منتخب غزلیں
وقت اپنی جگہ پہ قائم ہے ہم گزرتے ہیں ایک اِک پل سے…

وقت اپنی جگہ پہ قائم ہے
ہم گزرتے ہیں ایک اِک پل سے
…
حیرت فرخ آبادی کا یومِ پیدائش
8 فروری 1930
….
مرے عشق کا مقدر مری زندگی کا حاصل
غمِ یار کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہے
….
ان دنوں جی دکھا سا رہتا ہے
ہر گھڑی دل بجھا سا رہتا ہے
کتنے جھیلوں عذاب رات اور دن
ذہن بھی اب تھکا سا رہتا ہے
ذہن زخمی ہے روح بھی زخمی
دل میں میلہ لگا سا رہتا ہے
کوئی موسم ہو بدلیوں کا راج
اب تو سورج چھپا سا رہتا ہے
کس طرف جائے یہ سڑک جانے
بس یہ کھٹکا لگا سا رہتا ہے
چار سو نفرتوں کی ہے بارش
زخم دل کا ہرا سا رہتا ہے
اک نظر دیکھ لوں وطن اپنا
جل رہا ہے ذرا سا رہتا ہے
جانے کیا ہو گیا ہے حیرتؔ کو
خود سے خود ہی خفا سا رہتا ہے
…..
جو رخ سے پردہ اٹھاؤ تو کوئی بات بنے
ہمیں بھی جلوہ دکھاؤ تو کوئی بات بنے
ہمارے سامنے آؤ تو کوئی بات بنے
ہمارے ہوش اڑاؤ تو کوئی بات بنے
سنا ہے طور پہ موسیٰ گرے تھے سجدے میں
ہمیں بھی سجدہ کراؤ تو کوئی بات بنے
غموں کی آگ ہے دل میں جہان جلتا ہے
ذرا یہ آگ بجھاؤ تو کوئی بات بنے
عجیب ڈھنگ سے توڑا ہے دل محبت نے
اسے بھی آس بندھاؤ تو کوئی بات بنے
بہت اداس ہے تاریک ہے جہاں میرا
کہیں سے روشنی لاؤ تو کوئی بات بنے
خرد کے دیپ بجھے چار سو اندھیرا ہے
جلاؤ دل ہی جلاؤ تو کوئی بات بنے
ازل سے نام سنا ہے شراب وحدت کا
کبھی ہمیں بھی پلاؤ تو کوئی بات بنے
یوں ہی گزار دی جو زندگی تو کیا حاصل
کسی کے کام جو آؤ تو کوئی بات بنے
سنا ہے ہم نے دکھاتے ہو معجزے اکثر
میں گر گیا ہوں اٹھاؤ تو کوئی بات بنے
وہ جس میں نام تمہارا ہمارا آتا ہے
وہی فسانہ سناؤ تو کوئی بات بنے
تمہارا ترک محبت بھی نا مکمل ہے
خیال میں بھی نہ آؤ تو کوئی بات بنے
فریب کھائے ہیں حیرتؔ طرح طرح کے مگر
فریب عشق بھی کھاؤ تو کوئی بات بنے
….
