منتخب غزلیں
یوم پیدائش عبد الرؤف عروج 05 جنوری 1932 عبد الرؤ…

یوم پیدائش عبد الرؤف عروج
05 جنوری 1932
عبد الرؤف عروج کے اشعار
خموشی میری لے میں گنگنانا چاہتی ہے
کسی سے بات کرنے کا بہانا چاہتی ہے
…..
یہ تبسم کا اجالا یہ نگاہوں کی سحر
لوگ یوں بھی تو چھپاتے ہیں اندھیرے دل میں
….
زندگی عظمت حاضر کے بغیر
اک تسلسل ہے مگر خوابوں کا
…..
نفس کے لوچ کو خنجر بنانا چاہتی ہے
محبت اپنی تیزی آزمانا چاہتی ہے
….
ظلمتیں وحشت فردا سے نڈھال
ڈھونڈھتی پھرتی ہیں گھر خوابوں کا
…..
آج یادوں نے عجب رنگ بکھیرے دل میں
مسکراتے ہیں سر شام سویرے دل میں
یہ تبسم کا اجالا یہ نگاہوں کی سحر
لوگ یوں بھی تو چھپاتے ہیں اندھیرے دل میں
صورت باد صبا قافلہ یاد آیا
زخم در زخم کھلے پھول سے میرے دل میں
یاس کی رات کٹی آس کا سورج چمکا
پھر بھی چمکے نہ کسی روز سویرے دل میں
اک مری وحشت بے نام پہ اس طرح نہ سوچ
کتنی باتیں ہیں جو کھٹکی نہیں تیرے دل میں
دھیان کی شمع کی لو تیز بھی کر دیتے ہیں
اکثر اوقات تری یاد کے پھیرے دل میں
نہ ملی فرصت آسائش تعبیر عروج
ایک مدت سے ہیں خوابوں کے بسیرے دل میں
………………
05 جنوری 1932
عبد الرؤف عروج کے اشعار
خموشی میری لے میں گنگنانا چاہتی ہے
کسی سے بات کرنے کا بہانا چاہتی ہے
…..
یہ تبسم کا اجالا یہ نگاہوں کی سحر
لوگ یوں بھی تو چھپاتے ہیں اندھیرے دل میں
….
زندگی عظمت حاضر کے بغیر
اک تسلسل ہے مگر خوابوں کا
…..
نفس کے لوچ کو خنجر بنانا چاہتی ہے
محبت اپنی تیزی آزمانا چاہتی ہے
….
ظلمتیں وحشت فردا سے نڈھال
ڈھونڈھتی پھرتی ہیں گھر خوابوں کا
…..
آج یادوں نے عجب رنگ بکھیرے دل میں
مسکراتے ہیں سر شام سویرے دل میں
یہ تبسم کا اجالا یہ نگاہوں کی سحر
لوگ یوں بھی تو چھپاتے ہیں اندھیرے دل میں
صورت باد صبا قافلہ یاد آیا
زخم در زخم کھلے پھول سے میرے دل میں
یاس کی رات کٹی آس کا سورج چمکا
پھر بھی چمکے نہ کسی روز سویرے دل میں
اک مری وحشت بے نام پہ اس طرح نہ سوچ
کتنی باتیں ہیں جو کھٹکی نہیں تیرے دل میں
دھیان کی شمع کی لو تیز بھی کر دیتے ہیں
اکثر اوقات تری یاد کے پھیرے دل میں
نہ ملی فرصت آسائش تعبیر عروج
ایک مدت سے ہیں خوابوں کے بسیرے دل میں
………………




