گواہی حق پرستی کی سنو ” سر “ مانگتی ہے کبھی یہ دل …
کبھی یہ دل تو کبھی خون ِ جگر مانگتی ہے
بیٹے آدم ؑ کے ہوئے دست و گریباں اس میں
کبھی یوسف ؑ کو شہر ملک بدر مانگتی ہے
خلیل ِ رب ؑ کو اجازت کہ نا دیکھا جائے
اور شبیرؑ سے برچھی پہ ” نظر “ مانگتی ہے
کبھی حیدرؑ سے تقاضہ ِ صبر کرتی ہے
کبھی اولاد ِ پیمبر ؑ سے یہ گھر مانگتی ہے
دو قدم پہ رکھا ہے گنبد ِ خضرا اس نے
اس پہ ویران یہ زھرا ؑ کی قبر مانگتی ہے
اس کی چاہت کے سکینہؑ کے یہ دیکھے آنسو
کبھی عابد ؑ سے یہ بازار ِ سفر مانگتی ہے
ہو کے مجنون بھلا ڈالی اس نے ” حد ِ ادب “
بے ردا اور ہو ! ” زینبؑ “ یہ مگر مانگتی ہے
کبھی ” چھ ماہ ؑ “ کو مقتل یہ بلا لیتی ہے
کبھی عباس ؑ سے ” بازو و سپر “ مانگتی ہے
کیوں ذولفقار کسی ” اور “ سے نہیں چلتی
عطا کے ساتھ یہ ہاتھوں کا ہنر مانگتی ہے
خاکی ! سن آج کے انسان کی دعاؤں کو
جانے انجانے میں مہدی ؑ کی خبر مانگتی ہے
✍️ خرم خاکی رضوی