جو رخ سے پردہ اٹھاؤ تو کوئی بات بنے
ہمیں بھی جلوہ دکھاؤ تو کوئی بات بنے
ہمارے سامنے آؤ تو کوئی بات بنے
ہمارے ہوش اڑاؤ تو کوئی بات بنے
سنا ہے طور پہ موسیٰ گرے تھے سجدے میں
ہمیں بھی سجدہ کراؤ تو کوئی بات بنے
غموں کی آگ ہے دل میں جہان جلتا ہے
ذرا یہ آگ بجھاؤ تو کوئی بات بنے
عجیب ڈھنگ سے توڑا ہے دل محبت نے
اسے بھی آس بندھاؤ تو کوئی بات بنے
بہت اداس ہے تاریک ہے جہاں میرا
کہیں سے روشنی لاؤ تو کوئی بات بنے
خرد کے دیپ بجھے چار سو اندھیرا ہے
جلاؤ دل ہی جلاؤ تو کوئی بات بنے
ازل سے نام سنا ہے شراب وحدت کا
کبھی ہمیں بھی پلاؤ تو کوئی بات بنے
یوں ہی گزار دی جو زندگی تو کیا حاصل
کسی کے کام جو آؤ تو کوئی بات بنے
سنا ہے ہم نے دکھاتے ہو معجزے اکثر
میں گر گیا ہوں اٹھاؤ تو کوئی بات بنے
وہ جس میں نام تمہارا ہمارا آتا ہے
وہی فسانہ سناؤ تو کوئی بات بنے
تمہارا ترک محبت بھی نا مکمل ہے
خیال میں بھی نہ آؤ تو کوئی بات بنے
فریب کھائے ہیں حیرتؔ طرح طرح کے مگر
فریب عشق بھی کھاؤ تو کوئی بات بنے
ادا ہم سے نماز زندگی ہوتی نہیں
…..
دل جلانے سے بھی اب تو روشنی ہوتی نہیں
زندگانی اس قدر بے کیف ہے کچھ ان دنوں
ان کے آ جانے سے بھی اب تو خوشی ہوتی نہیں
تیز ہو جاتی تھی دھڑکن آتے ہی تیرا خیال
نام تیرا سن کے بھی اب سنسنی ہوتی نہیں
حسن پہ مرتی ہے دنیا جس پہ آتا ہے زوال
ہم سے ایسی چند روزہ عاشقی ہوتی نہیں
یوں تو ہو جاتی ہیں پوری دھیرے دھیرے خواہشیں
جس کی ہم کو چاہ ہے بس اک وہی ہوتی نہیں
پیار جس نے جتنا مانگا اس کو اتنا دے دیا
کیا خزانہ ہے کہ اس میں کچھ کمی ہوتی نہیں
ضبط غم کی سرحدوں کو ہم نے حیرتؔ چھو لیا
غم ہوں چاہے کتنے آنکھوں میں نمی ہوتی نہیں
…..
تری بے نیازیوں کا مجھے کچھ گلہ نہیں ہے
مرا دل ہے خوب واقف ترا دل برا نہیں ہے
غم دوست در حقیقت ترا رہنمائے منزل
وہی کم نگاہ نکلا جسے حوصلہ نہیں ہے
مرے عشق کا مقدر مری زندگی کا حاصل
غم یار کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہے
ترا درد زندگی ہے ترا غم مرا مقدر
مجھے اور چاہیے کیا مرے گھر میں کیا نہیں ہے
مجھے تو نے بخش دی ہے جو سزائے درد فرقت
یہ تو عین زندگی ہے یہ سزا سزا نہیں ہے
تری جستجو کے صدقے یہ کھلا ہے راز مجھ پر
کہ میان دیر و کعبہ کوئی فاصلہ نہیں ہے
رہ خلق میں لٹا دے جو متاع زندگانی
وہی بندۂ خدا ہے وہ اگر خدا نہیں ہے
نہ جنوں کی حد ہے کوئی ہے نہ عشق ہی مقید
کہاں جا رہا ہوں یارو مجھے کچھ پتا نہیں ہے
یہ جو روشنی ہے ہر سو تو خرد ہے کیوں پریشاں
یہ جو جل رہا ہے دل ہے یہ کوئی دیا نہیں ہے
مجھے عشق ہے خودی سے میں فریفتہ ہوں خود پر
نہیں جو قریب میرے وہ مرا خدا نہیں ہے
جو مزا ہے تشنگی میں ہے جو لطف بے قراری
تجھے کیا بتاؤں ہمدم ترا دل جلا نہیں ہے
کرے کیوں اثر نہ حیرتؔ یہ غزل تری دلوں پر
یہ نوائے ساز دل ہے کوئی فلسفہ نہیں ہے
…………………………
ہم گزرتے ہیں ایک اِک پل سے
…
حیرت فرخ آبادی کا یومِ پیدائش
8 فروری 1930
….
