منتخب غزلیں
ساقی فاروقی کا یومِ پیدائش December 21, 1936 . ساق…

ساقی فاروقی کا یومِ پیدائش
December 21, 1936
.
ساقی فاروقی کا پورا نام قاضی محمد شمشاد فاروقی تھا اور آپ بھارت کے شہر گورکھپور میں 21 دسمبر 1936 کو پیدا ہوئے۔ ساقی فاروقی 1948 تک بھارت میں رہے اور پھر بنگلا دیش ہجرت کر گئے جہاں وہ 1952 تک مقیم رہے اور پھر پاکستان منتقل ہو گئے۔ آپ ماہنامہ نوائے کراچی کے ایڈیٹر رہے اور پھر کراچی سے بی اے کرنے کے بعد برطانیہ چلے گئے۔ آپ نے لندن کمپیوٹر پرامنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد برطانیہ کو اپنا دوسرا گھر بنا لیا اور وہیں 81 برس کی عمر میں ساقی فاروقی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
..
یہ کیا طلسم ہے کیوں رات بھر سسکتا ہوں
وہ کون ہے جو دیوں میں جلا رہا ہے مجھے
….
مجھے خبر تھی مرا انتظار گھر میں رہا
یہ حادثہ تھا کہ میں عمر بھر سفر میں رہا
…..
مدت ہوئی اک شخص نے دل توڑ دیا تھا
اس واسطے اپنوں سے محبت نہیں کرتے
….
خدا کے واسطے موقع نہ دے شکایت کا
کہ دوستی کی طرح دشمنی نبھایا کر
…..
اب گھر بھی نہیں گھر کی تمنا بھی نہیں ہے
مدت ہوئی سوچا تھا کہ گھر جائیں گے اک دن
….
مجھ کو مری شکست کی دوہری سزا ملی
تجھ سے بچھڑ کے زندگی دنیا سے جا ملی
…..
میں نے چاہا تھا کہ اشکوں کا تماشا دیکھوں
اور آنکھوں کا خزانہ تھا کہ خالی نکلا
اک یاد کی موجودگی سہہ بھی نہیں سکتے
یہ بات کسی اور سے کہہ بھی نہیں سکتے
…..
پیاس بڑھتی جا رہی ہے بہتا دریا دیکھ کر
بھاگتی جاتی ہیں لہریں یہ تماشا دیکھ کر
…..
جس کی ہوس کے واسطے دنیا ہوئی عزیز
واپس ہوئے تو اس کی محبت خفا ملی
….
قتل کرنے کا ارادہ ہے مگر سوچتا ہوں
تو اگر آئے تو ہاتھوں میں جھجک پیدا ہو
….
میں ان سے بھی ملا کرتا ہوں جن سے دل نہیں ملتا
مگر خود سے بچھڑ جانے کا اندیشہ بھی رہتا ہے
….
میں اپنے شہر سے مایوس ہو کے لوٹ آیا
پرانے سوگ بسے تھے نئے مکانوں میں
…..
میری آنکھوں میں انوکھے جرم کی تجویز تھی
صرف دیکھا تھا اسے اس کا بدن میلا ہوا
….
میری عیار نگاہوں سے وفا مانگتا ہے
وہ بھی محتاج ملا وہ بھی سوالی نکلا
….
ایک ایک کر کے لوگ بچھڑتے چلے گئے
یہ کیا ہوا کہ وقفۂ ماتم نہیں ملا
….
آگ ہو دل میں تو آنکھوں میں دھنک پیدا ہو
روح میں روشنی لہجے میں چمک پیدا ہو
…..
دل ہی عیار ہے بے وجہ دھڑک اٹھتا ہے
ورنہ افسردہ ہواؤں میں بلاوا کیسا
….
تم اور کسی کے ہو تو ہم اور کسی کے
اور دونوں ہی قسمت کی شکایت نہیں کرتے
…..
لوگ لمحوں میں زندہ رہتے ہیں
وقت اکیلا اسی سبب سے ہے
….
ناموں کا اک ہجوم سہی میرے آس پاس
دل سن کے ایک نام دھڑکتا ضرور ہے
…..
میں کھل نہیں سکا کہ مجھے نم نہیں ملا
ساقی مرے مزاج کا موسم نہیں ملا
….
ہم تنگنائے ہجر سے باہر نہیں گئے
تجھ سے بچھڑ کے زندہ رہے مر نہیں گئے
…..
عجب کہ صبر کی میعاد بڑھتی جاتی ہے
یہ کون لوگ ہیں فریاد کیوں نہیں کرتے
….
ڈوب جانے کا سلیقہ نہیں آیا ورنہ
دل میں گرداب تھے لہروں کی نظر میں ہم تھے
…..
