منتخب غزلیں
ہے ایک بات جو موضوع گفتگو بنتی ملے جو آپ تو کم بخ…

ہے ایک بات جو موضوع گفتگو بنتی
ملے جو آپ تو کم بخت یاد ہی نہ رہی
………………
طنز ومزاح کے ممتاز ترین شاعر رضا_نقوی_واہیؔ کا یومِ ولادت
18؍جنوری 1914
نام سید محمد رضا نقوی اور تخلص واہیؔ تھا۔
رضا نقوی واہیؔ کا شمار طنز ومزاح کے ممتاز ترین شاعروں میں ہوتا ہے۔ ان کی پیدائش 18؍جنوری 1914ء کو کھجوا ضلع سیوان بہار میں ہوئی۔
رضا نقوی واہیؔ 05؍جنوری 2002ء کو پٹنہ میں انتقال کر گئے۔
……
منتخب کلام
بھگوان مرے دل کو وہ زندہ تمنا دے
جو حرص کو بھڑکا دے اور جیب کو گرما دے
وادئ سیاست کے اس ذرے کو چمکا دے
اس خادم ادنیٰ کو اک کرسیٔ اعلی دے
اوروں کا جو حصہ ہے مجھ کو وہی داتا دے
محروم بتاشا ہوں تو پوری نہ حلوا دے
ہاں مرغ مسلم دے ہاں گرم پراٹھا دے
سوکھی ہوئی آنتوں کو فوراً ہی جو چکنا دے
تحریر میں چستی دے تقریر میں گرمی دے
جنتا کو جو پھیلائے اور قوم کو بہکا دے
کرسیٔ وزارت پر اک جست میں چڑھ جاؤں
تدبیر کو پھرتی دے تقدیر کو جھٹکا دے
سکھلا دے مجھے داتا وہ راز جہاں بانی
قطرے سے جو دریا دے دریا کو جو قطرہ دے
مفلس کی لنگوٹی تک باتوں میں اتروا لوں
احسان کے پردے میں چوری کا سلیقہ دے
قاتل کی طبیعت کو بسمل کی ادا سکھلا
خوں ریزی کے جذبے کو ہمدردی کا پردا دے
تھوڑی سی جو غیرت ہے وہ بھی نہ رہے باقی
احساس حمیت کو اس دل سے نکلوا دے
القصہ مرے مالک تجھ سے یہ گزارش ہے
مرغی وہ عنایت ہو سونے کا جو انڈا دے
…………
شاعر کو اگر آپ کبھی ڈھونڈھنا چاہیں
وہ پچھلے پہر فکر کی دلدل میں ملے گا
اور صبح کو آئینہ لئے سامنے اپنے
اشعار تغزل کے ریہرسل میں ملے گا
دن کو وہ جگر گوشۂ بیکاری و افلاس
بستر پہ خیالات کے جنگل میں ملے گا
اور شام کو حلقے میں مریدان سخن کے
بیٹھا ہوا رحمانیہ ہوٹل میں ملے گا
اور شب کو سر بزم سخن صدر کے نزدیک
گالوں کو پھلائے صف اول میں ملے گا
………
چلتے چلتے دفعتاً پٹری بدلنے کا چلن
تھا سیاست کے قلابازوں کا یک مشہور فن
فائدہ ہوتا تھا وقتی طور پر اس کھیل میں
گو سکا حضرات کہتے تھے اسے بازار پن
اہل شعرستان نے بھی اب اسے اپنا لیا
کار آمد دیکھ کر یہ نسخۂ آہن شکن
ہو رہا ہے اس قدر مقبول یہ نسخہ کہ اب
دل بدلتے رہتے ہیں دن رات ارباب سخن
نت نیا بہروپ لازم ہے پئے اظہار ذات
جب نظر کے سامنے ہو فن برائے مکر و فن
