منتخب غزلیں

غیرتِ جہاد اپنی، زخم کھا کے جاگے گی پہلا وار تم کر…

غیرتِ جہاد اپنی، زخم کھا کے جاگے گی
پہلا وار تم کر لو، دوسرا ہمارا ہے​
..
منظر بھوپالی کا یومِ پیدائش
(پیدائش: 29 دسمبر 1959ء )
——
منتخب کلام
——
آندھیاں زور دکھائیں تو کیا ہوتا ہے
گُل کھلانے کا ہنر بادِ صبا جانتی ہے
——
باپ بوجھ ڈھوتا تھا کیا جہیز دے پاتا
اس لیے وہ شہزادی آج تک کنواری ہے
——
ختم ہو جائیں امنگیں یہ ستم مت کرنا
باغبانو ! نئی شاخوں کو قلم مت کرنا
——
چھت دھوپ کی ہے اور در و دیوار درد کے
وعدوں کا یہ مکان بڑا خوشنما سا ہے
——
کوئی سبز منظر دکھائی نہ دے گا
لہو رنگ موسم ہے حدِ نظر تک
——
برسوں کی آرزوئیں ، برسوں کی محنتیں تھیں
اور لوگ کہہ رہے ہیں اک جھونپڑا جلا ہے
——
اور بھی آسمان باقی ہیں
دیکھیے تو حصار سے باہر
——
ہمارے عہد کے بچے تو گُم ہیں فکرِ روزی میں
وہ کیا کھیلیں کھلونوں سے جنہیں بچپن نہیں ملتا
——آنکھ بھر آئی کسی سے جو ملاقات ہوئی
خشک موسم تھا مگر ٹوٹ کے برسات ہوئی

آپ ہی کی ہے عدالت آپ ہی منصف بھی ہیں
یہ تو کہیے آپ کے عیب و ہنر دیکھے گا کون

باپ بوجھ ڈھوتا تھا کیا جہیز دے پاتا
اس لئے وہ شہزادی آج تک کنواری ہے

یہ کرداروں کے گندے آئنے اپنے ہی گھر رکھئے
یہاں پر کون کتنا پارسا ہے ہم سمجھتے ہیں

