منتخب غزلیں
بدن کا بوجھ لیے , رُوح کا عذاب لیے کدھر کو جاؤں ط…
بدن کا بوجھ لیے , رُوح کا عذاب لیے
کدھر کو جاؤں طبیعت کا اِضطراب لیے
جلا ہی دے نہ مجھے یہ جنم جنم کی پیاس
ہر ایک راہ کھڑی ہے یہاں سَراب لیے
یہی اُمید کہ شاید ہو کوئی چَشم براہ
چراغ دِل میں لیے ، ہاتھ میں گلاب لیے
عجب نہیں کہ میری طرح یہ اکیلی رات
کسی کو ڈُھونڈنے نکلی ہو آفتاب لیے
سِوا ہے شب کے اندھیروں میں دِن کی تاریکی
گئے وہ دِن ، جو نِکلتے تھے آفتاب لیے
کسی کے شہر میں مانندِ برگِ آوارہ
پھرے ہیں کُوچہ بہ کُوچہ ہم اپنے خواب لیے
کہاں چلے ہو خیالوں کے شہر میں ثروت
گئے دنوں کی شِکستہ سی یہ کتاب لیے
(ثروت حُسین)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