وہ زمانہ جب کہ بزم شعر تھی اک رزم گاہ
چھوڑ دی تھی ہر نئے شاعر نے رفتار کہن
گھولتے رہتے تھے وہ حضرات جام شعر میں
نغمۂ بلبل کے بدلے شورش دار و رسن
ہوٹلوں میں بیٹھ کر ہوتا تھا ذکر انقلاب
اپنے سر سے باندھے پھرتے تھے تخیل میں کفن
ان میں کچھ لیڈر صفت تھے اور کچھ والنٹیر
جھنڈ میں سرخاب کے ہوں جس طرح زاغ و زغن
نعرہ بازی میں اگر ہوتے تھے لیڈر پاؤ سیر
ان کے ہر والنٹیر کا وزن ہوتا ڈیڑھ من
رفتہ رفتہ شور غوغائی سخن کا جب تھما
لگ گیا جب ماہ نخشب میں حوادث کا گہن
آ گئے کچھ اور کرتب باز بزم شعر میں
اک ذرا سا جانتے تھے جو نظر بندی کا فن
سونگھ کر موسم کی بو اور رخ ہوا کا دیکھ کر
کیچلی بدلی ہر اک والنٹیر نے دفعتاً
صبح دم دیکھا تو ٹیڈی سوٹ میں ملبوس ہیں
پھینک کر چپکے سے اپنا انقلابی پیرہن
سر کے بالوں کی سفیدی ہو گئی غرق خضاب
تہ بہ تہ غازہ لگا کر دور کی رخ کی شکن
شاعری کی عمر تھی گو بیس یا پچیس سال
لیکن اپنے فن میں وہ بالقصد لائے بال پن
کر دیا بہر صدارت پیش اپنے آپ کو
جب بنائی چند نو مشقوں نے کوئی انجمن
اس لیے گھس پیٹھ کرتے یہ سب والنٹیر
بن گئے اب خام ذہنوں کے امام فکر و فن
ان کا مقصد ہے اگر کچھ تو حصول منفعت
انقلابی شاعری ہو یا معماتی سخن
…………………….
ملے جو آپ تو کم بخت یاد ہی نہ رہی
………………
طنز ومزاح کے ممتاز ترین شاعر رضا_نقوی_واہیؔ کا یومِ ولادت
18؍جنوری 1914
نام سید محمد رضا نقوی اور تخلص واہیؔ تھا۔
رضا نقوی واہیؔ کا شمار طنز ومزاح کے ممتاز ترین شاعروں میں ہوتا ہے۔ ان کی پیدائش 18؍جنوری 1914ء کو کھجوا ضلع سیوان بہار میں ہوئی۔
رضا نقوی واہیؔ 05؍جنوری 2002ء کو پٹنہ میں انتقال کر گئے۔
……
منتخب کلام
بھگوان مرے دل کو وہ زندہ تمنا دے
جو حرص کو بھڑکا دے اور جیب کو گرما دے
وادئ سیاست کے اس ذرے کو چمکا دے
اس خادم ادنیٰ کو اک کرسیٔ اعلی دے
اوروں کا جو حصہ ہے مجھ کو وہی داتا دے
محروم بتاشا ہوں تو پوری نہ حلوا دے
ہاں مرغ مسلم دے ہاں گرم پراٹھا دے
سوکھی ہوئی آنتوں کو فوراً ہی جو چکنا دے
تحریر میں چستی دے تقریر میں گرمی دے
جنتا کو جو پھیلائے اور قوم کو بہکا دے
کرسیٔ وزارت پر اک جست میں چڑھ جاؤں
تدبیر کو پھرتی دے تقدیر کو جھٹکا دے
سکھلا دے مجھے داتا وہ راز جہاں بانی
قطرے سے جو دریا دے دریا کو جو قطرہ دے
مفلس کی لنگوٹی تک باتوں میں اتروا لوں
احسان کے پردے میں چوری کا سلیقہ دے