مرے عشق کا مقدر مری زندگی کا حاصل
غمِ یار کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہے
….
ان دنوں جی دکھا سا رہتا ہے
ہر گھڑی دل بجھا سا رہتا ہے
کتنے جھیلوں عذاب رات اور دن
ذہن بھی اب تھکا سا رہتا ہے
ذہن زخمی ہے روح بھی زخمی
دل میں میلہ لگا سا رہتا ہے
کوئی موسم ہو بدلیوں کا راج
اب تو سورج چھپا سا رہتا ہے
کس طرف جائے یہ سڑک جانے
بس یہ کھٹکا لگا سا رہتا ہے
چار سو نفرتوں کی ہے بارش
زخم دل کا ہرا سا رہتا ہے
اک نظر دیکھ لوں وطن اپنا
جل رہا ہے ذرا سا رہتا ہے
جانے کیا ہو گیا ہے حیرتؔ کو
خود سے خود ہی خفا سا رہتا ہے
…..
جو رخ سے پردہ اٹھاؤ تو کوئی بات بنے
ہمیں بھی جلوہ دکھاؤ تو کوئی بات بنے
ہمارے سامنے آؤ تو کوئی بات بنے
ہمارے ہوش اڑاؤ تو کوئی بات بنے
سنا ہے طور پہ موسیٰ گرے تھے سجدے میں
ہمیں بھی سجدہ کراؤ تو کوئی بات بنے
غموں کی آگ ہے دل میں جہان جلتا ہے
ذرا یہ آگ بجھاؤ تو کوئی بات بنے
عجیب ڈھنگ سے توڑا ہے دل محبت نے
اسے بھی آس بندھاؤ تو کوئی بات بنے
بہت اداس ہے تاریک ہے جہاں میرا
کہیں سے روشنی لاؤ تو کوئی بات بنے
خرد کے دیپ بجھے چار سو اندھیرا ہے
جلاؤ دل ہی جلاؤ تو کوئی بات بنے
ازل سے نام سنا ہے شراب وحدت کا
کبھی ہمیں بھی پلاؤ تو کوئی بات بنے
یوں ہی گزار دی جو زندگی تو کیا حاصل
کسی کے کام جو آؤ تو کوئی بات بنے
سنا ہے ہم نے دکھاتے ہو معجزے اکثر
میں گر گیا ہوں اٹھاؤ تو کوئی بات بنے
وہ جس میں نام تمہارا ہمارا آتا ہے
وہی فسانہ سناؤ تو کوئی بات بنے
تمہارا ترک محبت بھی نا مکمل ہے
خیال میں بھی نہ آؤ تو کوئی بات بنے
فریب کھائے ہیں حیرتؔ طرح طرح کے مگر
فریب عشق بھی کھاؤ تو کوئی بات بنے
….
