گھر میں قید محبت میں نے تم سے اجازت مانگی ہے جب…
میں نے تم سے اجازت مانگی ہے
جب خون ‘ پانی میں تبدیل نہیں ہو سکتا تھا ‘
پانی میں تبدیل ہو گیا ہے
جب آسمان ‘ جس کا نیلا شیشہ ‘
سمجھا جاتا تھا کہ ٹوٹ نہیں سکتا٬
ٹوٹ گیا ہے
جب سورج ‘ جو میں نے تمہارے کان میں
سپین کے آویزے کی طرح آویزاں کیا تھا
زمین پر گر کر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ہے
جب الفاظ
جس سے میں تمہیں ڈھانپ دیا کرتا تھا
جب تم سو جایا کرتی تھی
بدکے ہوئے پرندوں کی طرح اڑ گئے ہیں
تمہیں بے لباس چھوڑ کر
میں نے تم سے جانے کی اجازت مانگی ہے
جب وہ انتشار ‘ جو تیرے سینے میں ہے
میری خواہش سے ہم کلام نہیں رہا
جب کوئی خواہش نہیں رہی
تم سے بات کرنے کی
تم سے محبت کرنے کی
جب مجھ میں کوئی جوش نہیں رہا
کسی پر حملہ کرنے کا
کسی کو بچانے کا
ہم۔وقت کے دائروں میں گھر گئے ہیں
جہاں میرے ہاتھ اور تمہاری کلائی میں
فاصلہ تبدیل نہیں ہو رہا
جب تمہارے جسم اور میرے سونگھنے کی حس
کے درمیان فاصلہ تبدیل نہیں ہو رہا
جب تمہارے جسم اور میری موت کے دائرے میں
فاصلہ تبدیل نہیں رہا
میں نے تم سے جانے کی اجازت مانگی ہے
اتنے قلیل وقت میں
محبت نہیں کر سکتا
نہ ہی میرے پاس وہ جذبات
اور بوسے بچے ہیں
جو میں اس دوران واجب الادا بلوں کی طرح
کسی نہ کسی طرح ادا کر دیا کرتا تھا
میں نے تم سے اجازت مانگی ہے
ایک لمبی رخصت پر جانے کے لئے
میں جذبات سے تنگ آ گیا ہوں
تھک گیا ہوں
نہ محبت رہی ہے نہ خواہش
میں سجے سجائے گھر سے بھی اکتا گیا ہوں
جہاں میرے جذبات
اس کی دیواروں کی طرح چوکور ہیں
میری خواہشات
اس کے بڑے کمرے تک محدود ہیں
اور میری امنگیں بھی
اس کی چھت سے اونچی نہیں ہیں
میں پھاڑ دینا چاہتا ہوں
جہ تمثیلاتی پہناوے
یہ تمہارے آلات اور تمہارے نقاب
سب کو گولی مار دینا چاہتا ہوں
توڑ دینا چاہتا ہوں
وہ تمام رنگین بوتلیں
جن میں میرا خون بھرا ہے
کاٹ دینا چاہتا ہوں
انگوٹھیوں اور ہاروں کے یہ جنگل
جن سے تم مجھے لبھانا چاہتی ہو
چمڑے کی وہ پیٹی بھی توڑ دینا چاہتا ہوں
جس سے تم مجھے مارتی ہو
تباہ کر دینا چاہتا ہوں
تمام کلپ اور سوئیاں
ناخن پالش اور جستی زنجیریں
جو تم مجھ سے اعتراف کرانے کے لئے
استعمال کرتی ہو
میں وہ تمام نظمیں بھی قتل کر دینا چاہتا ہوں
جو میں نے لکھ کر تمہیں سنائیں
اور وہ تمام انتسابات بھی
جو میں نے جاری کئے
شدید محبت اور انتہائی حماقت کے لمحات میں۔
شاعر: نزار قبانی
مترجم: منو بھائی
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

