منتخب غزلیں
12؍جنوری 1943 کیفؔ احمد صدیقی کا یومِ ولادت نا…

12؍جنوری 1943
کیفؔ احمد صدیقی کا یومِ ولادت
نام احتشام علی صدیقی قلمی نام کیف احمد صدیقی تھا۔
(پیدائش : 12؍جنوری 1943ء ۔وفات : 05؍جون 1986ء )
…..
منتخب اشعار
خوشی کی آرزو کیا دل میں ٹھہرے
ترے غم نے بٹھا رکھے ہیں پہرے
——–
اک برس بھی ابھی نہیں گزرا
کتنی جلدی بدل گئے چہرے
——–
محسوس ہو رہا ہے کہ میں خود سفر میں ہوں
جس دن سے ریل پر میں تجھے چھوڑنے گیا
——–
آج کچھ ایسے شعلے بھڑکے بارش کے ہر قطرے سے
دھوپ پناہیں مانگ رہی ہے بھیگے ہوئے درختوں میں
——–
سرد جذبے بجھے بجھے چہرے
جسم زندہ ہیں مر گئے چہرے
——–
تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر
راتوں کو بھاگ آئے ہم اپنے مکان سے
——–
تنہائی کی دلہن اپنی مانگ سجائے بیٹھی ہے
ویرانی آباد ہوئی ہے اجڑے ہوئے درختوں میں
——–
ہم آج کچھ حسین سرابوں میں کھو گئے
آنکھیں کھلیں تو جاگتے خوابوں میں کھو گئے
——–
آج پھر شاخ سے گرے پتے
اور مٹی میں مل گئے پتے
——–
خدا معلوم کس آواز کے پیاسے پرندے
وہ دیکھو خامشی کی جھیل میں اترے پرندے
——–
کیفؔ یوں آغوش فن میں ذہن کو نیند آ گئی
جیسے ماں کی گود میں بچہ سسک کر سو گیا
——–
کیفؔ کہاں تک تم خود کو بے داغ رکھو گے
اب تو ساری دنیا کے منہ پر سیاہی ہے
——–
وہ خود ہی اپنی آگ میں جل کر فنا ہوا
جس سائے کی تلاش میں یہ آفتاب ہے
——–
چمن میں شدت درد نمود سے غنچے
تڑپ رہے ہیں مگر مسکرائے جاتے ہیں
…………………..
کیفؔ احمد صدیقی کا یومِ ولادت
نام احتشام علی صدیقی قلمی نام کیف احمد صدیقی تھا۔
(پیدائش : 12؍جنوری 1943ء ۔وفات : 05؍جون 1986ء )
…..
منتخب اشعار
خوشی کی آرزو کیا دل میں ٹھہرے
ترے غم نے بٹھا رکھے ہیں پہرے
——–
اک برس بھی ابھی نہیں گزرا
کتنی جلدی بدل گئے چہرے
——–
محسوس ہو رہا ہے کہ میں خود سفر میں ہوں
جس دن سے ریل پر میں تجھے چھوڑنے گیا
——–
آج کچھ ایسے شعلے بھڑکے بارش کے ہر قطرے سے
دھوپ پناہیں مانگ رہی ہے بھیگے ہوئے درختوں میں
——–
سرد جذبے بجھے بجھے چہرے
جسم زندہ ہیں مر گئے چہرے
——–
تنہائیوں کو سونپ کے تاریکیوں کا زہر
راتوں کو بھاگ آئے ہم اپنے مکان سے
——–
تنہائی کی دلہن اپنی مانگ سجائے بیٹھی ہے
ویرانی آباد ہوئی ہے اجڑے ہوئے درختوں میں
——–
ہم آج کچھ حسین سرابوں میں کھو گئے
آنکھیں کھلیں تو جاگتے خوابوں میں کھو گئے
——–
آج پھر شاخ سے گرے پتے
اور مٹی میں مل گئے پتے
——–
خدا معلوم کس آواز کے پیاسے پرندے
وہ دیکھو خامشی کی جھیل میں اترے پرندے
——–
کیفؔ یوں آغوش فن میں ذہن کو نیند آ گئی
جیسے ماں کی گود میں بچہ سسک کر سو گیا
——–
کیفؔ کہاں تک تم خود کو بے داغ رکھو گے
اب تو ساری دنیا کے منہ پر سیاہی ہے
——–
وہ خود ہی اپنی آگ میں جل کر فنا ہوا
جس سائے کی تلاش میں یہ آفتاب ہے
——–
چمن میں شدت درد نمود سے غنچے
تڑپ رہے ہیں مگر مسکرائے جاتے ہیں
…………………..


