استاد استاد ہوتا ہے چاہے ہندو ہی کیوں نہ ہو آغا ش…
آغا شورش کاشمیری جو بیک وقت ایک شعلہ بیان خطیب، دبنگ سیاستدان و صحافی، ادیب و شاعر، 28 کتابوں کے مصنف اور عہد ایوبی میں قید و بند اور بدترین ابتلا سے گزرے تھے، اپنی ایک کتاب "بوئے گل نالہ دل دوود چراغ محفل” یا ” پس دیوار زندان” یا "موت سے واپسی” میں سے کسی ایک میں اپنے سکول دور کا ایک واقعہ لکھتے ہیں جو اہل بینا کے لیے نہایت سبق آموز ہے- وہ لکھتے ہیں کہ ان کے سکول میں ایک ادھیڑ عمر کے ہندو استاد تھے جن کی بیوی نوجوان تھی اور کالج میں پڑھتی تھی- چھٹی کے وقت طلباء بھی اساتذہ کے جلو میں گھروں کو لوٹتے تھے، راستے میں ایک چوک آتا تھا جہاں کالج سے واپس آنے والی لڑکیوں اور ان کا آمنا سامنا ہوتا تھا جس میں ہندو استاد کی بیوی بھی ہوتی تھی- اس موقع پر ہندو استاد اپنی بیوی سے کہتا تھا ” نیک بخت حیا کر ” لڑکوں میں تین لڑکے ایک مسلمان، ایک ہندو اور ایک سکھ بڑے شرارتی تھے- یہ اکثر کسی اور چوک یا راستے میں کھڑے ہو کر استاد کی بیوی کو ” نیک بخت حیا کر ” کہہ کر چھیڑتے تھے- لڑکی نے اپنے شوہر سے شکایت کی کہ آپ کے شاگرد مجھے راستے میں چھیڑتے ہیں- استاد نے کلاس میں استاد کے حقوق جتلا کر کئی بار سمجھایا کہ اس طرح نہ کرے میں تمہارا استاد ہوں لیکن یہ لڑکے باز نہ آئے- آخر ایک دن تنگ آ کر استاد نے کلاس میں سرد آہ کھینچی اور معاملہ بھگوان کے سپرد کر دیا- شورش صاحب آگے لکھتے ہیں کہ بعد میں ان تینوں میں سے کسی نے بی اے اور کسی نے ایم اے پاس کیا لیکن کسی کو بھی روزگار نہ ملا بلکہ ایک تو اسی چکر میں پاگل ہو گیا گویا استاد کی سرد آہ نے تینوں کے بخت اور نصیب کو ہی منجمد کر دیا
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