سفر کے بیچ یہ کیسا بدل گیا موسم
کہ پھر کسی نے کسی کی طرف نہیں دیکھا

آندھیاں زور دکھائیں بھی تو کیا ہوتا ہے
گل کھلانے کا ہنر بادِ صبا جانتی ہے

ہمارے دل پہ جو زخموں کا باب لکھا ہے
اسی میں وقت کا سارا حساب لکھا ہے

ادھر تو درد کا پیالہ چھلکنے والا ہے
مگر وہ کہتے ہیں یہ داستان کچھ کم ہے

اک مکاں اور بلندی پہ بنانے نہ دیا
ہم کو پرواز کا موقع ہی ہوا نے نہ دیا

ان آنسوؤں کا کوئی قدردان مل جائے
کہ ہم بھی میرؔ کا دیوان لے کے آئے ہیں

خود کو پوشیدہ نہ رکھو بند کلیوں کی طرح
پھول کہتے ہیں تمہیں سب لوگ تو مہکا کرو

دن بھی ڈوبا کہ نہیں یہ مجھے معلوم نہیں
جس جگہ بجھ گئے آنکھوں کے دئے رات ہوئی

کوئی تخلیق ہو خونِ جگر سے جنم لیتی ہے
کہانی لکھ نہیں سکتے کہانی مانگنے والے

جو پارسا ہو تو کیوں امتحاں سے ڈرتے ہو
ہم اعتبار کا میزان لے کے آئے ہیں

یہ اشک تیرے مرے رائیگاں نہ جائیں گے
انہیں چراغوں سے روشن محبتیں ہوں گی

انہیں پہ سارے مصائب کا بوجھ رکھا ہے
جو تیرے شہر میں ایمان لے کے آئے ہیں

زلف و رخ کے سائے میں زندگی گزاری ہے
دھوپ بھی ہماری ہے چھاؤں بھی ہماری ہے

کوئی بچنے کا نہیں سب کا پتا جانتی ہے
کس طرف آگ لگانا ہے ہوا جانتی ہے

ستم گروں کے ستم کی اڑان کچھ کم ہے
ابھی زمیں کے لئے آسمان کچھ کم ہے
——
ناکام کہیں ایسا مقدر نہیں دیکھا
خوشیوں نے کبھی ہم کو پلٹ کر نہیں دیکھا
ہاں خاک اڑاتے ہوئے موسم تو ملے ہیں
موسم کی ہتھیلی پر گلِ تر نہیں دیکھا
یوں مجھ سے کوئی میرا پتا پوچھ رہا ہے
اس نے کبھی جیسے کہ میرا گھر نہیں دیکھا
دیکھا ہے ابھی چاند نکلتے ہوئے تم نے
بپھرا ہوا بے چین سمندر نہیں دیکھا
کیا ظلم ہے اوجھل ہوئے جاتے ہو نظر سے
میں نے تو ابھی آنکھ بھی بھر کر نہیں دیکھا
یوں محو عبارت ہوئے ہم یاد میں ان کی
پھر دل سے کبھی جھانک کر باہر نہیں دیکھا
منظر یہ میرا شہر ہے سچائی کا مقتل
سچائی کے شانوں پہ کبھی سر نہیں دیکھا
——
طاقتیں تمہاری ہیں اور خدا ہمارا ہے
عکس پر نہ اِتراؤ، آئینہ ہمارا ہے
آپ کی غلامی کا، بوجھ ہم نہ ڈھوئیں گے
آبرو سے مرنے کا، فیصلہ ہمارا ہے
عمر بھر تو کوئی بھی، جنگ لڑ نہیں سکتا
تم بھی ٹوٹ جاؤ گے، تجربہ ہمارا ہے
اپنی رہنمائی پر، اب غرور مت کرنا
آپ سے بہت آگے، نقشِ پا ہمارا ہے
غیرتِ جہاد اپنی، زخم کھا کے جاگے گی
پہلا وار تم کر لو، دوسرا ہمارا ہے​
………………
ستمگروں کے ستم کی اڑان کچھ کم ہے
ابھی زمین کے لیے آسمان کچھ کم ہے
جو اس خیال کو بھولے تو مارے جاؤ گے
کہ اپنی سمت قیامت کا دھیان کچھ کم ہے
ہمارے شہر میں خیر و عافیت ہے مگر
یہی کمی ہے کہ امن و امان کچھ کم ہے
بنا رہا ہے فلک بھی عذاب میرے لیے
تیری زمین پہ کیا امتحان کچھ کم ہے
ابھی شمار کے قابل زخم دل میرے
ابھی وہ دشمن جاں مہربان کچھ کم ہے
ادھر تو درد کا پیالہ چھلکنے والا ہے
مگر وہ کہتے ہیں یہ داستان کچھ کم ہے
ہوائے وقت ذرا پیرہن کی خیر منا
یہ مت سمجھو کہ پرندوں میں جان کچھ کم ہے
——
بدلتے وقت کا اک سلسلہ سا لگتا ہے
کہ جب بھی دیکھو اسے دوسرا سا لگتا ہے
تمہارا حسن کسی آدمی کا حسن نہیں
کسی بزرگ کی سچی دعا سا لگتا ہے
تیری نگاہ کو تمیزِ رنگ و نور کہاں
مجھے تو خوں بھی رنگِ حنا سا لگتا ہے
دماغ و دل ہوں اگر مطمئن تو چھاؤں ہے دھوپ
تھپیڑا لُو کا بھی ٹھنڈی ہوا سا لگتا ہے
تمہارا ہاتھ جو آیا ہے ہاتھ میں میرے
اب اعتبار کا موسم ہرا سا لگتا ہے
نکل کے دیکھو کبھی نفرتوں کے پنجرے سے
تمام شہر کا منظر کھلا سا لگتا ہے
…………………


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/