تُو اگر مجھ سے گریزاں ہے تو چل یوں ہی سہی نیستی …
تُو اگر مجھ سے گریزاں ہے تو چل یوں ہی سہی
نیستی زیست کا حل ہے تو یہ حل یوں ہی سہی
آج کی بات ہے فردا میں فنا کی یورش
کل خرابات کا فتنہ ہے سو کل یوں ہی سہی
یکے از کشتۂ کوچہ ہے اِسے کیا کہیے
میرے بارے میں ترا ردِّعمل یوں ہی سہی
کیا ضروری ہے کہ ہر شعر سوانح بھی ہو
اک سبب اور سہی ، ایک غزل یوں ہی سہی
بخیہ بخیہ ہے ترے سامنے خوش پیرہنی
تُو ہے عاجز تو رفو کارِ ازل یوں ہی سہی
کوئی یوں ہی سا بہانہ سرِ صحرائے عدم
اِس تحیّر سے کسی طور نکل ، یوں ہی سہی
اِک گزرتا ہے کٹھن دوسرا آ جاتا ہے
راہ دشوار سہی ، زیست کے پل یوں ہی سہی
کون زنجیر تھی ، جاتے ہی نہیں جسم سے نیل
لم یزل یوں ہی سہی، عزّوجل یوں ہی سہی
ہر بد آہنگ مسلط ہے خوش آہنگوں پر
اے خداوند ترا ردّوبدل یوں ہی سہی
شعر کہتے ہوئے مر جاؤں گا اختر عثمان
مجھے آئے گی اجل اور اجل یوں ہی سہی
(اختر عثمان)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی


