منتخب غزلیں

( غیر مطبوعہ) آس ٹوٹی تو د ِل و جاں مِیں کئی زن…

( غیر مطبوعہ)

آس ٹوٹی تو د ِل و جاں مِیں کئی زنگ لگے
خواب کے جھولے پہ جب اُوس گری زنگ لگے

دل وہ گاڑی ہے جو بارش مِیں زَد ِ آب رہی
ایسی بارش مِیں تو گاڑی بھی کھڑی زنگ لگے

آرزو پوری نہ ہُو ، خواب کی تعبیر نہ ہُو
کشتی ء ِ شوق کو اُس رنج سے بھی زنگ لگے

دل کے آنگن مِیں گرے ، آنکھ سے تارے ، جگنو
غم کی برکھا جو کواڑوں پہ پڑی ، زنگ لگے

ایک بس تُو ہی نہیں ، ورنہ میسر ہیں سبھی
زیست کی ریل مِیں بس تیری کمی زنگ لگے

پھر وہی تشنہ لبی ہے ، وہی آشفتہ سری
یاد کے در پہ ملے نقش سَبھی زنگ لگے

زندگی ہار ہے وہ جس کو سؔبیلہ ہر وقت
کاٹتی ہے کوئی تلوار ، کبھی زنگ لگے

( سؔبیلہ انعام صدیقی )

— with Sabila Inam Siddiqui.

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/