منتخب غزلیں
تمہیں اُداس سا پاتا ہوں میں کئی دن سے نہ جانے …

تمہیں اُداس سا پاتا ہوں میں کئی دن سے
نہ جانے کون سے صدمے اٹھارہی ہو تُم
وہ شوخیاں وہ تبسّم وہ قہقہے نہ رہے
ہر ایک چیز کو حسرت سے دیکھتی ہو تُم
چُھپا چُھپا کے خموشی میں اپنی بے چینی
خود اپنے راز کی تشہیر بن گئ ہو تم
(ساحر لدھیانوی)
![]()
![]()

