منتخب غزلیں

جو یہ کہتے ہیں کہ ہر حال میں خوش ہیں ہم تم ان کے د…

جو یہ کہتے ہیں کہ ہر حال میں خوش ہیں ہم تم
ان کے دل میں بھی مقدر کا گلہ ہوتا ہے
——
عندلیب شادانی کا یوم پیدائش
(پیدائش: 1 مارچ، 1904ء- وفات: 29 جولائی، 1969ء)
——
منتخب کلام
——
دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو
آس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا ویسے ہم گھبرائے تو
——
دل پر چوٹ پڑی ہے تب تو آہ لبوں تک آئی ہے
یوں ہی چھن سے بول اٹھنا تو شیشہ کا دستور نہیں
——
میں نگاہ سے دل کا مدعا سمجھتا ہوں
آؤ میں تمہیں چھیڑوں اور معذرت چاہوں
——
میں نے مانا تمہیں کچھ مجھ سے سروکار نہ تھا
جاتے جاتے مجھے کیوں تم نے پلٹ کر دیکھا
——
جو یہ کہتے ہیں کہ ہر حال میں خوش ہیں ہم تم
ان کے دل میں بھی مقدر کا گلہ ہوتا ہے
——
عشق سے ہوتا ہے آغاز حیات
اس سے پہلے زندگی الزام ہے
——
یہ جانتا ہوں کہ میں تجھ کو پا نہیں سکتا
ہر ایک سانس میں بڑھتی ہے آرزو تیری
——
تم جبرِ محبت کیا جانو ، اچھا یہ بتاؤ تم نے کبھی
ہنستی ہوئی آںکھوں کے پیچھے اشکوں کا سمندر دیکھا ہے ؟
——
رسوائی کے ڈر سے کوئی رازِ محبت چُھپتا ہے
آہیں روکیں ، آنسو روکیں ، رنگ مگر اُڑ جائے تو
——
سنتے آئے تھے گیا وقت پلٹتا ہی نہیں
مگر اک بھولنے والے نے ہمیں یاد کیا
——
تم چاندنی ہو ، پھول ہو ، نغمہ ہو شعر ہو
اللہ اے، حسنِ ذوق میرے انتخاب کا
——
تم دور تھے نظر سے اور چاندنی کھلی تھی
آنکھوں میں رات پیہم ٹوٹا کٹے تارے
——
وہ چاندنی میں تیرے تبسم کی کہکشاں
کیا ایک بار اور میسر نہ آئے گی ؟
——
نظر میں یوں ہیں محبت کی چاندنی راتیں
وہیں سے جیسے ابھی اٹھ کے آرہا ہوں میں
——
اپنی وفا سے بڑھ کے ہے تیری وفا پہ ناز
اب حسرتوں کو شکوۂ حرماں نہیں رہا
رکھ لی تری وفا نے محبت کی آبرو
میں اپنی آرزو سے پشیماں نہیں رہا
——
دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو
آس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا ویسے ہم گھبرائے تو
شفق دھنک مہتاب گھٹائیں تارے نغمے بجلی پھول
اس دامن میں کیا کیا کچھ ہے دامن ہاتھ میں آئے تو
چاہت کے بدلے میں ہم تو بیچ دیں اپنی مرضی تک
کوئی ملے تو دل کا گاہک کوئی ہمیں اپنائے تو
کیوں یہ مہرانگیز تبسم مد نظر جب کچھ بھی نہیں
ہائے کوئی انجان اگر اس دھوکے میں آ جائے تو
سنی سنائی بات نہیں یہ اپنے اوپر بیتی ہے
پھول نکلتے ہیں شعلوں سے چاہت آگ لگائے تو
جھوٹ ہے سب تاریخ ہمیشہ اپنے کو دہراتی ہے
اچھا میرا خواب جوانی تھوڑا سا دہرائے تو
نادانی اور مجبوری میں یارو کچھ تو فرق کرو
اک بے بس انسان کرے کیا ٹوٹ کے دل آ جائے تو
——
صحن‌ چمن ہے گوشۂ زنداں ترے بغیر
معمورۂ حیات ہے ویراں ترے بغیر
چھپ چھپ کے جس کو دیکھنے آتا تھا ماہتاب
ظلمت کدہ ہے اب وہ شبستاں ترے بغیر
جلتا ہے چارہ ساز کی نادانیوں پہ جی
میں اور میرے درد کا درماں ترے بغیر
سوتی ہیں اس میں کتنی امیدیں فنا کی نیند
سینہ ہے ایک شہر خموشاں ترے بغیر
میری ہنسی کہ تھی ترا سرمایۂ نشاط
آ دیکھ اب ہے خندۂ گریاں ترے بغیر
مہتاب کے ہجوم میں گم ہو گئی تھی رات
پھر قہر بن گیا غم دوراں ترے بغیر
جلتا ہے تیز تیز تڑپتا ہے پے بہ پے
دل ہے کہ ایک شعلۂ لرزاں ترے بغیر
میں ہیچ ہوں مگر مجھے اتنا سبک نہ کر
میں اور نشاط زیست کا ارماں ترے بغیر
جس زندگی کو تو نے بنایا تھا زندگی
وہ زندگی ہے خواب پریشاں ترے بغیر
——
ہنستی آنکھیں ہنستا چہرہ اک مجبور بہانہ ہے
چاند میں سچ مچ نور کہاں ہے چاند تو اک ویرانہ ہے
ناز پرستش بن جائے گا صبر ذرا اے شورش دل
الفت کی دیوانہ گری سے حسن ابھی بیگانہ ہے
مجھ کو تنہا چھوڑنے والے تو نہ کہیں تنہا رہ جائے
جس پر تجھ کو ناز ہے اتنا اس کا نام زمانہ ہے
تم سے مجھ کو شکوہ کیوں ہو آخر باسی پھولوں کو
کون گلے کا ہار بنائے کون ایسا دیوانہ ہے
ایک نظر میں دنیا بھر سے ایک نظر میں کچھ بھی نہیں
چاہت میں انداز نظر ہی چاہت کا پیمانہ ہے
خود تم نے آغاز کیا تھا جس کا ایک تبسم سے
محرومی کے آنسو بن کر ختم پہ وہ افسانہ ہے
یوں ہے اس کی بزم طرب میں اک دل غم دیدہ جیسے
چاروں جانب رنگ محل ہیں بیچ میں اک ویرانہ ہے
………………………


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/