منتخب غزلیں

‎ہر رات تیری یاد کو سینے سے نکالا ‎جیسے کسی مورت کو دفینے سے نکالا ‎اک خواہشِ …

‎ہر رات تیری یاد کو سینے سے نکالا
‎جیسے کسی مورت کو دفینے سے نکالا
‎اک خواہشِ ناکام کو اس کو چۂ دل سے
‎ بدلے تیرے تیور تو قرینے سے نکالا
‎پاؤں تری دہلیز پے رکھنے کے سزاوار
‎ تونے جنہیں تکریم کے زینے سے نکالا
‎سکہ نہیں چلتا تری سرکار میں ورنہ
‎کیا کیا نہ ہنر ہم نے خزینے سے نکالا
‎ہم ایسے برے کیا تھے کے نفرت نہ محبت
‎ رکھّا نہ کبھی پاس نہ سینے سے نکالا
‎ٹھوکر میں طلب کی رہے ہر عمر میں ہم جان
‎یو ں جیت کے مفہوم کو جینے سے نکالا

‎اوریا مقبول جان

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/