قاتل کی طبیعت کو بسمل کی ادا سکھلا
خوں ریزی کے جذبے کو ہمدردی کا پردا دے
تھوڑی سی جو غیرت ہے وہ بھی نہ رہے باقی
احساس حمیت کو اس دل سے نکلوا دے
القصہ مرے مالک تجھ سے یہ گزارش ہے
مرغی وہ عنایت ہو سونے کا جو انڈا دے
…………
شاعر کو اگر آپ کبھی ڈھونڈھنا چاہیں
وہ پچھلے پہر فکر کی دلدل میں ملے گا
اور صبح کو آئینہ لئے سامنے اپنے
اشعار تغزل کے ریہرسل میں ملے گا
دن کو وہ جگر گوشۂ بیکاری و افلاس
بستر پہ خیالات کے جنگل میں ملے گا
اور شام کو حلقے میں مریدان سخن کے
بیٹھا ہوا رحمانیہ ہوٹل میں ملے گا
اور شب کو سر بزم سخن صدر کے نزدیک
گالوں کو پھلائے صف اول میں ملے گا
………
چلتے چلتے دفعتاً پٹری بدلنے کا چلن
تھا سیاست کے قلابازوں کا یک مشہور فن
فائدہ ہوتا تھا وقتی طور پر اس کھیل میں
گو سکا حضرات کہتے تھے اسے بازار پن
اہل شعرستان نے بھی اب اسے اپنا لیا
کار آمد دیکھ کر یہ نسخۂ آہن شکن
ہو رہا ہے اس قدر مقبول یہ نسخہ کہ اب
دل بدلتے رہتے ہیں دن رات ارباب سخن
نت نیا بہروپ لازم ہے پئے اظہار ذات
جب نظر کے سامنے ہو فن برائے مکر و فن
وہ زمانہ جب کہ بزم شعر تھی اک رزم گاہ
چھوڑ دی تھی ہر نئے شاعر نے رفتار کہن
گھولتے رہتے تھے وہ حضرات جام شعر میں
نغمۂ بلبل کے بدلے شورش دار و رسن
ہوٹلوں میں بیٹھ کر ہوتا تھا ذکر انقلاب
اپنے سر سے باندھے پھرتے تھے تخیل میں کفن
ان میں کچھ لیڈر صفت تھے اور کچھ والنٹیر
جھنڈ میں سرخاب کے ہوں جس طرح زاغ و زغن
نعرہ بازی میں اگر ہوتے تھے لیڈر پاؤ سیر
ان کے ہر والنٹیر کا وزن ہوتا ڈیڑھ من
رفتہ رفتہ شور غوغائی سخن کا جب تھما
لگ گیا جب ماہ نخشب میں حوادث کا گہن
آ گئے کچھ اور کرتب باز بزم شعر میں
اک ذرا سا جانتے تھے جو نظر بندی کا فن
سونگھ کر موسم کی بو اور رخ ہوا کا دیکھ کر
کیچلی بدلی ہر اک والنٹیر نے دفعتاً
صبح دم دیکھا تو ٹیڈی سوٹ میں ملبوس ہیں
پھینک کر چپکے سے اپنا انقلابی پیرہن
سر کے بالوں کی سفیدی ہو گئی غرق خضاب
تہ بہ تہ غازہ لگا کر دور کی رخ کی شکن
شاعری کی عمر تھی گو بیس یا پچیس سال
لیکن اپنے فن میں وہ بالقصد لائے بال پن
کر دیا بہر صدارت پیش اپنے آپ کو
جب بنائی چند نو مشقوں نے کوئی انجمن
اس لیے گھس پیٹھ کرتے یہ سب والنٹیر
بن گئے اب خام ذہنوں کے امام فکر و فن
ان کا مقصد ہے اگر کچھ تو حصول منفعت
انقلابی شاعری ہو یا معماتی سخن
…………………….


