھّا ہے
کِس برہَمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھّا ہے ؟

ہم کہ دونوں کے گرفتار رہے، جانتے ہیں !
دامِ دُنیا سے کہِیں زُلف کا جال اچھّا ہے

مَیں نے پُوچھا تھا، کہ آخر یہ تغافل کب تک؟
مُسکراتے ہُوئے بولے کہ، سوال اچھّا ہے

دِل نہ مانے بھی تو، ایسا ہے کہ گاہے گاہے
یارِ بے فیض سے ہلکا سا مَلال اچھّا ہے

لذّتیں قُرب و جُدائی کی ہیں اپنی اپنی
مُستَقِل ہجر ہی اچھّا نہ وَصال اچھّا ہے

رہرَوانِ رَہِ اُلفت کا مُقدّرمعلُوم
اِن کا آغاز ہی اچھّا نہ مآل اچھّا ہے

دَوستی اپنی جگہ، پر یہ حَقِیقَت ہے فراؔز!
تیری غزلوں سے کہِیں تیرا غَزال اچھّا ہے

احمد فراؔز


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/