مجھے سمجھنے کی کوشش نہ کی محبت نے
یہ اور بات ذرا پیچ دار میں بھی تھا
….
اس کے وارث نظر نہیں آئے
شاید اس لاش کے پتے ہیں بہت
…..
وہ خدا ہے تو مری روح میں اقرار کرے
کیوں پریشان کرے دور کا بسنے والا
….
حادثہ یہ ہے کہ ہم جاں نہ معطر کر پائے
وہ تو خوش بو تھا اسے یوں بھی بکھر جانا تھا
…..
میں اپنی آنکھوں سے اپنا زوال دیکھتا ہوں
میں بے وفا ہوں مگر بے خبر نہ جان مجھے
…..
ابھی نظر میں ٹھہر دھیان سے اتر کے نہ جا
اس ایک آن میں سب کچھ تباہ کر کے نہ جا
…..
خاک میں اس کی جدائی میں پریشان پھروں
جب کہ یہ ملنا بچھڑنا مری مرضی نکلا
….
وہی جینے کی آزادی وہی مرنے کی جلدی ہے
دوالی دیکھ لی ہم نے دسہرے کر لیے ہم نے
…..
مجھ میں سات سمندر شور مچاتے ہیں
ایک خیال نے دہشت پھیلا رکھی ہے
…..
نئے چراغ جلا یاد کے خرابے میں
وطن میں رات سہی روشنی منایا کر
….
مگر ان سیپیوں میں پانیوں کا شور کیسا تھا
سمندر سنتے سنتے کان بہرے کر لیے ہم نے
….
صبح تک رات کی زنجیر پگھل جائے گی
لوگ پاگل ہیں ستاروں سے الجھنا کیسا
…..
وہی آنکھوں میں اور آنکھوں سے پوشیدہ بھی رہتا ہے
مری یادوں میں اک بھولا ہوا چہرا بھی رہتا ہے
….
میرے اندر اسے کھونے کی تمنا کیوں ہے
جس کے ملنے سے مری ذات کو اظہار ملے
…..
حیرانی میں ہوں آخر کس کی پرچھائیں ہوں
وہ بھی دھیان میں آیا جس کا سایہ کوئی نہ تھا
….
مٹ جائے گا سحر تمہاری آنکھوں کا
اپنے پاس بلا لے گی دنیا اک دن
…..
تیرے چہرے پہ اجالے کی سخاوت ایسی
اور مری روح میں نادار اندھیرا ایسا
……………..
December 21, 1936
.
ساقی فاروقی کا پورا نام قاضی محمد شمشاد فاروقی تھا اور آپ بھارت کے شہر گورکھپور میں 21 دسمبر 1936 کو پیدا ہوئے۔ ساقی فاروقی 1948 تک بھارت میں رہے اور پھر بنگلا دیش ہجرت کر گئے جہاں وہ 1952 تک مقیم رہے اور پھر پاکستان منتقل ہو گئے۔ آپ ماہنامہ نوائے کراچی کے ایڈیٹر رہے اور پھر کراچی سے بی اے کرنے کے بعد برطانیہ چلے گئے۔ آپ نے لندن کمپیوٹر پرامنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد برطانیہ کو اپنا دوسرا گھر بنا لیا اور وہیں 81 برس کی عمر میں ساقی فاروقی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
..
یہ کیا طلسم ہے کیوں رات بھر سسکتا ہوں
وہ کون ہے جو دیوں میں جلا رہا ہے مجھے
….
مجھے خبر تھی مرا انتظار گھر میں رہا
یہ حادثہ تھا کہ میں عمر بھر سفر میں رہا
…..
مدت ہوئی اک شخص نے دل توڑ دیا تھا
اس واسطے اپنوں سے محبت نہیں کرتے
….
خدا کے واسطے موقع نہ دے شکایت کا
کہ دوستی کی طرح دشمنی نبھایا کر
…..
اب گھر بھی نہیں گھر کی تمنا بھی نہیں ہے
مدت ہوئی سوچا تھا کہ گھر جائیں گے اک دن
….
مجھ کو مری شکست کی دوہری سزا ملی
تجھ سے بچھڑ کے زندگی دنیا سے جا ملی
…..
میں نے چاہا تھا کہ اشکوں کا تماشا دیکھوں
اور آنکھوں کا خزانہ تھا کہ خالی نکلا
اک یاد کی موجودگی سہہ بھی نہیں سکتے
یہ بات کسی اور سے کہہ بھی نہیں سکتے
…..
پیاس بڑھتی جا رہی ہے بہتا دریا دیکھ کر
بھاگتی جاتی ہیں لہریں یہ تماشا دیکھ کر
…..
جس کی ہوس کے واسطے دنیا ہوئی عزیز
واپس ہوئے تو اس کی محبت خفا ملی
….
