منتخب غزلیں

غبارِ جاں سے ستارا نکلنا چاہتا ہے یہ آسمان بھی ک…

غبارِ جاں سے ستارا نکلنا چاہتا ہے
یہ آسمان بھی کروٹ بدلنا چاہتا ہے

مرے لہو کا سمندر اچھلنا چاہتا ہے
یہ چاند میرے بدن میں پگھلنا چاہتا ہے

سیاہ دشت میں امکانِ روشنی بھی نہیں
مگر یہ ہاتھ اندھیرے میں جلنا چاہتا ہے

ہر ایک شاخ کے ہاتھوں میں پھول مہکیں گے
خزاں کا پیڑ بھی کپڑے بدلنا چاہتا ہے

بہت کٹھن ہے کہ سانسیں بھی بار لگتی ہیں
مرا وجود بھی نقطے میں ڈھلنا چاہتا ہے

(جینت پرمار)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/