منتخب غزلیں
07؍جنوری 1927 علی محمد شادؔ عظیم آبادی کا یومِ…

07؍جنوری 1927
علی محمد شادؔ عظیم آبادی کا یومِ وفات
(ولادت: 08 جنوری 1846 – وفات: 07 جنوری 1927)
منتخب اشعار
……
اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا
زندگی چھوڑ دے پیچھا مرا میں باز آیا
—
خموشی سے مصیبت اور بھی سنگین ہوتی ہے
تڑپ اے دل تڑپنے سے ذرا تسکین ہوتی ہے
—
تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں
کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں
—
کون سی بات نئی اے دلِ ناکام ہوئی
شام سے صبح ہوئی صبح سے پھر شام ہوئی
—
ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
جو یاد نہ آئے بھول کے پھر اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم
—
سن چکے جب حال میرا لے کے انگڑائی کہا
کس غضب کا درد ظالم تیرے افسانے میں تھا
—
نگاہِ ناز سے ساقی کا دیکھنا مجھ کو
مرا وہ ہاتھ میں ساغر اٹھا کے رہ جانا
—
میں حیرت و حسرت کا مارا خاموش کھڑا ہوں ساحل پر
دریائے محبت کہتا ہے آ کچھ بھی نہیں پایاب ہیں ہم
—
ہزار شکر میں تیرے سوا کسی کا نہیں
ہزار حیف کہ اب تک ہوا نہ تو میرا
—
میں شادؔ تنہا اک طرف اور دنیا کی دنیا اک طرف
سارا سمندر اک طرف آنسو کا قطرہ اک طرف
—
ایک ستم اور لاکھ ادائیں اف ری جوانی ہائے زمانے
ترچھی نگاہیں تنگ قبائیں اف ری جوانی ہائے زمانے
—
ترا آستاں جو نہ مل سکا تری رہ گزر کی زمیں سہی
ہمیں سجدہ کرنے سے کام ہے جو وہاں نہیں تو کہیں سہی
—
دل اپنی طلب میں صادق تھا گھبرا کے سوئے مطلوب گیا
دریا سے یہ موتی نکلا تھا دریا ہی میں جا کر ڈوب گیا
—
اگر مرتے ہوئے لب پر نہ تیرا نام آئے گا
تو میں مرنے سے در گزرا مرے کس کام آئے گا
—
غفلت میں ہوئی اوقات بسر اے عمر گریزاں کچھ نہ کیا
سب چلنے کے تھے سامان بہم چلنے ہی کا ساماں کچھ نہ کیا
—
کہتے ہیں اہلِ ہوش جب افسانہ آپ کا
ہنستا ہے دیکھ دیکھ کے دیوانہ آپ کا
—
نازک تھا بہت کچھ دل میرا اے شادؔ تحمل ہو نہ سکا
اک ٹھیس لگی تھی یوں ہی سی کیا جلد یہ شیشہ ٹوٹ گیا
………………..
علی محمد شادؔ عظیم آبادی کا یومِ وفات
(ولادت: 08 جنوری 1846 – وفات: 07 جنوری 1927)
منتخب اشعار
……
اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا
زندگی چھوڑ دے پیچھا مرا میں باز آیا
—
خموشی سے مصیبت اور بھی سنگین ہوتی ہے
تڑپ اے دل تڑپنے سے ذرا تسکین ہوتی ہے
—
تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں
کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں
—
کون سی بات نئی اے دلِ ناکام ہوئی
شام سے صبح ہوئی صبح سے پھر شام ہوئی
—
ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
جو یاد نہ آئے بھول کے پھر اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم
—
سن چکے جب حال میرا لے کے انگڑائی کہا
کس غضب کا درد ظالم تیرے افسانے میں تھا
—
نگاہِ ناز سے ساقی کا دیکھنا مجھ کو
مرا وہ ہاتھ میں ساغر اٹھا کے رہ جانا
—
میں حیرت و حسرت کا مارا خاموش کھڑا ہوں ساحل پر
دریائے محبت کہتا ہے آ کچھ بھی نہیں پایاب ہیں ہم
—
ہزار شکر میں تیرے سوا کسی کا نہیں
ہزار حیف کہ اب تک ہوا نہ تو میرا
—
میں شادؔ تنہا اک طرف اور دنیا کی دنیا اک طرف
سارا سمندر اک طرف آنسو کا قطرہ اک طرف
—
ایک ستم اور لاکھ ادائیں اف ری جوانی ہائے زمانے
ترچھی نگاہیں تنگ قبائیں اف ری جوانی ہائے زمانے
—
ترا آستاں جو نہ مل سکا تری رہ گزر کی زمیں سہی
ہمیں سجدہ کرنے سے کام ہے جو وہاں نہیں تو کہیں سہی
—
دل اپنی طلب میں صادق تھا گھبرا کے سوئے مطلوب گیا
دریا سے یہ موتی نکلا تھا دریا ہی میں جا کر ڈوب گیا
—
اگر مرتے ہوئے لب پر نہ تیرا نام آئے گا
تو میں مرنے سے در گزرا مرے کس کام آئے گا
—
غفلت میں ہوئی اوقات بسر اے عمر گریزاں کچھ نہ کیا
سب چلنے کے تھے سامان بہم چلنے ہی کا ساماں کچھ نہ کیا
—
کہتے ہیں اہلِ ہوش جب افسانہ آپ کا
ہنستا ہے دیکھ دیکھ کے دیوانہ آپ کا
—
نازک تھا بہت کچھ دل میرا اے شادؔ تحمل ہو نہ سکا
اک ٹھیس لگی تھی یوں ہی سی کیا جلد یہ شیشہ ٹوٹ گیا
………………..