قتل کرنے کا ارادہ ہے مگر سوچتا ہوں
تو اگر آئے تو ہاتھوں میں جھجک پیدا ہو
….
میں ان سے بھی ملا کرتا ہوں جن سے دل نہیں ملتا
مگر خود سے بچھڑ جانے کا اندیشہ بھی رہتا ہے
….
میں اپنے شہر سے مایوس ہو کے لوٹ آیا
پرانے سوگ بسے تھے نئے مکانوں میں
…..
میری آنکھوں میں انوکھے جرم کی تجویز تھی
صرف دیکھا تھا اسے اس کا بدن میلا ہوا
….
میری عیار نگاہوں سے وفا مانگتا ہے
وہ بھی محتاج ملا وہ بھی سوالی نکلا
….
ایک ایک کر کے لوگ بچھڑتے چلے گئے
یہ کیا ہوا کہ وقفۂ ماتم نہیں ملا
….
آگ ہو دل میں تو آنکھوں میں دھنک پیدا ہو
روح میں روشنی لہجے میں چمک پیدا ہو
…..
دل ہی عیار ہے بے وجہ دھڑک اٹھتا ہے
ورنہ افسردہ ہواؤں میں بلاوا کیسا
….
تم اور کسی کے ہو تو ہم اور کسی کے
اور دونوں ہی قسمت کی شکایت نہیں کرتے
…..
لوگ لمحوں میں زندہ رہتے ہیں
وقت اکیلا اسی سبب سے ہے
….
ناموں کا اک ہجوم سہی میرے آس پاس
دل سن کے ایک نام دھڑکتا ضرور ہے
…..
میں کھل نہیں سکا کہ مجھے نم نہیں ملا
ساقی مرے مزاج کا موسم نہیں ملا
….
ہم تنگنائے ہجر سے باہر نہیں گئے
تجھ سے بچھڑ کے زندہ رہے مر نہیں گئے
…..
عجب کہ صبر کی میعاد بڑھتی جاتی ہے
یہ کون لوگ ہیں فریاد کیوں نہیں کرتے
….
ڈوب جانے کا سلیقہ نہیں آیا ورنہ
دل میں گرداب تھے لہروں کی نظر میں ہم تھے
…..
مجھے سمجھنے کی کوشش نہ کی محبت نے
یہ اور بات ذرا پیچ دار میں بھی تھا
….
اس کے وارث نظر نہیں آئے
شاید اس لاش کے پتے ہیں بہت
…..
وہ خدا ہے تو مری روح میں اقرار کرے
کیوں پریشان کرے دور کا بسنے والا
….
حادثہ یہ ہے کہ ہم جاں نہ معطر کر پائے
وہ تو خوش بو تھا اسے یوں بھی بکھر جانا تھا
…..
میں اپنی آنکھوں سے اپنا زوال دیکھتا ہوں
میں بے وفا ہوں مگر بے خبر نہ جان مجھے
…..
ابھی نظر میں ٹھہر دھیان سے اتر کے نہ جا
اس ایک آن میں سب کچھ تباہ کر کے نہ جا
…..
خاک میں اس کی جدائی میں پریشان پھروں
جب کہ یہ ملنا بچھڑنا مری مرضی نکلا
….
وہی جینے کی آزادی وہی مرنے کی جلدی ہے
دوالی دیکھ لی ہم نے دسہرے کر لیے ہم نے
…..
مجھ میں سات سمندر شور مچاتے ہیں
ایک خیال نے دہشت پھیلا رکھی ہے
…..
نئے چراغ جلا یاد کے خرابے میں
وطن میں رات سہی روشنی منایا کر
….
مگر ان سیپیوں میں پانیوں کا شور کیسا تھا
سمندر سنتے سنتے کان بہرے کر لیے ہم نے
….
صبح تک رات کی زنجیر پگھل جائے گی
لوگ پاگل ہیں ستاروں سے الجھنا کیسا
…..
وہی آنکھوں میں اور آنکھوں سے پوشیدہ بھی رہتا ہے
مری یادوں میں اک بھولا ہوا چہرا بھی رہتا ہے
….
میرے اندر اسے کھونے کی تمنا کیوں ہے
جس کے ملنے سے مری ذات کو اظہار ملے
…..
حیرانی میں ہوں آخر کس کی پرچھائیں ہوں
وہ بھی دھیان میں آیا جس کا سایہ کوئی نہ تھا
….
مٹ جائے گا سحر تمہاری آنکھوں کا
اپنے پاس بلا لے گی دنیا اک دن
…..
تیرے چہرے پہ اجالے کی سخاوت ایسی
اور مری روح میں نادار اندھیرا ایسا
……………..