جو رخ سے پردہ اٹھاؤ تو کوئی بات بنے
ہمیں بھی جلوہ دکھاؤ تو کوئی بات بنے
ہمارے سامنے آؤ تو کوئی بات بنے
ہمارے ہوش اڑاؤ تو کوئی بات بنے
سنا ہے طور پہ موسیٰ گرے تھے سجدے میں
ہمیں بھی سجدہ کراؤ تو کوئی بات بنے
غموں کی آگ ہے دل میں جہان جلتا ہے
ذرا یہ آگ بجھاؤ تو کوئی بات بنے
عجیب ڈھنگ سے توڑا ہے دل محبت نے
اسے بھی آس بندھاؤ تو کوئی بات بنے
بہت اداس ہے تاریک ہے جہاں میرا
کہیں سے روشنی لاؤ تو کوئی بات بنے
خرد کے دیپ بجھے چار سو اندھیرا ہے
جلاؤ دل ہی جلاؤ تو کوئی بات بنے
ازل سے نام سنا ہے شراب وحدت کا
کبھی ہمیں بھی پلاؤ تو کوئی بات بنے
یوں ہی گزار دی جو زندگی تو کیا حاصل
کسی کے کام جو آؤ تو کوئی بات بنے
سنا ہے ہم نے دکھاتے ہو معجزے اکثر
میں گر گیا ہوں اٹھاؤ تو کوئی بات بنے
وہ جس میں نام تمہارا ہمارا آتا ہے
وہی فسانہ سناؤ تو کوئی بات بنے
تمہارا ترک محبت بھی نا مکمل ہے
خیال میں بھی نہ آؤ تو کوئی بات بنے
فریب کھائے ہیں حیرتؔ طرح طرح کے مگر
فریب عشق بھی کھاؤ تو کوئی بات بنے
ادا ہم سے نماز زندگی ہوتی نہیں
…..
دل جلانے سے بھی اب تو روشنی ہوتی نہیں
زندگانی اس قدر بے کیف ہے کچھ ان دنوں
ان کے آ جانے سے بھی اب تو خوشی ہوتی نہیں
تیز ہو جاتی تھی دھڑکن آتے ہی تیرا خیال
نام تیرا سن کے بھی اب سنسنی ہوتی نہیں
حسن پہ مرتی ہے دنیا جس پہ آتا ہے زوال
ہم سے ایسی چند روزہ عاشقی ہوتی نہیں
یوں تو ہو جاتی ہیں پوری دھیرے دھیرے خواہشیں
جس کی ہم کو چاہ ہے بس اک وہی ہوتی نہیں
پیار جس نے جتنا مانگا اس کو اتنا دے دیا
کیا خزانہ ہے کہ اس میں کچھ کمی ہوتی نہیں
ضبط غم کی سرحدوں کو ہم نے حیرتؔ چھو لیا
غم ہوں چاہے کتنے آنکھوں میں نمی ہوتی نہیں
…..
تری بے نیازیوں کا مجھے کچھ گلہ نہیں ہے
مرا دل ہے خوب واقف ترا دل برا نہیں ہے
غم دوست در حقیقت ترا رہنمائے منزل
وہی کم نگاہ نکلا جسے حوصلہ نہیں ہے
مرے عشق کا مقدر مری زندگی کا حاصل
غم یار کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہے
ترا درد زندگی ہے ترا غم مرا مقدر
مجھے اور چاہیے کیا مرے گھر میں کیا نہیں ہے
مجھے تو نے بخش دی ہے جو سزائے درد فرقت
یہ تو عین زندگی ہے یہ سزا سزا نہیں ہے
تری جستجو کے صدقے یہ کھلا ہے راز مجھ پر
کہ میان دیر و کعبہ کوئی فاصلہ نہیں ہے
رہ خلق میں لٹا دے جو متاع زندگانی
وہی بندۂ خدا ہے وہ اگر خدا نہیں ہے
نہ جنوں کی حد ہے کوئی ہے نہ عشق ہی مقید
کہاں جا رہا ہوں یارو مجھے کچھ پتا نہیں ہے
یہ جو روشنی ہے ہر سو تو خرد ہے کیوں پریشاں
یہ جو جل رہا ہے دل ہے یہ کوئی دیا نہیں ہے
مجھے عشق ہے خودی سے میں فریفتہ ہوں خود پر
نہیں جو قریب میرے وہ مرا خدا نہیں ہے
جو مزا ہے تشنگی میں ہے جو لطف بے قراری
تجھے کیا بتاؤں ہمدم ترا دل جلا نہیں ہے
کرے کیوں اثر نہ حیرتؔ یہ غزل تری دلوں پر
یہ نوائے ساز دل ہے کوئی فلسفہ نہیں ہے
…………………………


