منتخب غزلیں
( غیــر مطبــوعــہ ) درد کی تفســیـر میں اب زخـــ…

( غیــر مطبــوعــہ )
درد کی تفســیـر میں اب زخــــم کھولا جائے گا
اب کے دل کو پھر جلانے اک بھبھولا جائے گا
آنکھ جیسے کُھل چکی ہے’ سَر میں سودا بھی نہیں
سو ‘ کہانی کا بھی اک اک حرف تولا جائے گا
فیصلہ ہے’ ہر صداقت کو رگیدا جائے گا
سچ کے سارے رنگ لے کر مَکر گھولا جائے گا
سب خَـس و خاشاک ہیں بس.اس گواہی کے لیے
کَرگسوں کی سرزنِش کو اک ممولا جائے گا
ســامـراجی طاقتوں کی تاج پوشی کے لیے
جُھوٹ کی تشہیر ہو گی’ خوب بولا جائے گا
( ســـعـدیـہؔ بشـــیـر )

