طارقؔ نعیم صاحب کا یومِ ولادت ۲ ؍ اپریل ۱۹۵۷ء *۲؍ا…

۲ ؍ اپریل ۱۹۵۷ء
*۲؍اپریل۱۹۵۷ء* کو *چاہ کوڑے والا، موضع پیرتنوں، ملتان* میں پیدا ہوئے۔میٹرک گورنمنٹ ہائی اسکول، مخدوم عالی، ملتان سے کیا۔ انٹر سے بی اے تک ایس ای کالج بہاول پور سے کیا۔ ایم اے (اردو ادب) پنجاب یونیورسٹی ، لاہور سے پاس کیا۔ اس وقت نیشنل بک فاؤنڈیشن ، اسلام آباد میں پبلک ریلیشنز افسر ہیں اور بک فاؤنڈیشن کے جریدے *’’ کتاب‘‘* کے معاون ایڈیٹر ہیں۔ ا ن کا شعری مجموعہ *’’دیے میں جلتی رات‘‘* کے عنوان سے شائع ہوگیا ہے۔ دوسرا شعری مجموعہ *’’رکی ہوئی شاموں کی راہ داریاں‘‘* ۲۰۰۶ء میں شائع ہوا ہے۔
طارقؔ نعیم کےمنتخب اشعار
اب آسمان بھی کم پڑ رہے ہیں اس کے لیے
قدم زمین پر رکھا تھا جس نے ڈرتے ہوئے
—
*پوشیدہ کسی ذات میں پہلے بھی کہیں تھا*
*میں ارض و سماوات میں پہلے بھی کہیں تھا*
—
ابھی پھر رہا ہوں میں آپ اپنی تلاش میں
ابھی مجھ سے میرا مزاج ہی نہیں مل رہا
—
*ابھی تو منصبِ ہستی سے میں ہٹا ہی نہیں*
*بدل گئے ہیں مرے دوستوں کے لہجے بھی*
—
اٹھا اٹھا کے ترے ناز اے غمِ دنیا
خود آپ ہی تری عادت خراب کی ہم نے
—
بے وجہ نہ بدلے تھے مصور نے ارادے
میں اس کے خیالات میں پہلے بھی کہیں تھا
—
ترے خیال کی لو ہی سفر میں کام آئی
مرے چراغ تو لگتا تھا روئے اب روئے
—
جمال مجھ پہ یہ اک دن میں تو نہیں آیا
ہزار آئینے ٹوٹے مرے سنورتے ہوئے
—
*خوش ارزانی ہوئی ہے اس قدر بازارِ ہستی میں*
*گراں جس کو سمجھتا ہوں وہ کم قیمت نکلتا ہے*
—
زمین اتنی نہیں ہے کہ پاؤں رکھ پائیں
دل خراب کی ضد ہے کہ گھر بنایا جائے
—
*رات رو رو کے گزاری ہے چراغوں کی طرح*
*تب کہیں حرف میں تاثیر نظر آئی ہے*
—
عجب نہیں در و دیوار جیسے ہو جائیں
ہم ایسے لوگ جو خود سے کلام کرتے ہیں
—
*عجیب درد کا رشتہ تھا سب کے سب روئے*
*شجر گرا تو پرندے تمام شب روئے*
—
*وہ آئینہ ہے تو حیرت کسی جمال کی ہو*
*جو سنگ ہے تو کہیں رہ گزر میں رکھا جائے*
—
کنارہ کر نہ اے دنیا مری ہست زبونی سے
کوئی دن میں مرا روشن ستارہ ہونے والا ہے
—
کوئی کب دیوار بنا ہے میرے سفر میں
خود ہی اپنے رستے کی دیوار رہا ہوں
—
کھول دیتے ہیں پلٹ آنے پہ دروازۂ دل
آنے والے کا ارادہ نہیں دیکھا جاتا
—
*یہ خیال تھا کبھی خواب میں تجھے دیکھتے*
*کبھی زندگی کی کتاب میں تجھے دیکھتے*
—
یہ ویرانی سی یوں ہی تو نہیں رہتی ہے آنکھوں میں
مرے دل ہی سے کوئی جادۂ وحشت نکلتا ہے
—
*کچھ اپنا درد ہی طارقؔ نعیم ایسا تھا*
*بغیر موسم گریہ بھی ہم غضب روئے*
……
*انتخاب : اعجاز زیڈ ایچ*


